ایک شبہہ کا ازالہ:

3 min readFatwa Vol 6 #67Urdu

Question

ایک شبہہ کا ازالہ:

Answer

بعض مفتی حضرات نے اپنی تحریرات میں فرمایا ہے کہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے بندوق کے شکار کی حلت پر مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو تکملۃ فتح الملہم میں ہے:

وذكر بعض المعاصرين أن ابن عابدين رحمه الله ألف رسالة في جواز الاصطياد ببندقة الرصاص (راجع: الذبائح في الشريعة الإسلامية، للدكتور عبد الله عبد الرحيم العمادي، ص: ۱۲۳، طبع بيروت) ولكني لم أجد هذه الرسالة، وقد رأيت أنه جزم في رد المحتار بعدم الجواز. (تكملة فتح الملهم: ۳/٤۹۱، ط: دار العلوم كراتشي).

مولانا خالد سیف اللہ صاحب فرماتے ہیں:
ڈاکٹر عبد اللہ عبد الرحیم العمادی نے نقل کیا ہے کہ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے اس کے حلال ہونے پر ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے ۔ (حلال و حرام، ص
۱٦۲
، بندوق کا شکار) ۔
جب کہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے فتاوی الشامی میں بحوالہ ابن نجیم رحمہ اللہ صراحۃً بندوق کے شکار کی حرمت کو بیان فرمایا ہے ۔ پھر حلت پر رسالہ کیسے تصنیف فرمایا؟ اگر کوئی رسالہ ہوتا تو فتاوی میں یا رسائل ابن عابدین میں اس کا ذکر موجود ہوتا؟
اس شبہہ کا حل یہ ہے کہ بظاہر جن حضرات نے علامہ شامی رحمہ اللہ کی طرف نسبت دیکھ ابن عابدین مراد لیا ان کو لفظِ علامہ شامی سے اشتباہ ہو گیا، کیوں کہ دراصل علامہ شامی مفتی دمشق محمود بن محمد الحمزاوی نے بندوق کے شکار کی حلت پر رسالہ بنام "
فتوى الخواص في حل ما صيد بالرصاص"
تصنیف فرمایا ہے ۔ جو پہلے مفصل مذکور ہوا ۔ ورنہ ابن عابدین شامی کا کوئی رسالہ اس بارے میں ہمارے علم میں موجود نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
بندوق کی ایجاد کون سی صدی میں ہوئی؟
مذکورہ بالا ابحاث کے جاننے کے بعد یہ بھی جاننا چاہیے کہ بندوق کی ایجاد کون سے زمانہ میں ہوئی ہے ۔ چنانچہ
حاشية الدسوقي
میں مذکور ہے ۔

الحاصل أن الصيد ببندقة الرصاص لم يوجد فيه نص للمتقدمين لحدوث الرص به بحدوث البارود في وسط المائدة الثامنة. (حاشية الدسوقي: ۱۰٤/٤).

مؤرخ محمد بیرم بن مصطفی (م
۱۳۰۷
ھ) تحفۃ الخواص میں فرماتے ہیں:

اعلم أن البارود حدث سنة سبعمائة وسبع وثلاثين وذلك قبل حدوث المدافع بعشر سنين ولا يعرف محدثه كذا في بعض كتب المتأخرين والحق أنه كان معروفاً في الصين قبل تاريخ المسيح عليه السلام بأحقاب كثيرة إلا أن استعمالهم له كان للإصلاح لا للتدمير

وإن كان قد ظهر من أدوات سلاحهم ما يتحقق أنهم جعلوه له لكن لم ينقل عنهم استعماله في حرب قط ثم نقلته عنهم العرب

(نقلاً عن درة الغواص، ص ۱٤. ٤۲).

(انسائکلو پیڈیا) Encyclopedia
(برطانکہ) Brittanica
The invetion of gunpowder in the 14th century and the perfection of the MATCHLOCK - RIFLE in the 15th century dramatically changed the method of hunting.
ترجمہ: چودھوی صدی میں بارود کی ایجاد اور پھر پندرھویں صدی میں میچلوک رائفل کے تمام نے شکار کے طریقہ کو بالکل ہی بدل دیا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.