طبیب کا مریض کے عیب کو ظاہر کرنے کا حکم:
Question
ایک ایڈز کے مریض نے ڈاکٹر پر اصرار کیا کہ آپ میرے مرض کے بارے میں کسی کو نہ بتائیں، اب ڈاکٹر کو مرض کے بارے میں بتانا چاہیے یا نہیں؟ نیز کہاں بتانا چاہیے اور کہاں بتانا جائز نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
شریعتِ مطہرہ میں راز داری کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور اس کی ترغیب آئی ہے، اس کے خلاف افشائے راز کی مذمت وارد ہوئی ہے، ڈاکٹر اپنے مریض کا راز دار ہوتا ہے، اس کی شرعی، اخلاقی، قانونی اور فنی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے زیر علاج مریضوں کا راز فاش نہ کرے جس سے مریض کو نقصان پہنچ سکتا ہو یا خاندان و سماج میں بدنامی کا ذریعہ ہو ۔
حدیث شریف میں ہے:
عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: إني سمعت رسول الله ﷺ يقول: من رأي عورة فسترها كان كمن أحيا موء ودة. (رواه أبو داود، رقم: ٤۸۹۳ واحمد والبيهقي في سننه الكبري: ۸/۳۳۱).
لیکن اگر مریض کے اندر کوئی ایسا مہلک یا خطرناک مرض ہو کہ اس کو راز میں رکھنے اور چھپانے سے کسی فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو یا اجتماعی مفاد خطرہ میں پڑ سکتا ہو تو اس وقت افشائے راز اخلاقِ طب کے خلاف نہیں بلکہ عین تقاضائے مصلحت کہلائے گا ۔ در مختار میں ہے:
تباح غيبة مجهول ومتظاهر بقبيح ولمصاهرة. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۸، ٤۰۹، سعيد).
اسی طرح لڑکے میں کوئی ایسا عیب ہے کہ اگر مخطوبہ کو معلوم ہو جائے تو اس سے نکاح پر راضی نہ ہو، اور اس ڈاکٹر سے تحقیق کرے تو اس پر ضروری ہے کہ اس کے عیب کی تفصیل بتا دے ہاں از خود بتانا ضروری نہیں ۔
اسی طرح مرد و زن دونوں قبل از نکاح ڈاکٹر کے پاس معاینہ کرائیں تو ڈاکٹر کے لیے ضروری ہے کہ جو تحقیق ہو صحیح بتا دے اور عیب کی تفصیل سے آگاہ کر دے ۔
ويجب على المشاور أن لا يخفي حاله بل يذكر المساوي التي فيه بنية النصيحة. (رياض الصالحين، ص ۵۸۱، باب ما يباح من الغيبة).
اسی طرح کوئی شخص کسی مہلک اور متعدی مرض مثلاً ایڈز وغیرہ میں مبتلا ہے اب اگر وہ مریض تمام حفاظتی تدابیر اختیار کرتا ہے مثلاً خود زوجہ سے الگ رہتا ہے تب تو اس کے راز کے افشاء کی ضرورت نہیں لیکن ڈاکٹر کو یقین ہے کہ یہ مریض مکمل حفاظتی تدبیر پر کار بند نہیں تو اہل خانہ وغیرہ کے سامنے اس مرض کی اطلاع فقط جائز نہیں بلکہ عین تقاضا مصلحت ہے ۔
اسی طرح اس مہلک مرض (ایڈز) کو چھپانے میں اہل خاندان اور متعلقین کے لیے ضرر کا باعث ہو تو ڈاکٹر کے ذمہ ضروری ہے کہ اس مرض کی اطلاع کر دے اور اس مریض کی بات پر عمل نہ کرے ۔
يتحمل الضرر الخاص لدفع ضرر العام مثلاً الحائط المتوهن إذا كان في الطريق فإنه يجب نقضه على مالكه دفعاً للضرر العام. (شرح القواعد الفقهية، ص ۱۹۷).
قال الإمام الصنعاني في سبل السلام شرح بلوغ المرام:
واعلم أنه قد استثني العلماء من الغيبة أموراً ستة
الذم ليس بغيبة في ستة
٭
متظلم ومعرف ومحذر
ولمظهر فسقاً ومستفت ومن
٭
طلب الإعانة في إزالة منكر
(سبل السلام شرح بلوغ المرام: ٤/۳۷۰، باب الترهيب من مساوي الأخلاق، ط: دار الكتاب العربي).
کسی کا عیب بیان کرنا چھ جگہ غیبت نہیں، ظلم کی فریاد کرنے والے اور تعارف کرانے والے جیسے اعمش، اور ڈرانے والے اور بچانے والے کے لیے اور کھلم کھلا فسق و فجور ظاہر کرنے والے کے لیے، اور سوال کرنے والے کے لیے اور جو خلافِ شریعت کام کے ازالہ کے لیے کوشاں ہو کر مدد طلب کرے، یہ مسئلہ نمبر ۳ میں داخل ہے ۔
نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے میں ہے:
٤ ۔ ایڈز کے مریض کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر والوں یا متعلقین کو اس مرض سے مطلع کر دے اور خود بھی احتیاطی تدابیر ملحوظ رکھے ۔
۵ ۔ ایڈز کا مریض اگر اپنے مرض کو چھپانے پر ڈاکٹر سے اصرار کر رہا ہے اور ڈاکٹر کی رائے میں اس کے مرض کو راز میں رکھنے سے اس کے اہل خانہ، متعلقین اور سماج کو ضرر لاحق ہونے کا قوی اندیشہ ہے تو ڈاکٹر کی ذمہ داری ہے کہ محکمہ صحت اور متعلقہ حضرات کو اس کی اطلاع کر دے ۔ (نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے، ص ۱٤۵) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: (جدید فقہی مسائل: ۵/٤۰ ۔ ۵٤، نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے، ص: ۱٤۵ ۔ ۱٤٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2592
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2592