دندان سازی کے لیے جانور کی ہڈی استعمال کرنے کا حکم:
Question
جب آدمی بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اس کے مسوڑھے کی ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں، اور کمزوری کی وجہ سے یا کسی بیماری یا دیگر وجوہات کی بنا پر وہ ہڈیاں نہ تو حقیقی دانتوں کو برداشت کر سکتی ہیں اور نہ مصنوعی دانتوں کو، لہذا ان ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے اطباء نے ایک طریقہ اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ جانور کی ہڈی یا اس کے مغز سے مسالا تیار کر کے، اس کے ذریعہ مسوڑھوں کو مضبوط بناتے ہیں، پھر دانتوں کو جمانا ممکن ہو جاتا ہے۔ تو کیا اس طریقہ سے جانوروں کی ہڈیاں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
جانوروں کی ہڈیوں سے فائدہ اٹھانا جائز اور درست ہے۔ چاہے وہ جانور شرعی طریقہ پر ذبح کیے گئے ہوں یا ذبح نہ کیے گئے ہوں۔ کیوں کہ ہڈیوں میں حیات نہیں ہے لہذا موت بھی حلول نہیں کرتی۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ولا بأس ببيع عظام الميتة وعصبها
والانتفاع بذلك كله لا نها طاهرة لا يحلها الموت لعدم الحياة. (الهداية: ۳/۵۵).
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما عظم الميتة وعصبها وشعرها
فيجوز بيعها والانتفاع بها عندنا. (بدائع الصنائع: ۵/۱٤۲، سعيد).
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حیوانات کے اعضاء سے یہ کام لیا جائے یہ بھی قدیم زمانہ سے جاری تھا یہ دونوں صورتیں دینی، دنیوی، شخصی، اجتماعی، ہر حیثیت سے بے خطر بے ضرر ہیں زمین کی تمام مخلوقات معدنیات، نباتات حیوانات کو انسان اپنے فائدہ کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس فائدہ کے لیے ان چیزوں کو کاٹ چھانٹ کر، کوٹ پیس کر بلکہ جلا کر اور کیمیائی تحلیل کے طریقوں سے استعمال کر سکتا ہے۔ (جواہر الفقہ، جلدِ ہفتم، ص ۵۱۔ ۵۳)۔
مزید ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مباحث، جلدِ اول، و نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے، ص ۱٤۳، و عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، ص ۱۵۸)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2565
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2565