سرکہ اور زیتون کا تیل بنانے کا طریقہ اور ان کا حکم:
Question
ایک کمپنی ہے جو بیلسلک (balsamic) نامی سرکہ بناتی ہے، یہ سرکہ انگور کی شراب سے بنایا جاتا ہے، نیز مذکورہ کمپنی زیتون کا تیل بھی بناتی ہے، دونوں کے بنانے کا طریقہ حسبِ ذیل ہے:
سرکہ بنانے کا طریقہ:
لکڑی کے بڑے برتن جو مٹکے کی شکل میں ہوتے ہیں ان کو اور لینس طریقہ کے مطابق تیار کرتے ہیں ۔ (یہ اور لینس طریقہ سرکہ بنانے کا پرانا فطری طریقہ ہے) پھر ان برتنوں کو اسٹیل کے طاق میں رکھتے ہیں، پھر کیبنٹ سوگنن ریڈ وائن (cabernet sauvignon red wine) جو انگور سے بنی ہوئی سرخ شراب ہوتی ہے اس کے ساتھ انگور کا شیرہ جو سڑنے کے قریب ہوتا ہے ملا دیا جاتا ہے، اس کے بعد برتنوں میں بھر کر سرکہ بنانے کی غرض سے چھوڑ دیا جاتا ہے یہاں تک کہ تقریباً دس ہفتوں کے بعد سارا الکحول سرکہ میں تبدیل ہو جاتا ہے، تو اس سرکہ کو لکڑی کے برتنوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ پرانا ہونے کے بعد اس میں اچھی خوشبو پیدا ہو جائے، اس کے بعد بوتلوں میں فروخت کیا جاتا ہے ۔
زیتون کا تیل بنانے کا طریقہ:
زیتون کے پھلوں کو مشین میں ڈال کر زائد چیزوں کو صاف کیا جاتا ہے پھر پھلوں کو صاف پانی سے دھونے کے بعد ایک خاص قسم کی (
hommer crusher
) مشین میں نچوڑا جاتا ہے، پھر میلکسنگ بن (
malaxing bin
) [ایک قسم کی مشین ہے جس کے ذریعہ پھلوں سے تیل علیحدہ ہو جاتا ہے] میں ڈالا جاتا ہے ۔ پھر پمپ کے ذریعہ منتقل کر کے اسے ایک مشین میں ڈال کر صاف کیا جاتا ہے، ان سب مراحل سے گزارنے کے بعد ٹینکوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ اس میں ذائقہ پیدا ہو جائے، اس کے بعد بوتلوں میں فروخت کیا جاتا ہے ۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس طریقہ سے بنایا ہوا سرکہ اور زیتون کا تیل مذاہبِ اربعہ کی روشنی میں حلال ہے یا نہیں؟ یعنی ان کا داخلی استعمال جائز ہوگا یا نہیں؟ نیز مذکورہ فیکٹری کو حلال کا سرٹیفکٹ دیا جا سکتا ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
جمہور فقہاء کے ہاں اگر شراب خود بخود سرکہ بن جائے تو اس کا استعمال جائز ہے، لیکن اگر شراب میں کوئی چیز ڈال کر سرکہ بنا دیا جائے تو اس کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے احناف اور مالکیہ کے ہاں طاہر اور حلال ہے مگر شافعیہ اور حنابلہ کے یہاں اس کا استعمال جائز نہیں ہے ۔ ہاں شافعیہ میں سے ابن حجر رحمہ اللہ نے جائز کہا ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی بھی ایک روایت جواز کی ہے ۔
احناف کے دلائل ملاحظہ ہوں:
ہدایہ میں ہے:
وإذا تخللت الخمر حلت سواء صارت خلاً بنفسها أو بشيء يطرح فيها ولا يكره تخليلها وقال الشافعي رحمه الله: يكره التخليل ولا يحل الخل الحاصل به إن كان التخليل بإلقاء شيء فيه قولاً واحداً. (الهداية: ٤/٤۹۹).
البحر الرائق میں ہے:
وخل الخمر سواء خللت أو تخللت يعني خل الخمر فلا فرق في ذلك بين أن يتخلل بنفسه أو يخلل بإلقاء شيء فيه كالملح أو الخل أو النقل من الظل إلى الشمس أو بإيقاد النار بالقرب منها. (البحر الرائق: ۸/۲۱۹، كوئته).
(وكذا في الفتاوى الشامي: ٦/٤۵۱، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/٤۱۰).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
تاڑی یا شراب کو اگر سرکہ بنا لیا جائے اور حقیقت بدل جائے تو اس کا کھانا درست ہے:
الخمر إذا خلله بعلاج الملح أو بغيره، يحل عندنا أكله،
عالمگیری ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۸/۱۷۹، جامعہ فاروقیہ) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اصل وجہ تو یہ ہے کہ حق تعالی نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ قولاً و فعلاً اس کو حلال فرمایا "
لما روي مسلم في صحيحه عن جابر رضي الله عنه مرفوعاً نعم الإدام الخل وفي سنن ابن ماجه عن أم سعيد: اللهم بارك في الخل ولم يفتقر بيت فيه الخل. (زاد المعاد في ذكر الأدوية والأغذية: ٤/۱۵۱)،
باقی عقلی حکمت سو وہ بھی ظاہر ہے کہ سرکہ پر جو مختلف قسم کے انقلابات آتے ہیں ان سے اس میں انقلابِ ماہیت پیدا ہو جا تا ہے تمام خواص و آثار بدل جاتے ہیں تو حکمِ شرعی بھی بدل جاتا ہے جیسے ہوا اگر پانی بن جائے تو اس سے وضو جائز ہو جاتا ہے پیاس اس سے بجھ جاتی ہے نجاست جل کر اگر خاک ہو جائے تو پاک ہو جاتی ہے ۔ (امداد المفتین، جلد دوم، ص: ۸۰۵، ط: دار الاشاعت) ۔
مذہبِ مالکیہ کے دلائل:
بدایۃ المجتہد میں ہے:
واختلفوا إذا قصد تخليلها على ثلاثة أقوال: التحريم، والكراهية، والإباحة. وسبب اختلافهم معارضة القياس للأثر واختلافهم في مفهوم الأثر، وذلك أن أبو داود خرج من حديث أنس بن مالك رضي الله عنه أن أبا طلحة سأل النبي ﷺ عن أيتام ورثوا خمراً، فقال: اهرقها، قال: أفلا أجعلها خلاً؟ قال: فمن فهم من المنع سد ذريعة حمل ذلك على الكراهية، ومن فهم النهي لغير علة قال بالتحريم، ويخرج على هذا أن لا تحريم أيضاً على مذهب من يري أن النهي لا يعود بفساد المنهي، والقياس المعارض لحمل الخل على التحريم أنه قد علم من ضرورة الشرع أن الأحكام المختلفة إنما هي للذوات المختلفة، وأن الخمر غير ذات الخل، والخل بإجماع حلال، فإذا انتقلت ذات الخمر إلى ذات الخل وجب أن يكون حلالاً كيفما انتقل. (بداية المجتهد: ۱/۳٤۸، كتاب الأطعمة والأشربة، ط: دار نشر الكتب الإسلامية).
مذہبِ شافعیہ کے دلائل:
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأما إذا خللت بوضع شيء فيها فمذهبنا أنها لا تطهر وبه قال أحمد
(المجموع شرح المهذب: ۲/۵۷۸، ط: دار الفكر).
مذہبِ حنابلہ کے دلائل:
الموسوعة الفقهية
میں ہے:
ذهب الحنفية والمالكية، وهو رواية عن أحمد إلى أن نجس العين يطهر بالاستحالة
وكذلك الخمر إذا صارت خلاً سواء بنفسها أو بفعل إنسان أو غيره، لانقلاب العين، ولأن الشرع رتب وصف النجاسة على تلك الحقيقة، فينتفي بانتفائها، فإذا صار العظم واللحم ملحاً أخذا حكم الملح؛ لأن الملح غير العظم واللحم. ونظائر ذلك في الشرع كثيرة. (الموسوعة الفقهية: ۱۰/۲۷۸، وزارة الاوقاف).
المجمع الفقهي الإسلامي
کے مجلہ میں ہے:
إذا خللت الخمرة بطرح شيء فيها، أو قصد تخليلها، فاختلف فيها الفقهاء
القول الثاني: يحل تخليل الخمرة بطرح شيء فيها وتطهر به. وبه قال الحنفية، قول لمالك نقله أشهب عنه، وقول لا حمد، وهو المفهوم من مذهب البخاري وابن حجر والقرطبي وبه قال أبو الدرداء والثوري والأوزاعي والليث بن سعد
واستدل أصحاب القول الثاني ـ هم الحنفية ــ على قولهم بجواز تخليل الخمرة وأنها تحل وتطهربه، بما يلي:
(۱) قوله تعالى: ﴿و يحل لهم الطيبات﴾ [الاعراف: ۱۵۷] والخل من الطيبات.
(۲) أن النبي ﷺ قال: "أيما إهاب دبغ فقد طهر كالخمر يخلل فيحل". (رواه البيهقي في الكبري عن ام سلمة).
(۳) أن أبا الدرداء رضي الله عنه كان يأكل المري الذي يجعل فيه الخمر، ويقول: ذبحته الشمس والملح. [قال ابن حجر رحمه الله: المري: يعمل في الشام يؤخذ الخمر فيجعل فيه الملح والسمك ويوضع في الشمس فيتغير عن طعم الخمر].
(٤) بالقياس، فقالوا: ثم ما رويناه أقرب إلى الصحة؛ لأنه شبه دبغ الجلد بالتخليل، والدبغ يكون بصنع العباد لا بطبعه، فعرفنا أن المراد التخليل الذي يكون بصنع العباد، والمعنى فيه أن هذا صلاح لجوهر فاسد، فيكون من الحكمة والشرع أن لا ينهي عما هو حكمة
ومن هنا أقول: بأننا رأينا ستة من أكابر الفقهاء فيهم البخاري وابن حجر وابن الجوزي والطحاوي والقرطبي وابن رشد، إضافة إلى جميع الفقهاء الحنفية، وقول لمالك وقول في مذهب أحمد، وغيرهم ممن قدمنا في عرض الأقوال كل هؤلاء يرون أن التحليل أولي من التحريم في هذه المسألة
.
قلت: هذا هو الذي أرجحه، وهو أن الخمرة إذا قصد تخليلها أو خللت بطرح شيء فيها أنها تطهر، بعد ذهاب الخمرية وانتقالها إلى حالة التخليل، وصارت خلاً
ومن هنا فإنه يسع أصحاب معامل الخمور أو من يعمل الخمرة لنفسه أن يحولوا معاملهم وخمورهم إلى ما فيه فائدة وحلال دون أن يريقوا هذه الخمور التي عندهم. والله تعالى أعلم. (ملخص من مجمع الفقهي الإسلامي: ص ۱۹۳. ۲۰۷، ۱٤۲٤٤ هـ / ۲۰۰۳ء).
شراب سے سرکہ بنانا احناف کے نزدیک جائز ہے اور اس نیت سے شراب رکھنا بھی جائز ہے، اور مسلمان کی ملکیت میں شراب آ جائے تو واجب الاراقہ نہیں، نیز فیکٹریوں میں کارکنان اور فیکٹری کے مالکان بھی غیر مسلم ہیں جو شراب کے احکام کے پابند نہیں ہیں ۔ ہاں مسلمان کے لیے شراب خریدنا جائز نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
ولو أمسك الخمر في بيته للتخليل جاز ولا يأثم. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۷۳).
ہدایہ میں ہے:
كما إذا ورثهما ثم إن كان خمراً يخللها وإن كان خنزيراً يسيبه. (الهداية: ۳/۵۹).
البحر الرائق میں ہے:
وخل الخمر سواء خللت أو تخللت يعني خل الخمر فلا فرق في ذلك بين أن يتخلل بنفسه أو يخلل بإلقاء شيء فيه كالملح أو الخل أو النقل من الظل إلى الشمس أو بإيقاد النار بالقرب منها. (البحر الرائق: ۸/۲۱۹، كوئته). (وكذا في الفتاوى الشامي: ٦/٤۵۱، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/٤۱۰).
مبسوط میں ہے:
فأما بيع الخمر من المسلم فباطل والثمن غير مستحق له بل هو واجب الرد على من أخذ منه. (المبسوط للامام السرخسي: ۲٤/٤۹، دار الفكر، وبدائع الصنائع: ۵/۱۲۸، سعيد).
فتاوی عالمگیری میں ہے:
والثالث: أنه يحرم تمليكها وتملكها بالبيع والهبة وغيرهما مما للعباد فيه صنع. (الفتاوى الهندية: ۵/٤۱۰).
ہدایہ میں مرقوم ہے:
وانتقال الملك إلى الآمر أمر حكمي فلا يمتنع بسبب الإسلام كما إذا ورثهما ثم إن كان خمراً يخللها وإن كان خنزيراً يسيبه. (الهداية: ۳/۵۹).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
زیتون کے تیل کا حکم:
زیتون کا تیل بنانے کا جو طریقہ ذکر کیا گیا اس کے مطابق زیتون کا تیل استعمال کرنا جائز اور درست ہے، کیوں کہ اس طریقہ میں کوئی چیز خلافِ شریعت نہیں ہے اور نہ کوئی چیز حرام یا ناپاک استعمال کی جاتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2536
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2536