دلدل کھانے کا شرعی حکم:
Question
دلدل کا گوشت کھانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ اکثر اہل لغت نے اس کو قنفذ کی قسم میں شمار کیا ہے، ملاحظہ ہو:
قال في الصحاح: الدلدل عظيم القنافذ. (٤/۱٦۹۹)،
اور فقہاء نے قنفذ کو حرام جانوروں میں شمار کیا ہے، اب آپ حکمِ شرعی سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں ۔
Answer
بڑی سیہی جس کو ہم پشتو میں شکونڑ کہتے ہیں حضرت مولانا کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ نے حرام لکھا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (کفایت المفتی:
۹
/
۱٤۱
، دار الاشاعت، طبع قدیم)، اور بعض لغت کی کتابوں میں بھی دلدل جو بڑا ہوتا ہے اور اس کو شکونڑ کہتے ہیں اور چھوٹا جس کو قنفذ اور ہم پشتو میں شیشکے کہتے ہیں دونوں کو ایک نوع شمار کیا ہے اور صرف چھوٹے اور بڑے کا فرق بتایا ہے دمیری نے جاحظ کا قول نقل کیا ہے کہ قنفذ اور دلدل میں ایسا فرق ہے جیسے بھینس اور گائے میں یا عربی اور خراسانی اونٹ میں چنانچہ علامہ دمیری لکھتے ہیں:
الفرق بين الدلدل والقنفذ كالفرق بين البقر والجواميس والبخاتي والعراب والجرد والفار، وهو كثير ببلاد الشام والعراق وبلاد المغرب في قدر الثعلب القلطي وقال الإمام الرافعي: الدلدل على حد السخلة
وفي الوسيط: أنه كان يعده من الخبائث، وقال ابن الصلاح: هذا غير مرضي وكأنه لم يعرف ما الدلدل
(حيوة الحيوان: ۱/٤۸۱).
اور لغت کی عام کتابوں میں بھی دونوں کو ایک نوع شمار کیا ہے مثلاً: المعجم الوسیط، الصحاح، لسان العرب وغیرہ میں بھی دلدل اور قنفذ کے مابین فر ق کے قائل نہیں، لہذا ان حضرات کی تحریر کے مطابق احناف کے نزدیک دونوں حرام ہیں ۔
لیکن قدیم افغانی علماء اور آج کل کے جدید اہل تحقیق دونوں کو الگ نوع سمجھتے ہوے قنفذ کو حشرات الارض میں سے شمار کر کے حرام قرار دیتے ہیں اور دلدل کو گھاس کھانے والا حیوان سمجھ کر حلال کہتے ہیں ۔
ہاں مصباح اللغات میں دلدل کا ترجمہ سیہی سے کیا ہے اور قنفذ کو چوہے کی قسم قرار دیا ہے ۔
افغانی علماء کہتے ہیں کہ قنفذ اور دلدل کے درمیان درجِ ذیل فروق ہیں:
(۱) قنفذ گندگی اور کیڑے مکوڑے کھاتا ہے، اور دلدل گھاس کھاتا ہے ۔
(۲) قنفذ ہوام الارض میں سے ہے اور دلدل ایسا نہیں ہے ۔
(۳) قنفذ ذو ناب شکاری ہے اور دلدل اس سے مختلف ہے ۔
(٤) قنفذ کے پانچ انیاب ہیں اور دلدل کے چار دانت ہیں (اہل تجربہ افغانی علماء کے نزدیک اور جدید اہل تحقیق کے نزدیک دلدل کے دو دانت ہیں[Encarta]) ۔
(۵) قنفذ کتے کی طرح پانی پیتا ہے اور دلدل بکری کی طرح ۔
ان فروق سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ قنفذ میں حرام جانوروں کی صفات پائی جاتی ہیں اس کے برعکس دلدل میں حلال جانوروں والے خصائل موجود ہیں ۔
جن حضرات نے دلدل کو قنفذ کی بڑی قسم قرار دیا ہے تو ممکن ہے کہ دلدل دو قسم کے ہوں ایک قنفذ کی بڑی قسم جس کو عام اہل لغات بیان کرتے ہیں ۔ (۲) دوسری قسم وہ ہے جس کی صفات اوپر مذکور ہوئیں ۔
حضرت مفتی فرید صاحب رحمہ اللہ بھی دلدل کے حلال ہونے کا فتوی دیتے تھے ۔
شیخ بن باز کے ایک فتوے میں دلدل کے بارے میں مذکور ہے:
قد اختلف العلماء في حكمه فمنهم من أحله ومنهم من حرمه، وأصح القولين أنه حلال،
وهو يتغذى بالنبات كالأرنب والغزال وليس من ذوات الناب المفترسة. (فتاوى الشيخ عبد العزيز بن باز: ۲۳/۳۵).
جدید اہل تحقیق کی عبارات کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے:
دلدل خشکی میں رہنے والا جانور، جس کی خوراک نباتات کی جڑیں، گٹھلی، درخت کی چھال اور چھلکا ہے ۔
(جانوروں کا انسائیکلوپیڈیا) ۔
انکاٹا میں مرقوم ہے:
نباتات کھانے والا جانور، اس کا شمار ان جانوروں میں ہوتا ہے جن کے آگے دو بڑے دانت ہوتے ہیں، ان دو لمبے دانتوں سے پودوں کو کاٹتا ہے، انیاب نہیں ہوتے ۔ (انکاٹا انسائیکلوپیڈیا) ۔
بریطانیکا میں مرقوم ہے:
اکثر رات کے وقت نکلتا ہے ۔ نباتات کھانے والا جانور ہے ۔ (انسائیکلوپیڈیا بریطانیکا) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2367
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2367