عطر لگانے کا طریقہ:

1 min readFatwa Vol 7 #91Urdu

Question

عطر لگانے کا کوئی سنت طریقہ ہے یا نہیں؟

Answer

نبی پاک ﷺ عطر استعمال فرماتے تھے، اور خوشبو کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے اور ہر اچھی چیز میں داہنی جانب کو ترجیح دیتے تھے، بنا بریں عطر استعمال کرنا سنت ہے اور دائیں ہاتھ سے لیکر جس جگہ لگانا ہو اللہ تعالی کا نام لے کر لگائے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله عنه قالت: كان النبي ﷺ يحب التيمن ما استطاع في شأنه كله في طهوره وترجله وتنعله. (رواه البخاري، رقم: ٤۲٦).

امام نووی رحمه الله فرماتے ہیں:

يستحب البداءة باليمني في كل ما كان من باب التكريم والزينة والنظافة ونحو ذلك

الخ. (شرح صحيح مسلم: ۱٤/ ۷٤، دار إحياء التراث العربي، بيروت).

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
عطر لگانے کا کوئی خاص طریقہ مسنون نہیں، البتہ دائیں جانب سے ابتدا کرنا سنت ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳٤۳
، طبع جدید) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.