کنگرو کا گوشت کھانے کا شرعی حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #72Urdu

Question

سائنس دانوں کے بقول کنگرو ہرن کی طرح ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا شریعت میں بھی ہرن کی طرح ہوگا اور اس کا گوشت کھانا ہرن کے گوشت کی طرح جائز ہوگا؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ ہرن کے گوشت کی طرح کنگرو کا گوشت کھانا بھی جائز اور درست ہے ۔ بعض ماہرین سے تحقیق کرائی گئی تو معلوم ہوا کہ کنگرو بالکل گوشت نہیں کھاتا بلکہ ہرن وغیرہ کی طرح صرف گھاس چارہ کھاتا ہے اور ذو ناب بھی نہیں ہے کہ اپنے دانتوں اور داڑھوں سے شکار کرتا ہو اس لیے اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

وأما المتوحش نحو الظباء وبقر الوحش وحمر الوحش وإبل الوحش فحلال بإجماع المسلمين. (الفتاوى الهندية: ۵/۲۸۹).
الموسوعة الفقهية
میں ہے:

النوع الرابع: كل وحش ليس له ناب يفترس به وليس من الحشرات: وذلك كالظباء، وبقر الحش، وحمر الوحش، وإبل الوحش، وهذا النوع حلال بإجماع المسلمين، لأنه من الطيبات. (الموسوعة الفقهية الكويتية: ۵/۱۳٤، ط: وزارة الاوقاف).

٭ کنگرو (kangaroo) آسٹریلیا کا ایک جانور جس کی اگلی ٹانگیں چھوٹی اور پچھلی بڑی ہوتی ہیں، اس کے پیٹ میں ایک تھیلی ہوتی ہے جس میں وہ اپنے بچے کو بٹھا لیتا ہے ۔ (فیروز اللغات، ص
۱۰۳٦
، و قاموس انگریزی، عربی، ص
٦۲۸
) ۔
انسائیکلوپیڈیا میں یہ بھی مذکور ہے:
اس کی غذا میں عام طور پر درختوں کے پتے، کھاس اور نباتات وغیرہ ہوتے ہیں، اور اس کے دانتوں میں انیاب بھی نہیں ہوتے ۔ (انکاٹاانسائیکلوپیڈیا) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.