ایک شریک کا ضرورت کی اشیاء مہیا کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #414Urdu

Question

چند افراد نے شرکت کی نیت سے سو سو رینڈ جمع کیے، مگر ایک شخص نے ۸۰ رینڈ کا خرچہ کر کے ضرورت کی اشیاء مہیا کر دی اور ۲۰ رینڈ نقد دے دیے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس شخص کی شرکت صحیح ہے یا پورے سو رینڈ نقد دینا ضروری ہے؟

Answer

فقہاء فرماتے ہیں کہ شرکت منعقد ہونے کے لیے راس المال کا نقد ہونا ضروری ہے، لہذا جس شریک نے خرچہ کیا اور ضرورت کی اشیاء مہیا کر دی اس کی شرکت صحیح نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ولا ينعقد الشركة إلا بالدراهم والدنانير والفلوس النافقة

إلى قوله إن العروض لا تصح رأس المال الشركة. (الهداية: ۲/٦۲۷).

مبسوط میں ہے:

لا يصح أن يكون رأس مال أحدهما دراهم ورأس مال الآخر عروضاً في مفاوضة ولا عنان. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱۱/۱٦۱. وكذا في الفتاوى الهندية: ۲/۳۰٦).

البتہ علامہ شامی رحمه الله نے عروض میں شرکت کی صحت کی یہ شکل بیان فرمائی ہے کہ شخص مذکور جس نے اشیاء مہیا کی ہے وہ اپنے سامان کے کچھ حصص دوسرے شرکاء کو فروخت کر دے، پھر شرکت منعقد کر لے تو درست اور جائز ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:

(وصحت بعرض) هو المتاع غير النقدين (إن باع كل منهما نصف عرضه بنصف عرض الآخر ثم عقداها) مفاوضة أو عناناً وهذه حيلة لصحتها بالعروض، (قوله إن باع كل منهما) لأنه بالبيع صار بينهما شركة ملك حتى لا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر ثم بالعقد بعده صارت شركة عقد فيجوز لكل منهما التصرف زيلعي. (قوله بنصف عرض الآخر) وكذا لو باعه بالدراهم ثم عقد الشركة في العرض الذي باعه جاز أيضاً، زيلعي، وبحر، وقوله الذي باعه يعني الذي باع نصفه بالدراهم. (فتاوى الشامي: ٤/۳۱۰، سعيد).

لیکن فی زماننا ابتلائے عام کی وجہ سے حضرت تھانوی رحمه الله اور حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله نے مذہبِ مالکیہ پر فتوی دینے کی گنجائش نکالی ہے، ملاحظہ ہو: (امداد الفتاوی: ۳/٤۹۵ ۔ و امداد الاحکام: ۳/٤٤۵) ۔
قدرے تفصیل ما قبل میں گزر چکی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.