فارم میں شکار کرنے کا حکم:
Question
ایک مسلمان شخص فارم کا مالک ہے یا گورنمنٹ نے اس کو سرکاری فارم کا لائسنس دیا ہے، یہ آدمی شکار کی اجازت دیتا ہے اور ان کے لیے شکار کا انتظام کرتا ہے، شکاری کبھی ماکول اللحم جانور اور کبھی غیر ماکول اللحم جانور مثلاً شیر، چیتا وغیرہ کا شکار کرتا ہے اور ایک ایک شکار کی قیمت مالک یا لائسنس یافتہ شخص وصول کرتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ فارم کا مالک ان جانوروں کا مالک بنایا نہیں؟ اور اگر مالک ہے تو بغیر قبضہ کے ان کی بیع کیسے جائز ہو گی؟ اور اگر شکار کے بعد فروخت کرتا ہے تو ہرن وغیرہ میں ذبح کے بعد یا بسم اللہ پڑھنے کے بعد مذبوح جانور کا فروخت کرنا جائز ہو گا کرنا جائز ہو گا لیکن ہو گا لیکن شیر وغیرہ غیر ماکول اللحم جانوروں کا فروخت کرنا کیسے جائز ہوگا؟ کیونکہ وہ مردار کے حکم میں ہے ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر یہ فارم جانوروں کے جمع کرنے کے لیے بنایا گیا ہے یا گورنمنٹ نے یہ جانور وہاں رکھے ہیں یا ان کے آنے جانے کا راستہ بند کر دیا ہو تو ان صورتوں میں فارم کا مالک یا لائسنس یافتہ شخص جانوروں کا مالک بن جائے گا ۔ یا گورنمنٹ مالک ہو تو یہ شخص مالک کا وکیل بن گیا ۔
ملاحظہ ہو عنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
وصاحب الأرض لم يعد أرضه لذلك إشارة إلى أنه لو أعدها لذلك بأن حفرها ليقع فيها أو بغير ذلك مما يصاد به كان له. (العناية في شرح الهداية: ٦/۲۵۷، مسائل منثورة، مكتبة رشيدية).
فتح القدیر میں ہے:
وإن علم به أي الصيد وأغلق الباب عليه أو سد الكوة كان لصاحب الدار. (فتح القدير: ٦/۲۵۷، مسائل منثورة، مكتبة رشيدية).
شرح تحفۃ الملوک میں ہے:
إلا أن يغلق الباب لا حرازه، فحينئذٍ يملكه لان الحكم عند القصد يضاف إلى السبب وعلى هذا لو حفر رجل في أرضه حفيرة فوقع فيها صيد فجاء رجل وأخذه فهو له إلا أن يتخذ صاحب الأرض تلك الحفيرة لا جل الصيد، ذكره محمد رحمه الله. (شرح تحفة الملوك لمحمد بن عبد اللطيف ابن ملك، ۲/۱۷۳۲).
حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی مچھلیوں کی فروخت کے بارے میں در مختار کی طویل عبارت نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
خلاصہ یہ کہ اگر یہ زمین مچھلیوں کے جمع ہونے کے لیے مقرر کر لی گئی ہو تو مچھلیاں صاحبِ زمین کی مملوک ہیں دوسروں کو پکڑنے کا حق نہیں، اسی طرح اگر زمین اس لیے تیار تو نہ کی گئی ہو مگر مچھلیوں کے دخول کے بعد نکلنے اور آنے کا راستہ بند کر دیا گیا ہو تب بھی مالک زمین کی مملوک ہیں ۔ (امداد الاحکام:
۳
/٤
۱۷
) ۔
درج کردہ عبارات کی روشنی میں پتا چلتا ہے کہ فارم کا مالک اور گورنمنٹ ان جانوروں کے مالک ہیں، لیکن چونکہ مقدور التسلیم نہیں ہیں اس لیے زندہ بھاگنے والے جانوروں کی خرید و فروخت جائز نہیں پھر جب شکاری نے ان کو شکار کیا اور جانور ذبح کیا گیا یا شکار کرتے وقت بسم اللہ پڑھی گئی تو حلال جانور کی فروخت جائز ہے ۔ ہاں شکار کرنے سے قبل بیع کا وعدہ کیا جائے اور شکار کرنے کے بعد وعدہ کا ایفا کر کے مشتری کے ہاتھ فروخت کیا جائے اور اس وقت قیمت میں نزاع اس لیے نہیں ہو گا کہ ہر جانور کی قیمت پہلے سے متعین ہوتی ہے اور چونکہ ماکول جانور کا گوشت بھی مطلوب و مرغوب ہے اس لیے مشتری اس کو خرید لیتا ہے ۔
اور غیر ماکول اللحم جانور کا گوشت شرعاً و عرفاً نہیں کھایا جاتا اس میں بھی وعدہ کام آئے گا چونکہ مشتری شکاری کو اس کی کھال مطلوب ہے اس لیے فارم کے مالک کی طرف سے وعدہ کیا جائے کہ کھال اتارنے کے بعد آپ ہی کے ہاتھ فروخت کروں گا اور پھر مطلوبہ قیمت سے کھال کو فروخت کر لیں، شیر وغیرہ کو جب بندوق کی گولی سے مارے اور خون بہہ جائے تو دمِ مسفوح نکلنے سے اس کی کھال مدبوغ کھال کی طرح قابل فروخت ہو گی ۔
قال في الدر المختار: وهل يشترط لطهارة جلده كون ذكاته شرعية بأن تكون من الأهل في المحل بالتسمية، قيل: نعم، وقيل لا، والأول أظهر؛ لان ذبح المجوسي وتارك التسمية عمداً كلا ذبح، وإن صحح الثاني، صححه الزاهدي في القنية والمجتبى وأقره في البحر. (الدر المختار: ۱/۲۰۵، سعيد).
ذكر أنه في المعراج نقل عن المجتبى والقنية تصحيح الثاني ثم قال: وصاحب القنية هو صاحب المجتبى وهو الإمام الزاهدي المشهور علمه وفقهه، ويدل على أن هذا هو الأصح أن صاحب النهاية ذكر هذا الشرط أي كون الذكاة شرعية بصيغة قيل معزياً إلى الخانية. (البحر الرائق: ۱/۱۰٦، كوئته، قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۱/۲۰).
یعنی غیر شرعی ذبح سے کھال کا پاک ہونا اصح قول ہے اور ذبح شرعی کی شرط قیل سے مذکور ہے ۔
شامی (
۱
/
۲۰۵
، سعید) کی ذکر کردہ عبارات سے معلوم ہوا کہ ذبح اختیاری اگر غیر شرعی ہو تو بھی کھال پاک ہو جاتی ہے، اسی طرح ذبح غیر اختیاری یعنی تیر کا مارنا یا گولی کا مارنا غیر اختیاری ہے، تو اگر یہ غیر شرعی ہو یعنی اس کو غیر مسلم نے بغیر بسم اللہ کے یا مسلمان نے بغیر بسم اللہ کے مارا ہو تو اس کی کھال پاک ہو جائے گی اور مذبوح کے حکم میں ہو کر اس کی بیع جائز ہو گی ۔
نیز اس مسئلہ کی تفصیل جلدِ پنجم میں کتاب البیوع کے تحت گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2348
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2348