عورتوں کے لیے لیئرنگ کٹ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 7 #135Urdu

Question

عورت کے بالوں کو لیئرنگ (layering of women's hair) کرنا جائز ہے یا نہیں؟ میں ہمیشہ اپنے بالوں کو لیئر کرتی تھی، کسی نے مجھے بتایا کہ لیئر کرنا ٹھیک نہیں ہے، تو اب میں شریعت کا حکم معلوم کرنا چاہتی ہوں، کیوں کہ میرے بال بہت باریک ہیں لیئر نہ کرنے کی وجہ سے گرتے ہیں ۔ برائے کرم حکمِ شرعی سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں ۔

Answer

فی زماننا اکثر عورتیں مغربی تہذیب سے متأثر ہو کر اپنے بالوں کو لیئر کرواتی ہیں، اور لیئرنگ کٹ میں عام طور پر "V" یا "U" کی شکل کا لحاظ رکھتے ہوے بالوں کو ایک خاص مقدار میں کاٹا جاتا ہے ۔ اس طرح کی کٹ میں درجِ ذیل دو خرابیوں کے پائے جانے کی وجہ سے یہ ممنوع اور ناجائز ہے ۔
(۱) کافرات اور فاسقات کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے ۔ اور شریعتِ مطہرہ نے غیر قوم کی تشبہ سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے ۔
(۲) بالوں کو کافی مقدار میں کاٹنے کی وجہ سے بہت چھوٹے ہو جاتے ہیں، نیز بالوں کا صحیح توازن بھی فوت ہو جاتا ہے اور بعض چھوٹے اور بعض بڑے رہ جاتے ہیں، احادیث میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

روي البخاري بسنده عن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ نهى عن القزع
۔
(رقم: ۵۹۲۱، باب القزع)
۔
فتاوی شامی میں ہے:

قوله: والمعني المؤثر أي العلة المؤثرة في إثمها التشبه بالرجال فإنه لا يجوز كالتشبه بالنساء حتى قال في المجتبى رامزاً: يكره غزل الرجل على هيئة غزل النساء. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۷، سعيد). (وكذا في تنقيح الفتاوى الحامدية: ٤/۲۳۷، كتاب الشهادة).
وفي الأشباه والنظائر: ولا يجو ز للمرأة قطع شعرها ولو بإذن الزوج. (الأشباه النظائر: ۲/۱٤، الفن الثاني في الفوائد، كتاب النكاح).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ولو حلقت المرأة رأسها فإن فعلت لوجع أصابها لا بأس به وإن فعلت ذلك تشبهاً بالرجل فهو مكروه كذا في الكبري. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸).

الاشباہ و النظائر میں ہے:

وتمنع عن حلق رأسها. قال العلامة السيد الحموي: أي حلق شعر رأسها

والمراد بحلق شعر رأسها إزالته سواء كان بحلق أو قص، أو نتف أو نورة، فليحرر، والمراد بعدم الجواز كراهية التحريم، كما في مفتاح السعادة، ولو حلقت ذلك تشبها بالرجال فهو مكروه لأنها ملعونة. (الأشباه والنظائر مع غمز عيون البصائر: ۳/۷۳، أحكام الأنثى).

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
اگر شوہر عورت کو فیشن کے طرز پر بال کاٹنے کے لیے کہے یا عورت از خود فیشن کے انداز پر بال کاٹے تو یہ سخت گناہ کا کام ہے اور حرام ہے اور گناہ کے کام میں شوہر کی اطاعت جائز نہیں ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۵
/
٤۵٤
) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
آج کل فیشن کے طور پر عورتوں میں بال کٹوانا عام ہے جب کہ عورتوں کو مردوں کی مشابہت کرنا حرام ہے آنحضرت ﷺ نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، جو چیز ناجائز ہو، وہ شوہر کی اجازت کے ساتھ بھی ناجائز ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳۲۷
، طبع جدید) ۔
بہشتی زیور میں ہے مرقوم ہے:
مسئلہ: عورت کو سر منڈانا بال کتروانا حرام ہے حدیث میں لعنت آئی ہے ۔ (حصہ
۱۱
، تتمہ حصہ پنجم) ۔
مزید دلائل ما قبل میں تفصیل سے بیان ہو چکے ہیں وہاں مراجعت کر لی جائے ۔ واللہ
گ
اعلم ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.