جانور غبن فاحش میں بکتا ہو تو قربانی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #152Urdu

Question

اگر کسی جگہ قربانی کا جانور غبن فاحش میں فروخت ہوتا ہو مثلاً ۵۰۰ رینڈ کا جانور ۱۰۰۰ رینڈ میں تو اس صورت میں قربانی کا حکم ہوگا؟

Answer

صاحبِ استطاعت لوگوں پر قربانی واجب ہے، تو اپنی استطاعت کے بقدر جانور خرید کر قربانی کرنا واجب ہے ۔ ہاں صاحبِ نصاب نہ ہو یعنی قربانی خریدنے کی استطاعت نہیں ہے تو قربانی واجب نہیں ہے، اور قیمتوں کو اعتدال پر لانے کی جائز تدابیر اختیار کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

وأما شرائط الوجوب

منها الغني لما روي عن رسول الله ﷺ أنه قال: من وجد سعة فليضح شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغني. (بدائع الصنائع: ۵/٦٤، ط: سعيد).

حضرت مولانا مفتی یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قربانی صاحبِ استطاعت لوگوں پر واجب ہے، اور واجباتِ شرعیہ کو اُٹھا دینے یا موقوف و منسوخ کر دینے کا اختیار اللہ تعالی کو ہے علمائے کرام کو یہ اختیار حاصل نہیں ۔ جہاں تک قیمتوں کے اعتدال پر رکھنے کا سوال ہے، اس کے لیے دوسری تدابیر اِختیار کی جا سکتی ہیں اور ضرور کرنی چاہئیں، اور جن لوگوں کے پاس مہنگے جانور خریدنے کی گنجائش نہیں ان پر قربانی واجب نہیں، وہ نہ کریں، مگر اس کا یہ علاج نہیں کہ اس سال قربانی ہی کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا جائے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۵/٤۳۳، جدید ایڈیشن) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.