عورت کی چھاتی سے نکلنے والے پانی سے نقضِ وضو کا حکم:
Question
عورت کی چھاتی سے جو پانی نکلتا ہے اس سے وضوء ٹوٹتا ہے یا نہیں؟
Answer
زخم کی وجہ سے نکلنے والا پانی یعنی پیپ ناپاک ہے اور اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے لیکن جو پانی بغیر زخم کے نکلتا ہے وہ پاک ہے اور اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
مراقی الفلاح میں ہے:
قوله كدم وقيح إشارة إلى أن ماء الصديد ناقض كماء الثدي والسرة والأذن إذا كان لمرض على الصحيح. (مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي، ص: ۸۷، قديمي).
بہشتی زیور میں ہے:
اگر چھاتی سے پانی نکلتا ہے اور درد بھی ہوتا ہے تو وہ نجس ہے اس سے وضو جاتا رہے گا اور اگر درد نہیں ہے تو نجس نہیں ہے اور اس سے وضو بھی نہ ٹوٹے گا ۔ (بہشتی زیور، حصہ اول، ص ۵۱) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (
الفتاوى الهندية: ۱/۱۰، وفتاوى الشامي: ۱/۱٤۷).
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/261
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-261