مخلوط تقریبات میں شرکت کا حکم:
Question
کیا عورتوں کے لیے شادی، ولیمہ اور دیگر تقریبات میں شرکت کی اجازت ہے یا نہیں؟ اگر اجازت ہو تو کس طرح جائیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
اگر شادی، ولیمہ یا اور کوئی خاندانی تقریب ہو اور عورتوں کے لیے الگ کمرہ ہو جس میں مردوں سے خلط اختلاط کا اندیشہ نہ ہو، پردہ کا اہتمام ہو تو ایسی تقریب میں شرکت کی اجازت ہے، اور گھر سے نکلتے وقت مکمل پردہ کی رعایت کے ساتھ نکلے، یعنی پورا جسم مع چہرہ مستور ہو وہاں راستہ دیکھنے کے لیے آنکھیں کھلی رکھنا درست ہے ۔ نیز شوہر کی اجازت ضروری ہے یا شوہر یا اور کوئی محرم ساتھ ہو ۔
البتہ آج کل کی مخلوط مجلسیں جن میں پردہ وغیرہ کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا، خلط و اختلاط مع الاجانب بھی ہوتا ہے، ایسی مجلسوں میں شرکت کی بالکل اجازت نہیں ۔ شوہر کی اجازت ہو یا شوہر ساتھ ہو پھر بھی جائز نہیں ۔
قال في مسئولية المرأة المسلمة: الاختلاط: هو اجتماع الرجل والمرأة التي ليست بمحرم، أو هو: اجتماع الرجال والنساء غير المحارم في مكان واحد يمكنهم فيه الاتصال فيما بينهم بالنظر أو الإشارة أو الكلام، فخلوة الرجل بالمرأة الأجنبية التي ليست من محارمه على أي حال من الأحوال تعتبر من الاختلاط، وهو محرم وهو من أخطر الأمور التي حذر الله منها المسلمين، فإن الاختلاط بين الجنسين الذكر والأنثى من أكبر أسباب الميسرة للفاحشة، وأخطر من ذلك الخلوة بالمرأة غير المحارم فإن ذلك مدخلاً للشيطان قال رسول الله ﷺ: لا يخلون رجل بامرأة إلا كان الشيطان ثالثهما. رواه أحمد والترمذي والحاكم وصححه. (ص ۲۲).
وفي مجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: وفي المنتقي: تمنع الشابة عن كشف وجهها لئلا يؤدي إلى الفتنة وفي زماننا المنع واجب بل فرض لغلبة الفساد وعن عائشة رضي الله عنه جميع بدن الحرة عورة إلا إحدى عينيها فحسب لاندفاع الضرورة. (مجمع الأنهر: ۱/۱۲۲، ط: دار الكتب العلمية).
وقال شمس الأئمة السرخسي رحمه الله:
فدل أنه لا يباح النظر إلى شيء من بدنها ولأن حرمة النظر لخوف الفتنة وعامة محاسنها في وجهها، فخوف الفتنة في النظر إلى وجهها أكثر منه إلى سائر الأعضاء. (المبسوط: ۱۰/۱۵۲).
وللاستزادة انظر: (بدائع الصنائع: ۵/۱۲۳، ط: سعيد، وتبيين الحقائق: ٦/۱۷، ط: إمداديه).
خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کے لیے ولیمہ میں شرکت کرنا جائز ہے جب کہ مندرجہ ذیل چند شرائط کا لحاظ رکھا جائے ۔
دعوتِ ولیمہ میں شرکت کی اجازت کا ثبوت:
امام بخاری نے بخاری شریف میں باب قائم کیا ہے
"باب ذهاب النساء والصبيان إلى العرس"
اور اس باب کے تحت درجِ ذیل حدیث کی تخریج فرمائی ہے:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: أبصر النبي ﷺ نساء وصبياناً مقبلين من عرس فقام ممتناً فقال: اللهم أنتم من أحب الناس إلى. (بخاري شريف، رقم: ۵۱۸۰).
قال العلامة بدرالدين العيني رحمه الله: هذا باب في بيان جواز ذهاب النساء والصبيان إلى وليمة العرس وعقد هذه الترجمة لئلا يتخيل عدم جواز ذلك. (عمدة القاري: ۱٤/۱۳٦، ط: دار الحديث، ملتان).
قال الحافظ ابن حجر رحمه الله: كأنه ترجم بهذا لئلا يتخيل أحد كراهة ذلك فأراد أنه مشروع بغير كراهة. (فتح الباري: ۹/۲٤۸).
قال في الهداية: ومن دعي إلى وليمة أو طعام
وهذا لان إجابة الدعوة سنة. (الهداية: ٤/۸۰).
شرکت کے شرائط حسبِ ذیل ملاحظہ ہو :
(۱) شوہر یا ولی اور سرپرست کی اجازت ضروری ہے ۔
كما هو مرقوم في عامة كتب الفقه
۔
(۲) نقاب پہن کر نکلے، اور سادہ برقع پہن کر نکلے نقش و نگار والے برقع سے اجتناب کرے ۔
(۳) کوئی خوشبو، پاؤڈر وغیرہ نہ لگائے، یعنی بناؤ سنگار نہ کرے ۔
(٤) سفر شرعی میں شوہر یا محرم کا ساتھ ہونا ۔
(۵) اختلاط مع الاجانب نہ ہو ۔
(٦) آلاتِ موسیقی وغیرہ نہ ہوں ۔ اگر لہو و لعب کا بازار گرم ہو تو ایسی حالت میں مردوں کو بھی شرکت کی اجازت نہیں ۔
قال في الدر المختار: وإن علم أولاً باللعب لا يحضر أصلاً.
وفي الشامي: وساق بعد هذا في التبيين ما رواه ابن ماجة أن علياً رضي الله عنه قال: صنعت طعاماً فدعوته رسول الله ﷺ فجاء فرأي في البيت تصاوير فرجع. قلت: مفاد الحديث أنه يرجع ولو بعد الحضور وأنه لا يلزم الإجابة مع المنكر أصلاً، تأمل. (فتاوى الشامي: ٦/۳٤۸، سعيد).
حاصل یہ ہے کہ دعوتِ ولیمہ میں شرکت شرائطِ مذکورہ بالا کی رعایت کے ساتھ جائز ہے ۔
اشکال: بہشتی زیور (ص
۴۶۴
، ط: دار الاشاعت، کراچی) میں حضرت تھانوی رحمه الله نے شادی اور ولیمہ وغیرہ کی دعوتوں میں شرکت کو ناجائز قرار دیا ہے، اس کا کیا مطلب ہوگا؟
الجواب: فی زماننا عموماً اس قسم کی دعوتوں میں جو مفاسد اور خرابیاں ہوتی ہیں ان کو مدِ نظر رکھتے ہوے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ حضرت رحمه الله نے منع فرمانے کے بعد تقریباً اس کی ۳۲ خرابیاں بیان فرمائی ہیں، (ملاحظہ ہو : بہشتی زیور، ص
۴۶۴
۔
۴۶۷
) جن میں سے اکثر پائی جاتی ہیں الا ماشاء اللہ کوئی محفل مستثنی ہو ۔ بنا بریں ان خرابیوں، اور مفاسد کی موجود گی میں کون شرکت کی اجازت دے سکتا ہے؟
اسی طرح علامہ عبد الحی لکھنوی رحمه الله فرماتے ہیں:
شوہر عورت اجنبیوں کی زیارت اور ان کی عیادت سے اور ان کے ہاں دعوتِ ولیمہ میں جانے سے روکے اور اگر شوہر اجازت دے گا تو دونوں گنہگار ہوں گے ۔ (مجموعۃ الفتاوی:
۲
/
۸۷
، آرام باغ، کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2647
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2647