ہندو کے ارسال کردہ کھانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #261Urdu

Question

اگر کوئی ہندو مسلمان کے گھر کھانا بھیجے تو کیا اسے کھانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ منشأ سوال یہ ہے کہ ہندو لوگ گائے کے پیشاب کی تعظیم کرتے ہیں اور بعض ہندو اس کو کھانے میں بھی ڈالتے ہیں ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

(الف) جب کوئی تعلق والا آپ کے ہاں کھانا یا کوئی تحفہ بھیجے تو اس کو قبول کرنا چاہیے ۔
(باء) قبول کرنے بعد جب یقین ہو جائے کہ اس کھانے میں گائے کا پیشاب ڈالا ہے تو پھر اس کا کھانا ناجائز ہے، ہاں محض ظن کی وجہ سے کھانا ناجائز نہیں ہوتا، جب صحابہ کرام
ث
نے پنیر سے متعلق یہ اشکال ظاہر کیا کہ "شاید یہ مردار جانور سے بنایا گیا ہو
"نحن نري أنه يجعل فيها ميتة"
تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
فقال: اطعنوا فيها بالسكين واذكروا اسم الله وكلوا."
یعنی شاید کا اعتبار نہیں کیا ۔ پھر وہ کھانا خود کھائے یا کسی اور کو دے دے، دونوں باتیں درست ہیں ۔
(ج) اگر کسی غیر مسلم کے ہاں سے گوشت آ جائے تو اس کا کھانا درست نہیں، الا یہ کہ اس نے کسی قابل اعتماد مسلمان کی دکان سے گوشت خریدا ہو تو اس کا کھانا حلال ہوگا ۔
عام طور پر ہندو مسلمانوں کے احوال کو جانتے ہیں اس لے تعلقات کی بنا پر جو کچھ بھیجتے ہیں وہ حلال اور پاکیزہ ہوتا ہے ۔

روي البيهقي في سننه الكبري (۹/۲۸۵)، بسنده عن على رضي الله عنه قال: لا بأس بطعام المجوس إنما نهي عن ذبائحهم.
البحر الرائق
میں ہے:

ولا بأس بطعام المجوس كلها إلا الذبيحة. (البحر الرائق: ۸/۲۳۲، بيروت).

عالمگیری میں ہے:

ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة فإن ذبيحتهم حرام

ولا بأس بالذهاب إلى ضيافة أهل الذمة هكذا ذكر محمد

ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز، ولا يكون آكلاً وشارباً حراماً وهذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني، فأما إذا علم فلا يجوز أن يشرب ويأكل منها قبل الغسل. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٤۷).

علامہ سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولا بأس بطعام المجوس وأهل الشرك ما خلا الذبائح فإن النبي ﷺ كان لا يأكل ذبائح المشركين وكان يأكل ما سوى ذلك من طعامهم. (المبسوط: ۲٤/۵۰، ط: بيروت).

حدیث شریف میں آتا ہے ایک یہودی عورت نے آنحضرت ﷺ کو گوشت ہدیہ میں دیا آپ نے اسے قبول فرمایا ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
ہندوؤں کے یہاں دہئی، چوڑا، دال، بھات کھانا جب تک ناپاکی کا علم نہ ہو درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۸
/۳۵، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.