شوقیہ شکار کا حکم:
Question
جنوبی افریقہ میں عام طور پر لوگ چھٹیوں میں مچھلی کے شکار کے لیے جاتے ہیں، ہمارے علاقے میں بعض علماء کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ایک کھیل کی طرح ہے اصل مچھلی حاصل کرنا مقصود نہیں ہے اس وجہ سے یہ درست نہیں ۔ میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بات کہاں تک درست ہے؟
Answer
شکار محض لہو لعب اور تضییع اوقات کے لیے نہ ہو تو جائز اور درست ہے، پھر اگر مچھلی استعمال کرنے کا ارادہ نہ ہو تو اس کو ہدیہ کر دینی چاہیے ۔ شکار کر کے اس کا کھانا ضروری نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
الصيد مباح إلا للتلهي كما هو ظاهر
وفي الشامية: استدل في الهداية على إباحة الاصطياد بعد استدلاله عليه بالكتاب والسنة والإجماع، وأقره الشراح
وفي التاتارخانية قال أبو يوسف رحمه الله: إذا طلب الصيد لهواً ولعباً فلا خير فيه وأكرهه، وإن طلب منه ما يحتاج إليه من بيع أو إدام أو حاجة أخري فلا بأس به. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤٦۲، سعيد).
وفي البحر: ولأن الاصطياد سبب الانتفاع بجلده أو ريشه أو شعره أو لاستدفاء شره وكل ذلك مشروع. (البحر الرائق: ۸/٤٦۲، كوئته).
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں فرماتے ہیں:
كل لهو باطل إذا شغله أي شغل اللاهي عن طاعة الله أي كمن التهي بشيء من الأشياء مطلقاً سواء كان مأذوناً في فعله أو منهياً عنه، كمن اشتغل بصلاة نافلة أو بتلاوة أو ذكر أو تفكر في معاني القرآن مثلاً حتى خرج وقت الصلاة المفروضة عمداً فإنه يدخل تحت هذا الضابط، وإذا كان هذا في الأشياء المرغب فيها المطلوب فعلها فكيف حال ما دونها. (فتح الباري: ۱۱/۹۱).
وقال أيضاً: وفيه إباحة الاصطياد للانتفاع بالصيد للأكل والبيع وكذا اللهو بشرط قصد التذكية والانتفاع. (فتح الباري: ۹/٦۰۲).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
قتل الزنبور والحشرات هل يباح في الشرع ابتداء من غير إيذاء وهل يثاب على قتلهم قال: لا يثاب على ذلك وإن لم يوجد منه الإيذاء فالأولي أن لا يتعرض بقتل شيء منه كذا في جواهر الفتاوى. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۱).
مفتی تقی عثمانی صاحب تکملۃ فتح الملہم میں فرماتے ہیں:
فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائز ة في نفسها ما لم تشتمل على معصية أخري وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه ودني اهـ. (تكملة فتح الملهم: ٤/٤۳۵، قبيل الرؤيا).
خلاصہ یہ ہے مچھلی یا اور جانوروں کا شوقیہ شکار مباح خلافِ اولی ہے ناجائز اور حرام نہیں ہے جب تک اس میں کسی معصیت کا ارتکاب نہ ہو، نیز انسان کے دینی و دنیوی امورِ ضروریہ میں مخل نہ ہو، نیز شکار فقط تلہی [یعنی تضییع اوقات اور محض لہو لعب ] کے لیے نہ ہو، نیز جانوروں کو زخمی کرنے کے بعد پانی میں نہ چھوڑ دے کہ اس میں بے جا اذیت ہے ۔
اور جو فارم کا مالک یا لائسنس یافتہ آدمی اس کام سے کمائی کرے گا وہ کمائی حلال ہو گی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2347
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2347