غیر شرعی شیئرز کی بیع پر نفع کا حکم:
Question
ایک شخص نے ۲۰۰٤ء میں اویس انویسمنٹ میں ۰۰۰، ۲۰ رینڈ کے حصص خریدے جب کہ وہ شرعی قانون کے ماتحت تھا، اب اس شخص کے کہنے کے مطابق شرعی قانون پر نہیں ہے، تو شریک نے اپنے حصص بیچ ڈالے اور کل رقم ۰۰۰، ٤۷ وصول ہوئی، یعنی راس المال پر نفع حاصل ہوا، کیا اس سے جو نفع ملا ہے اس کو استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
کمپنی جب تک شرعی قانون کے مطابق تجارت کرتی تھی اس وقت تک کا نفع حلال اور جائز اور ہے، لیکن جب سے غیر شرعی قانون پر تجارت شروع کی، اس وقت سے نفع بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دیا جائے ۔
فقہی مقالات میں ہے:
شیئرز کی خرید و فروخت کے جواز کے لیے چار شرطیں ہیں:
(۱) اصل کاروبار حلال ہو ۔
(۲) اگر کمپنی کچھ سودی لین دین کرتی ہے تو اس کی سالانہ میٹینگ میں آواز اٹھائی جائے ۔
(۳) جب منافع تقسیم ہو اس وقت جتنا نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو صدقہ کر دے ۔ (فقہی مقالات:
۱
/
۱۵۱
) ۔
وللاستزادة انظر: (
اسلام اور جدید معاشی مسائل:
۵
/
۱٦٤
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2268
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2268