عربی مربع رومال لپیٹنے سے سنتِ عمامہ کا حکم:
Question
اگر کسی نے مربع عربی رومال سر پر لپیٹ لیا تو یہ سنت عمامہ کے قائم مقام ہو گا یا نہیں؟ اور شرعاً عمامہ کی کوئی حد ہے یا نہیں؟
Answer
اگر کسی نے مربع عربی رومال سر پر باندھ لیا تو امید ہے کہ عمامہ باندھنے کا ثواب مل جائے گا، لیکن عرف میں جس کو عمامہ کہتے ہیں وہ رومال نہیں ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ عرفی عمامہ باندھنے کا معمول بنایا جائے، ہاں کبھی کبھی رومال باندھ لے تو کوئی حرج نہیں ۔
عمامہ کی تعریف ملاحظہ ہو :
ما تلف على الرأس تكويراً. (شآبيب الغمامة في تحقيق مسألة العمامة، ص ۵، وكذا في المعجم الوسيط، ص ٦۲۹، والمنجد في اللغة، ص ۵۲۸).
وللمزيد راجع: (معجم لغة الفقهاء، ص ۳۲۱، والتعريفات الفقهية، ص ۳۸۹، والشمائل المحمدية، ص ۲۲۷، وإرشاد الساري، ص ٤۲۷).
علماء نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کبھی کبھی سر پر عمامہ نہ ہونے کی صورت میں کوئی رومال یا کپڑا بھی لپیٹ لیتے تھے ۔ چنانچہ امام غزالی رحمه الله احیاء العلوم میں رقم طراز ہیں:
وربما لم تكن العمامة فيشد العصابة على رأسه وعلي جبهته، أخرجه من حديث ابن عباس رضي الله عنه صعد رسول الله ﷺ المنبر وقد عصب رأسه بعصابة دسماء الحديث. (إحياء علوم الدين: ۲/۳۷۵، والحاوي للفتاوى: ۱/۸۳).
شمائل کبری میں ہے:
آپ ﷺ عمامہ کے علاوہ (عمامہ نہ ہونے پر ) کپڑے کے ٹکڑے (مانند رومال وغیرہ) بھی لپیٹ لیتے تھے ۔ (عمدۃ:
۱
/
۳۰۹
) ۔ صاحب سیرت الشامی نے بیان کیا ہے کہ اگر عمامہ نہ ہوتا تھا تو آپ کپڑے کے ٹکڑے کو سر اور پیشانی پر باندھ لیتے تھے ۔ (سبل الہدی:
۷
/
٤۳۰
) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ رومال کو بھی سر پر باندھ لینا کندھے پر ڈال لینے سے بہتر ہے کہ مثل عمامہ کے باندھے ۔ (شمائل کبری:
۱
/
۱۸۰
) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ محققین کے نزدیک عمامہ کی کوئی خاص مقدار حدیث سے ثابت نہیں ہے اس بنا پر لوگ جس کو عمامہ سمجھتے ہو اس سے عمامہ کا ثواب مل جائے گا ۔ ہاں سنتِ عمامہ ادا نہ ہو گی ۔
حضرت فقیہ الامت تحریر فرماتے ہیں:
اور ٹوپی پر رومال وغیرہ باندھنے سے عمامہ کی فضیلت حاصل نہ ہو گی جب تک سنت کے موافق عمامہ نہ ہو، اس کی مقدار سات ہاتھ ہے اور بعض اوقات بارہ ہاتھ عمامہ بھی حضور آ کرم ﷺ سے ثابت ہے:
كان له ﷺ عمامة طويلة، وأن القصيرة كانت سبعة أذرع والطويلة كانت اثني عشرة ذراعاً، انتهى، وظاهر كلام المدخل أن عمامته كانت سبعة أذرع مطلقاً من غير قيد بالقصير والطويل، والله أعلم. (جمع الوسائل شرح شمائل: ۱/۲۰۷، وكذا في عمدة الرعاية على هامش شرح الوقاية، باب ما يفسد الصلاة، وما يكره فيها: ۱/۱٦۹، سعيد). (
فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
٤۵
، جامعہ فاروقیہ) ۔
تنبیہ: عمامہ کی مقدار والی روایت سے محدثین نے لاعلمی ظاہر فرمائی ہے لہذا محققین کے نزدیک عمامہ کی مقدار کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔
حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمه الله نے فتاوی دار العلوم دیوبند میں اس کے خلاف تحریر فرمایا ہے:
تولیہ اور رومال ٹوپی پر باندھنا مکروہ نہیں ہے، یعنی عمامہ کے طور پر باندھنا اور نماز اس سے مکروہ نہ ہو گی، بلکہ اطلاق عمامہ کا اس پر آوے گا اور باندھنے والا مستحق ثواب ہو گا ۔
یہ اعتجار مکروہ نہیں ہے، عصابہ بمعنی عمامہ بھی آتا ہے اور پٹی جو سر پر باندھی جاوے اس کو بھی عصابہ کہتے ہیں ۔
العصابة تأتي بمعني العمامة كما في القاموس وشرح شمائل للقاري رحمه الله.
عمامہ رسول اللہ ﷺ کی نسبت منقول ہے کہ آپ کے پاس دو عمامے تھے ایک سات ذراع کا اور ایک بارہ ذراع کا، لیکن صحیح یہ ہے کہ اس میں کوئی تحدید شرعاً نہیں ہے ۔ بقدرِ ضرورت ہو کافی ہے ۔
جمع الوسائل شرح الشمائل لعلی القاری میں ہے:
وقال الشيخ الجزري في تصحيح المصابيح قد تتبعت الكتب وتطلبت من السير والتواريخ لا قف على قدر عمامة النبي صلي الله ﷺ فلم أقف حتى أخبرني من أثق به أنه وقف على شيء من كلام النووي رحمه الله
(مرقاة المفاتيح: ۸/۲۵۰، ملتان).
وقال الإمام السيوطي رحمه الله: وأما مقدار العمامة الشريفة فلم يثبت في حديث. (الحاوي للفتاوى: ۱/۸٤، فاروقي كتب خانه).
قال ابن حجر الهيتمي المكي: أما طول عمامة النبي ﷺ وعرضها فلم يثبت فيها شيء. (الفتاوى الحديثية: ۳).
وقال في تحفة الأحوذي: لا بد لمن يدعي أن مقدار عمامته ﷺ كان كذا وكذا من الذراع أن يثبته بدليل صحيح وأما الادعاء المحض فليس بشيء. (تحفة الأحوذي: ۵/٤۱٤).
وقال الإمام السخاوي رحمه الله: وما ورد من أن طولها سبعة أذرع في عرض ذراع، لا أصل له. (الفجر الساطع: ۸/۱۰۲).
وقال الشيخ المناوي: لم يتحرر كما قال بعض الحفاظ في طول عمامته ﷺ وعرضها شيء، وما وقع للطبري أنها سبعة أذرع، ولغيره نقلاً عن عائشة رضي الله عنه
فلا أصل له. (فيض القدير: ۵/۲۱۳).
وقال الملا على القاري في "المقالة العَذْبَة في العمامة والعَذَبَة، بعد أن أورد نقولاً: فقد علم أنه لم يرد في طولها وعرضها شيء يعتمد عليه، فليقتصر الإنسان على ما يليق به، باعتبار عادة غالب أمثاله في محل الساكن فيه من البلاد. (المقالة العَذْبَة في العمامة والعَذَبَة ص: ٦٤).
وللمزيد راجع: (شآبيب الغمامة في تحقيق مسألة العمامة، ص ۳۹، وسبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد: ۷/۲۷٦، ط: بيروت، والمقالة العذبة في العمامة والعذبة، ص ۳٦. ٦۵، ط: بيروت).
حضرت شیخ رحمه الله نے فرمایا: حضور ﷺ کے عمامہ کی مقدار مشہور روایات میں نہیں ہے، طبرانی کی ایک روایت میں سات ذراع آئی ہے، بیجوری رحمه الله نے ابن حجر رحمه الله سے اس حدیث کا بے اصل ہونا ذکر کیا ہے، علامہ جزری رحمه الله کہتے ہیں کہ میں نے سیر کی کتابوں کو خاص طور سے تلاش کیا مگر حضور ﷺ کے عمامہ کی مقدار مجھے نہیں ملی ۔ (خصائل نبوی، ص
۸۸
، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2628
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2628