مسح علی الجوربین کی تحقیق:

5 min readFatwa Vol 1 #278Urdu

Question

جوربین غیر ثخینین یعنی جو باریک ہوں ان پر مسح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

باریک موزے جو کپڑے یا اون یا سوت سے بنے ہوں ان پر مسح ائمہ اربعہ کے نزدیک جائز نہیں ۔
اما م ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے یہاں مسح علی الجوربین کے لیے یہ شرائط ہیں:
ثخین ہوں ان میں پانی نہ چھنے اس میں دو میل چلنا ممکن ہو اور بغیر باندھے ہوئے پنڈلی سے نہ گرے ۔
ملاحظہ ہو تذکرۃ الرشید میں ہے:
سوال: حضرت گنگوہی رحمہ اللہ سے سوال ہوا بانات و کشمیرہ یا مثل اس کے اور کسی سوتی دبیز موٹے کپڑے کا موزہ بنوا لیا جائے تو اس پر مسح جائز ہو گا یا نہیں؟
جواب: ایسا دبیز کپڑا کہ پانی کو نشف نہ کرے اور چلنے میں گرے نہیں اس کا موزہ درست ہے اور مسح اس پر جائز ہے ۔ (تذکرۃ الرشید:
۱
/
۱۸۲
) ۔ (بانات: اونی دبیز کپڑے کو کہتے ہیں) ۔
مفتی نظام الدین رحمہ اللہ مفتی دار العلوم دیوبند تحریر فرماتے ہیں:
غیر چمڑے کے موزوں پر بھی خواہ نائیلون ہو یا سوتی وغیرہ ہوں جن میں خفین کے خصوصی اوصاف و احوال پائے جاتے ہوں ان پر بھی جواز مسح کی گنجائش نکلتی ہے اور وہ خصوصی احوال و اوصاف یہ ہیں کہ خفین ساتر للقدمین مع الکعبین ہوتا ہے اور عضو مستور کا کوئی حصہ اوپر سے نظر نہیں آتا اور مسح کی تری اندر تک نہیں پہنچتی اور بغیر جوتا پہنے اور بغیر باندھے ہوئے چلا جائے تو میل دو میل اس طرح چل سکتے ہیں کہ نہ تو وہ کٹے گا اور نہ ساق سے نیچے اتر ے گا، پس جو موزہ غیر چمڑے کا خواہ نائیلون کا ہو خواہ سوتی یا اونی ہو ان اوصاف کا حامل ہو یعنی اگر اتنا موٹا ہو کہ مسح کی تری جسم تک نہ پہنچے اور اتنا مضبوط ہو کہ بغیر جوتا پہنے اور بغیر باندھے ہوئے میل دو میل چلے تو نہ کٹے اور نہ پیر سے نکلے تو اس پر مثل خفین کے مسح جائز رہے گا ۔ (نظام الفتاوی:
۱
/
٤۲
) ۔
ہاں باریک موزوں پر مسح درست نہیں ۔
مالکیہ کے نزدیک مسح علی الجوربین کے لیے درج ذیل شرائط ہیں: جوربین کے اوپر والے حصہ پر چمڑا سیا ہوا ہو وہ چمڑا پاک ہو ساتر کعبین ہو اس میں چلنا آسانی سے ممکن ہو ۔
شوافع کے نزدیک جوربین موٹے ہوں اور ایک قول کے مطابق منعل ہوں دوسرا قول یہ ہے کہ منعل ہونا ضروری نہیں ۔ امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مہذب میں لکھا ہے:
أما ما لا يمكن متابعة المشي فيه لرقته فلا يجوز المسح عليه بلا خلاف. (شرح المهذب: ۱/۵۰۱، باب المسح على الخفين، ط: دار الفكر).

حنابلہ کے یہاں بھی صفیق ہونا یعنی دبیز ہونا اور اس میں چلنا آسان ہونا مذکور ہے اور یہ پنڈلی پر ٹھہرتے ہوں باندھنے کی ضرورت نہ ہو ۔
مولانا عبد الرحمن مبارک پوری صاحب غیر مقلد نے بھی ثخینین کی شرط لگائی ہے ۔
ملاحظہ ہو تحفۃ الاحوذی میں ہے:

والراجح عندي أن الجوربين إذا كانا صفيقتين ثخينين فهما في معنى الخفين يجوز المسح عليهما وأما إذا كانا رقيقين بحيث لا يستمسكان على القدمين بلا شد ولا يمكن المشي فيهما ليسا في معنى الخفين. (تحفة الأحوذي: ۱/۱۱۲/۹۲، باب ما جاء في المسح على الجوربين والنعلين).

صاحبِ تحفۃ الاحوذی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ علامہ ابن تیمیہ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جن جوربین میں چلنا ممکن ہو وہ فی حکم الخفین ہیں اور ان پر مسح جائز ہے ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جو موزہ چمڑے کا نہ ہو لیکن ایسا دبیز ہو کہ اس میں پانی نہ چھنتا ہو اور اس کو پہن کر میل بھر چلنا بھی دشوار نہ ہو تو ایسے موزہ پر بھی مقیم کو ایک دن ایک رات اور مسافر کو تین دن اور رات مسح کرنے کی شرعاً اجازت ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۵/ ۱۹۵، جامعہ فاروقیہ) ۔
اس سے قبل حضرت نے جوربین منعلین پر مسح کرنے میں بھی تامل فرمایا ہے یہ فتوی نویں جلد میں ہے مگر جواز کا فتوی ۹٤ ؁ھ کا ہے، جبکہ جوربین منعلین پر مسح نہ کرنے میں احتیاط کا فتوی ۵۹ ؁ھ کا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ موٹے موزوں پر مسح جائز ہے اور باریک موزوں پر مسح درست نہیں ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.