ایک مشترک کمپنی کے مزدوروں کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #406Urdu

Question

ایک مشترک کمپنی ہے جس کے کئی شرکاء ہیں، ان شرکاء میں سے ایک گرجا اور اس کے متعلقین میں سے ہے، اور اس کے مختلف شعبے ہیں، ایک شعبہ کا کام یہ ہے کہ وہ مزدوروں کے تمام انتظامات کرتے ہیں، مثلاً کھانا، پینا، اور سونا وغیرہ، پھر انہیں مزدوروں کو کچھ پیسہ کے بدلے میں دوسری کمپنیوں کی ملازمت پر لگاتے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کمپنی کے اس شعبہ کے ساتھ معاملہ کرنا اور ان مزدوروں کو ملازمت پر رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ کمپنی کا تعلق گرجا والوں سے ہے، لیکن جہاں مزدور کام کرتے ہیں وہاں عبادت وغیرہ نہیں کرتے صرف کام کرتے ہیں ۔
بينوا توجروا.

Answer

بصورتِ مسئولہ کفار کو اجرت پر لینا اور کام کروانا جائز اور درست ہے، اس لیے وہ آپ کے یہاں عبادت نہیں کریں گے، اور یہ معصیت پر تعاون بھی نہیں ہے، کیوں کہ آپ اپنے کام کی اجرت دیں گے نہ کہ کسی اور چیز کی، اس لیے ایسی کمپنی کے ساتھ معاملہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ہاں اگر اس کمپنی کی مسلمانوں کے خلاف کوئی خفیہ سازش ہو تو اس سے بچنا چاہیے ۔
ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها استأجر النبي ﷺ وأبو بكر رضي الله عنه رجلاً من بني الديل وهو من بني عبد بن عدي هادياً خريتاً، الخريت الماهر بالهداية قد غمس حِلْفاً في آل العاص بن وائل السهمي وهو على دين كفار قريش فأمِنَاه فدفعا إليه راحلتيهما وواعداه غار ثور

الخ. (صحيح البخاري، برقم ۲۲٦۳، باب هجرة النبي ﷺ وأصحابه إلى المدينة).

عالمگیری میں ہے:

لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية. (الفتاوى الهندية، ۵/۳٤۸، كتاب الكراهية، باب في أهل الذمة).

بدائع الصنائع میں ہے:

وإسلامه ليس بشرط أصلاً فتجوز الإجارة والاستئجار من المسلم والذمي والحربي المستأمن لأن هذا من عقود المعاوضات فيملكه المسلم والكافر جميعاً كالبياعات. الخ. (بدائع الصنائع: ٤/۱۷٦، كتاب الإجارة، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: غیر مسلم سے کفن سلوانا کیسا ہے؟
الجواب: درست ہے جیسے اور معاملات درست ہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۵۸۷، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.