عینک کی کمانی سونے کی استعمال کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #88Urdu

Question

کیا عینک میں سونے کا فریم استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی شئی میں سونے چاندی کی کشید کاری کی گئی ہو یا اس شئی کا کچھ حصہ سونے چاندی کا ہو تو اس کے استعمال کے لیے ضروری ہے کہ سونے چاندی کو ہاتھ نہ لگائے مثلاً: کھاتے، پیتے وقت منہ نہ لگائے، زین وغیرہ میں سونے چاندی پر پیر نہ رکھے، دیگر پکڑنے کی اشیاء میں ہاتھ سونے چاندی پر نہ رکھے، اس عبارت کی روشنی میں چونکہ سونے کا فریم کان سے متصل ہوگا اور اتارتے وقت بھی ہاتھ سونے کی جگہ مس ہو گا لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:

وحل الشرب

والركوب على سرج مفضض والجلوس على كرسي مفضض ولكن بشرط أن يتقي أي يجتنب موضع الفضة

وكذا الإناء المضبب بذهب أو فضة، والكرسي المضبب بهما وحلية مرآة ومصحف بهما كما لو جعله أي التفضيض في نصل سيف وسكين أوفي قبضتهما أو لجام أو ركاب ولم يضع يده موضع الذهب والفضة. (الدر المختار: ٦/ ۳٤۳، سعيد).
وفي الشامية: فالحاصل: أن المراد الإنقاء بالعضو الذي يقصد الاستعمال به، ففي الشرب لما كان المقصود الاستعمال بالفم اعتبر الاتقاء به دون اليد ولذا لو حمل الركاب بيده من موضع الفضة لا يحرم، فليس المدار على الفم إذ لا معني لقولنا متقياً في السرج والكرسي موضع الفم فافهم ولا يخفي أن الكلام في المفضض وإلا فالذي كله فضة يحرم استعماله بأي وجه كان كما قدمناه ولو بلا مس بالجسد

الخ. (الدر المختار مع الشامي: ٦/ ۳٤۳، سعيد).

امداد الاحکام میں ہے:
عینک کی کمانی سونے اور چاندی کسی کی جائز نہیں ۔
قال في الدر: وكذا الإناء المضبب بذهب أو الكرسي المضبب بهما وحلية مرآة وفي المنح والهداية وغيرهما حلقة مرآة بالقاف قال في الكفاية والمراد بها التي تكون حوالي المرآة، ومصحف لهما إلى أن قال: ولم يضع يده موضع الذهب والفضة، الخ.

پس عینک کی کمانی حلقہ مرآۃ کے مشابہ ہے، اور وہ اس شرط سے جائز ہے کہ چاندی اور سونے کی جگہ پر ہاتھ نہ رکھا جائے اور ظاہر ہے کہ عینک کا لگانا بدونِ کمانی کو ہاتھ لگائے دشوار ہے، اس لیے ناجائز ہے ۔ (امداد الاحکام:
٤
/
۳۳۲
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.