حیض کی تکلیف پر اجر و ثواب کا حکم:

2 min readFatwa Vol 1 #283Urdu

Question

عورتیں ہر مہینے جو حیض کی وجہ سے تکلیف اٹھاتی ہیں اس تکلیف پر انہیں اجر و ثواب ملے گا یا نہیں؟

Answer

عورتیں حالتِ حیض میں جو تکلیف اٹھاتی ہیں اس پر اجر و ثواب ملے گا ۔
حدیث شریف میں آتا ہے:

"عن النبي ﷺ قال: ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن ولا أذى حتى الشوكة يشاكها إلا كفر الله بها من خطاياه". (رواه مسلم: ۲/۳۱۸).

ایک دوسری روایت میں ہے:

"ما من مسلم يصيبه أذى شوكة فما فوقها إلا كفر الله بها سيئاته وحطت عنه ذنوبه كما تحط الشجرة ورقها". (رواه مسلم: ۲/۳۱۸).

ان احادیث سے واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ مسلمان جو بھی تکلیف برداشت کرتا ہے اس پر بے شمار اجر و ثواب کا مستحق بن جاتا ہے خواہ وہ تکلیف حیض کی ہو یا کوئی اور تکلیف ہو ۔
علا وہ ازیں حیض کا آنا خود کوئی مصیبت یا بلا کی چیز نہیں، بلکہ نسلِ انسانی کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے، اگر چہ اس میں کلفت ہے ۔
عمدۃ القاری میں ہے:

إن الله تعالى قطع حيض بني إسرائيل عقوبة لهن ولا زواجهن لكثرة عنادهم ومضت على ذلك مدة ثم إن الله تعالى رحمهم وأعاد حيض نسائهم لأن من حكم الله تعالى أنه جعل الحيض سبباً لوجود النسل إلا ترى أن المرأة إذا ارتفع حيضها لا تحمل عادة (عمدة القاري: ۳/۹٦).

یعنی اللہ تعالی نے کچھ مدت کے لیے بنی اسرائیل کی عورتوں سے حیض کو اٹھا لیا (سزا کے طور پر ) پھر دوبارہ لوٹا دیا کیونکہ نسلِ انسانی کا ذریعہ ہے ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.