وکیل بالبیع کا سامان بطورِ رہن رکھنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #374Urdu

Question

زید نے عمرو کو وکیل بالبیع بنایا کچھ سامان کو بیچنے کے لیے، کیا عمرو کے لیے صحیح ہے کہ یہ کہ دے کہ وہ اپنی فیس کے لیے سامان کو بیچنے تک رہن یا ضمانت کے طور پر رکھے گا؟

Answer

وکیل بالبیع مبیع کو بیچنے تک اپنے پاس بطورِ ودیعت بالاجر رکھ سکتا ہے، رہن یا ضمانت کے طور پر نہیں ۔ یعنی دو عقد کر لیں، ایک یہ کہ فروخت تک اس کی یومیہ اجرت اتنی ہے اور دوسرا عقد یہ کہ بیع کے بعد مجھے قیمت کا اتنا فیصد ملے گا، دو عقد اس لیے الگ الگ کرے تاکہ صفقۃ فی صفقۃ کے وبال سے بچ جائے ۔ پھر فروخت کرنے کے بعد جتنے دن چیز رکھی اتنے دن کا کرایہ وصول کرے اس لیے کہ وکیل بالبیع کے ذمہ یہ لازم نہیں کہ اس مبیع کو اپنی دکان پر رکھے، لہذا اجرت لے سکتا ہے، ہاں اگر درمیان میں وہ چیز ہلاک ہو گئی تو اس پر ایک قول کے مطابق تاوان آئے گا ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:

المودع إذا شرط الأجرة للمودع على حفظ الوديعة صح ولزم عليه. (الفتاوى الهندية: ۴/۳۴۲).

بدائع الصنائع میں ہے:

المودع إذا شرط للمودع أجراً على حفظ الوديعة أن له الأجر لأن حفظ الوديعة ليس بواجب عليه فجاز شرط الأجر. (بدائع الصنائع: ٦/۱۵۱، سعيد).

در مختار میں ہے:

وهي (الوديعة) أمانة، هذا حكمها مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب واستحباب قبولها، فلا تضمن بالهلاك إلا إذا كانت الوديعة بأجر

(الدر المختار: ۵/٦٦۴، سعيد).
"الأشباه والنظائر"
میں ہے:

وفي البزازية: لو جعل للكفيل أجراً لم يصح، وذكر الزيلعي رحمه الله أن الوديعة بالأجر مضمونة، وفي الصيرفية من أحكام الوديعة إذا استأجر المودع المودع صح. (الأشباه والنظائر: ۲/۳۹۹).
ومثله في تبيين الحقائق، وزاد بقوله: والمتاع في يد (أي الأجير المشترك) غير مضمون بالهلاك

بخلاف الوديعة بأجر لأن الحفظ واجب عليه مقصوداً ببدل (فيضمن). (تبيين الحقائق: ۵/۱۳۵، ملتان).
وكذا في مجمع الضمانات: ۱/۱۵۱. وشرح المجلة: ۳/۲۴۲. وفتاوى حقانية: ٦/۳۹۹).

دوسرا قول یہ ہے کہ مودع بالاجر پر ہلاک ہونے کی صورت میں تاوان نہیں آئے گا اور بعض علماء نے اسی کو راجح قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو رد المحتار میں ہے:

وأما من جري العرف بأنه يأخذ في مقابلة حفظه أجرة يضمن، لأنه وديعة بأجرة لكن الفتوى على عدمه، سائحاني. (رد المحتار: ۵/٦٦۴، كتاب الإيداع، سعيد).

خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

فإن شرط عليه الضمان إذا هلك يضمن في قولهم جميعاً، لأن الأجير المشترك إنما لا يضمن عند أبي حنيفة رحمه الله إذا لم يشترط عليه الضمان، أما إذا شرط يضمن، قال الفقيه أبو الليث، الشرط وعدم الشرط سواء، لأنه أمين، واشتراط الضمان على الأمين باطل، وبه يفتى. (خلاصة الفتاوى: ۳/۱۳۷).

امداد الاحکام میں ہے:
ودیعۃ بالاجر میں عدم ضمان پر فتوی ہے ۔ (امداد الاحکام:
۳
/
٦۳۷
۔ و کذا فی ایضاح النوادر، ص
۱۷۲
) ۔
حاصل یہ ہے کہ مودع بالاجر کے پاس اگر ودیعت ہلاک ہو جائے تو تاوان آنے اور نہ آنے میں اختلاف ہے، اور فتاوی کا بھی اختلاف ہے جیسا کہ مذکور ہوا، بندہ فقیر کے خیال میں جب مالک نے ودیعت کی حفاظت کے لیے اجرت کا اہتمام کیا ہو، اور یہ بھی کہا کہ تم ذمہ دار ہو تو پھر تاوان کا فتوی دیا جا سکتا ہے، خصوصاً اس زمانے میں جب کہ سستی اور تکاسل عام ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.