رب المال کا اپنے بیٹے کو عقد مضاربت میں شامل کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #400Urdu

Question

زید نے عمر کو بطورِ مضاربت ایک لاکھ رینڈ دیے اور آپس میں یہ طے پایا کہ نفع میں ۳۰ فیصد رب المال کا ہوگا اور ٦۰ فیصد مضارب کا ہوگا اور مضارب کے ساتھ رب المال کا بیٹا بطورِ مینجر کام کرے گا اور اس کے لئے ۱۰ فیصد نفع ہوگا ۔ کیا یہ طریقہ درست ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ باعتبارِ فیصد نفع کا تعین صحیح اور درست ہے ۔ نیز رب المال کا اپنے بیٹے کو مینجر بنانا بھی صحیح ہے اور اس کو بھی نفع میں سے ۱۰ فیصد دیا جائے گا کیونکہ عقدِ مضاربت میں رب المال کا بیٹا ایک اجنبی کی حیثیت سے ہوگا اور اجنبی کے لئے کام کا عوض نفع میں سے کچھ حصہ متعین کرنا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو شرحِ مجلہ میں ہے:

وتعيين حصة العاقدين من الربح

أن يكون جزئً شايعاً قل أو كثر كالنصف أو الثلث لأن الشركة في الربح إنما تتحقق به. (شرح المجلة: ٤/ ۳۳۳، وكذا في الهداية: ۳/ ۲۵۸، و۲٦۴).

الفتاوی الہندیہ میں ہے:

ولو اشترط أن يعمل عبد رب المال مع المضارب

ولو كان عبد رب المال عليه دين فاشترط له أجر عشرة دراهم كل شهر أو اشترط ذلك لمكاتبه أو لابنه جاز. (الفتاوى الهندية: ٤/ ۲۸۸).
وكذا لوكان مكاتب المضارب لكن بشرط أن يشترط عمله فيهما وكان المشروط للمكاتب له لا لمولاه وإن لم يشترط عمله لا يجوز وعلى هذا غيره من الأجانب فتصح المضاربة

والمرأة والولد كالأجانب هنا كذا في النهاية. (فتاوى الشامي: ۵/ ٦۵۳، وكذا في البحر: ۷/ ۲٦۷، والمبسوط للسرخسي: ۲۲/ ۲۸، والفتاوى الهندية: ٤/ ۲۸۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

ظظظظظظظ

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.