پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہونے پر تیمم کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 1 #270Urdu

Question

اگر کسی کے پاس وضو کا پانی ہو لیکن استعمال پر قدرت نہیں رکھتا (معذور وغیرہ) اور وہاں کوئی اجنبی یا اس کا دوست موجود ہو لیکن ان سے مدد طلب کیے بغیر اگر تیمم سے نماز پڑھ لے تو کیا حکم ہے کیا ایسے موقع پر مدد طلب کرنا ضروری ہے؟

Answer

ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہاں جو بھی موجود ہو (اجنبی ہو یا دوست) اس سے مدد طلب کرے اس صورت میں مدد طلب کیے بغیر تیمم کر کے نماز پڑھ لینا جائز نہیں ہے ۔
بحر میں ہے:

وإن وجد خادماً كعبده وولده وأجيره لا يجزيه التيمم اتفاقاً كما نقله في المحيط وإن وجد غير خادمه من لو استعان به أعانه ولو زوجته فظاهر المذهب أنه لا يتيمم من غير خلاف بين أبي حنيفة وصاحبيه كما يفيد كلام المبسوط والبدائع وغيرهما. (البحر الرائق ۱/۱٤۰).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
کوئی اور بیماری ہو اور وضو کرانے والا شخص نہ ملے اور بیمار خود وضو نہ کر سکے، لیکن اگر کوئی خادم ملے یا دستور کے مطابق اجرت دے کر ملتا ہو اور وہ مزدور مقرر کرنے کی اجرت دے سکتا ہو، یا اس کے پاس کوئی ایسا شخص ہو کہ اگر اس سے مدد لے گا تو وہ مدد کرے گا تو ظاہر مذہب کت بموجب تیمم نہ کرے اس لیے کہ وہ پانی پر قادر ہے ۔ (عمدۃ الفقہ:
۱
/
۲۳۷
) ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.