مادۂ منویہ کو محفوظ کرنے کا حکم:

9 min readFatwa Vol 6 #304Urdu

Question

ایک شخص کینسر کے مرض میں مبتلا ہے، اس کے لیے radiation والا علاج تجویز کیا گیا ہے، اطباء کا کہنا ہے کہ اس علاج کی وجہ سے اس کے مادۂ منویہ پر اثر پڑے گا، اور وہ بانجھ ہو جائے گا، بنا بریں ڈاکٹر کا مشورہ ہے کہ علاج سے پہلے صحیح مادۂ منویہ کو منی بینک (sperm bank) میں محفوظ کر لیا جائے تاکہ مستقبل میں کام آئے ۔ کیا ایسا عمل جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ ضرورت کی خاطر مرد کا مادۂ منویہ محفوظ کر کے مستقبل میں اس کی بیوی کے رحم میں ڈالنا جب کہ کسی اور کے مادہ کے ساتھ اختلاط نہ پایا جائے اگر چہ خلافِ فطرت ہونے کی وجہ سے برا ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے ۔
ان علماء کی تحریرات کا خلاصہ حسبِ ذیل درج ہے:
بطورِ تمہید عرض ہے کہ صاحبِ اولاد ہونے کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے جو کہ غیر معمولی ہوتا ہے، بالخصوص عورتوں کے معاملہ میں، ولادت سے محرومی عورت کو مختلف نسوانی، دماغی، قلبی اور جسمانی امراض کا شکار بنا دیتی ہے بسا اوقات یہ چیزیں زوجین کے درمیان سخت اختلاف اور کشیدگی کا باعث بنتی ہیں، جس کی وجہ سے بعض مرتبہ عفت و عصمت پر بھی بڑا اثر پڑتا ہے، اس لیے یہ بات بعض خواتین کے لیے حاجت کا درجہ اختیار کر گئی ہے، اور صورتِ مسئولہ میں کینسر کی وجہ سے معتاد طریقے پر اس کا حصول ممکن نہیں ہے، بایں وجہ مذکورہ طریقے پر اولاد حاصل کرنا درست ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔ لیکن بعض حضرات نے ناجائز فرمایا ہے ان کے دلائل مع جوابات درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
جن فقہاء نے اس کو نا درست قرار دیا ہے ان کے سامنے تین باتیں ہیں:
(۱) مرد کو جلق کے ذریعہ مادہ نکالنا ہو گا اور جلق کرنا درست نہیں ہے ۔
(۲) مرد و عورت یا کم از کم عورت کی بے ستری ہو گی، اور شدید مجبوری کے بغیر بے ستری اطباء کے سامنے بھی درست اور جائز نہیں ہے ۔
(۳) یہ طریقہ خلاف فطرت ہے، اور شریعت کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ خلاف فطرت امور سے منع کرتی ہے ۔
ان اشکالات کے جوابات حسب ذیل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) مادۂ منویہ جلق یا عزل کے ذریعہ نکالا جائے گا اور جلق ممنوع ہے:
عام حالات میں فقہاء نے جلق کرنے سے منع کیا ہے، لیکن جہاں ضرورت دامن گیر ہو وہاں اس کی اجازت دی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں شیخ طاہر بن عبد الرشید البخاری لکھتے ہیں:

"إذا عالج ذكره حتى أمني

ولا يحل هذا الفعل خارج رمضان إن قصد قضاء الشهوة وإن قصد تسكين شهوة أرجو أن لا يكون عليه وبال". (خلاصة الفتاوى: ۱/۲٦۰، الفصل الثالث فيما يفسد الصوم، المكتبة الرشيدية).

جلق کی ممانعت کی اصل حکمت:
جلق میں مادۂ حیات کو ضائع کر دیا جاتا ہے، لیکن جلق کا عمل مصنوعی تولید کے لیے کیا جائے تو اس میں جوہر حیات کو کارگر و ثمر آور بنانا ہے، اس لیے یہ صورت جلق کی ممنوع صورتوں میں داخل نہیں ۔
(۲) شدید مجبوری کے بغیر اس میں بے پر دگی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فقہاء نے بعض ایسی صورتوں میں بھی بے ستری کو گوارا کیا ہے جو خود تو کوئی شدید مرض نہیں، لیکن امکانی طور پر شدید امراض کا باعث بن سکتا ہے، جیسا کہ اولاد سے محرومی بعض شدید امراض کا سبب بن جاتی ہے، ملاحظہ ہو علامہ سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"وقد روي عن أبي يوسف رحمه الله أنه إذا كان به هزال فاحش وقيل له إن الحقنة تزيل ما بك من الهزال فلا بأس بأن يبدئ ذلك الموضع للمحتقن وهذا صحيح فإن الهزال الفاحش نوع مرض تكون آخره الدق والسل". (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱۰/۱۵٦، كتاب الاستحسان، النظر الي العورة).

ضرورت تو کجا بعض مرتبہ سنت یا مباح کی ادائیگی کے لیے بھی بے ستری جو کہ حرام ہے شریعت نے اجازت مرحمت فرمائی ہے، جیسے مرد کی ختنہ سنت ہے، اور عورت کی مباح ہے پھر بھی فقہاء نے ضرورت اور عذر کے دائرہ میں شمار فرما کر بے ستری کی اجازت دی ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ علاء الدین سمرقندی فرماتے ہیں:

"ولا يباح النظر والمس إلى ما بين السرة والركبة إلا في حالة الضرورة بأن كانت المرأة ختانة تختن النساء". (تحفة الفقهاء: ۳/۳۳٤، كتاب الاستحسان).

نیز مٹاپا نہ حاجت ہے نہ ضرورت، لیکن فقہاء نے یہاں بھی حقنہ لگانے کی اجازت دی ہے ۔
ملاحظہ ہو خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

"لا بأس بالحقنة لا جل السمن هكذا روي عن أبي يوسف رحمه الله". (خلاصة الفتاوى: ٤/۳٦۳، كتاب الكراهية، الفصل الخامس في الأكل، ط: المكتبة الرشيدية).

یہ طریقہ لا ولد کے لیے دراصل ایک ذریعہ علاج ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ فقہاء نے انسانی مسائل کو تین خانوں ۔ ضرورت، حاجت، اور تحسین ۔ میں تقسیم کیا ہے، اور ممنوعات کو صرف اس وقت جائز رکھا ہے جب کہ ضرورت یا حاجت اس کی اجازت کا تقاضہ کرے، لیکن فقہی جزئیات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ علاج و معالجہ کے باب میں فقہاء نے ایک گنا زیادہ وسعت سے کام لیا ہے، اس لیے اولاد سے محروم شوہر و بیوی کے لیے اولاد کا حصول ایک فطری جذبہ اور طبعی داعیہ ہے جس کے لیے شوہر کا مرد طبیب اور عورت کی عورت طبیبہ کے سامنے بے ستری گوارا کی جا سکتی ہے ۔
(۳) خلاف فطرت طریقہ ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فطری ضرورت اور تقاضہ کی تکمیل (اولاد کا حصول) کے لیے ایسی غیر فطری صورت اختیار کرنا جس کی ممانعت پر نص وارد نہ ہو جائز ہو گا، مثلاً بچہ کی ولادت کی اصل راہ عورت کی شرمگاہ ہے، لیکن ضرورت ہو تو آپریشن کی اجازت ہے، اس لیے یہاں بھی مجبوری کے درجہ میں اس غیر فطری عمل کی اجازت ہونی چاہیے ۔
ثبوتِ نسب کا حکم:
ثبوتِ نسب کے لیے شوہر کے نطفہ سے بیوی کا حاملہ ہو جانا کافی ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ جسمانی طور پر اس کے ساتھ مباشرت کرے، لہذا بغیر وطی کے بھی استقرار حمل سے بچہ کا نسب میاں بیوی سے ثابت ہو جائے گا ۔ جس کی نظیر حسب ذیل درج ہے:

"رجل وطي جارية في ما دون الفرج فأنزل فأخذت الجارية ماء ه في شيء فاستدخلته في فرجها فعلقت، عند أبي حنيفة رحمه الله أن الولد ولده وتصير الجارية أم ولده كذا في فتاوى قاضيخان". (الفتاوى الهندية: ٤/۱۱٤، الباب الرابع عشر في دعوي النسب).

خلاصہ یہ ہے کہ مرد کا مادۂ منویہ کو محفوظ کرنا مذکورہ بالا ضرورت کے تحت جائز اور درست ہے بشرطیکہ کسی اور کے مادہ کے ساتھ اختلاط نہ ہو اور یہ سہولت آج کل منی بینک میں موجود ہے کہ ہر ایک کے لیے الگ جگہ ہوتی ہے ۔ (ملخص از جدید فقہی مسائل ۵/۱۵۱ ۔ ۱٦۳، ٹسٹ ٹیوب سے تولید اور اس سے متعلق احکام) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل: ۲/۵٤۷ ۔ ۵٤۸ ۔ و جدید مسائل کا شرعی حل: ۲۰۹ ۔ ۲۱٤، و عصر حاضر کے فقہی مسائل، ص ۵۹ ۔ ٦٤، از مولانا بدر الحسن قاسمی، ط: حیدر آباد، و عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، ص ۱٦۵ ۱٦۲، ط؛ ادارۃ القرآن) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.