حضرت آدم علیہ السلام کی ڈاڑھی:

3 min readFatwa Vol 7 #99Urdu

Question

کیا حضرت آدم علیہ السلام کی ڈاڑھی تھی یا نہیں تھی؟ بینوا توجروا ۔

Answer

ڈاڑھی تمام انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام کی سنت ہے، حضرت آدم علیہ السلام بھی نبی تھے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: "عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الأظفار، وغسل البراجم، ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء قال زكريا قال مصعب: ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة. (رواه مسلم: ۱/۱۲۹، ط: فيصل).
(ورواه أبو داود، رقم: ۵۳، وابن ماجه: ۲۹۳، والترمذي: ۲۷۵۷، وابن خزيمة: ۸۸).
قال العلامة العيني: وأراد بالفطرة السنة القديمة التي اختارها الأنبياء عليهم السلام واتفقت عليها الشرائع فكأنها أمر جلي فطروا عليه. (عمدة القاري: ۱۵/۸۸، باب قص الشارب).
قال في المرقاة: أي عشر خصال من سنة الأنبياء الذين أمرنا أن نقتدي بهم. فكأنا فطرنا عليها كذا نقل عن أكثر العلماء. (مرقاة المفاتيح: ۲/٤، باب السواك، ط: إمداديه، ملتان).
قال في فيض القدير: يعني سنة الأنبياء الذين أمرنا بالاقتداء بهم. (فيض القدير: ۲/۵٤۳).
قال الإمام النووي في شرح صحيح مسلم: ومعناه أنها من سنن الأنبياء صلوات الله وسلامه عليهم. (باب خصال الفطرة، ۱/۱۲۸، ط: فيصل).

یعنی اکثر شراح کی رائے یہ ہے کہ فطرت سے مراد انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہے ۔ تو ڈاڑھی کا رکھنا انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہے ۔ معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کی ڈاڑھیاں تھیں، نیز ڈاڑھی اپنے وقت میں جمال ہے انبیاء علیہم السلام اس جمال سے کیسے محروم ہوں گے؟
ہدایہ میں ہے:
ولنا أن اللحية في وقتها جمال وفي حلقها تفويته على الكمال. (الهداية: ٤/۵۸۷). (وكذا في المبسوط للامام السرخسي رحمه الله: ۱۱/۱٦۳، والبحر الرائق: ۸/۳۷۷، دار المعرفة، وبدائع الصنائع: ۷/۳۱۲، سعيد، وتبيين الحقائق: ٦/۱۳۰، ط: مكتبه إمداديه، ملتان).

قرآنِ مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے حضرت ہارون علیہ السلام کی ڈاڑھی کا ذکر فرمایا ہے:

قال: يبنؤم لا تأخذ بلحيتي ولا برأسي
۔ ہارون علیہ السلام نبی تھے اور ان کی ڈاڑھی تھی ۔
خلاصہ یہ ہے آدم علیہ السلام نبی تھے اور ان کی ڈاڑھی تھی اور ڈاڑھی رکھنا ان کا طریقہ تھا ۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ الله فرماتے ہیں:
آنحضرت ﷺ نے ڈاڑھی رکھنے کو ان اعمال میں سے شمار کیا ہے جو تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہیں، پس جس چیز کی پابندی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک خدا کے سارے نبیوں نے کی ہو، ایک مسلمان کے لیے اس کی پیروی جس درجہ ضروری ہو سکتی ہے وہ آپ خود ہی اندازہ کر سکتے ہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳۰۸
، طبع جدید) ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.