فٹ بال کھیلنے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 7 #240Urdu

Question

کیا فٹ بال کھیلنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

جدید اور قدیم کھیلوں کے بارے میں چند شرائط اور ضوابط کی پابندی کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کا اختیار کرنا جائز ہوگا ۔ شرائط اور ضوابط حسبِ ذیل درج ہیں:
(۱) جن کھیلوں کے بارے میں احادیث و آثار میں صریح ممانعت وارد ہوئی ہے وہ ناجائز ہیں، جیسے نرد شیر، شطرنج، کبوتر بازی، اور جانوروں کو لڑانا وغیرہ ۔
(۲) جو کھیل کسی حرام و معصیت پر مشتمل ہوں وہ اس معصیت یا حرام کی وجہ سے ناجائز ہوں گے ۔ جیسے کھیل میں ستر کھولنا، مردوں کا ستر ناف سے گھٹنے تک ہے یہ حصہ مستور ہونا چاہیے مستور ہونا چاہیے اگر رانیں اور گھٹنے کھلے ہوئے ہوں تو یہ ناجائز ہے ۔ یا کسی کھیل میں جوا کھیلنا، یا مرد و زن کا اختلاط ہونا، یا اس میں گانے بجانے کا اہتمام کرنا، یا کفار فساق کی نقالی کرنا وغیرہ وغیرہ ۔
(۳) جو کھیل فرائض اور حقوقِ واجبہ سے غافل کرنے والے ہوں، وہ بھی ناجائز ہیں ۔ البتہ ایسے کھیل جو مختصر وقت میں پورے کیے جا سکتے ہوں جیسے فٹ بال، والی بال، وغیرہ تو یہ جائز ہیں، ہاں ایسا طویل الوقت کھیل نہ ہو جو شرعی فرائض اور اپنی متعلقہ ذمہ داریوں سے غافل کر دے تو پھر ناجائز ہوگا، جیسے شطرنج اور فی زماننا کرکٹ، تاش، کیرم بورڈ وغیرہ ۔
(٤) ایسے کھیل بھی ناجائز ہیں جو اپنے یا دوسروں کے لیے ایذا رسانی کا باعث بنتے ہوں، یا اس کھیل میں جسم کو نقصان پہنچنے کا قوی امکان ہو، جیسے فری اسٹائل کشتی اور باکسنگ، پتنگ بازی وغیرہ ۔
(۵) مردوں کے لیے زنانہ کھیل اور عورتوں کے لیے مردانہ کھیل جیسے کشتی، کبڈی وغیرہ درست نہیں ۔
(٦) وہ تمام کھیل جن میں مذکورہ بالا خرابیاں نہ ہوں اور ان سے جسمانی ریاضت اور ورزش ہوتی ہو اور انسانی صحت کے لیے مفید ہوں ایسے کھیل مستحب ہیں ۔
(۷) چند قسم کے کھیل احادیث سے ثابت ہیں اور آنحضرت ﷺ نے ترغیب دی ہے وہ کھیل مستحب ہیں ۔ مثلاً دوڑ لگانا، تیراکی، گھوڑ دوڑ، تیر اندازی اور کشتی لڑنا، لیکن کشتی میں فریق مخالف کو فقط زمین پر گرانا مقصود ہو ہر قسم کی آزادانہ تکلیف پہنچانا جائز نہیں ہے جیسا کہ آج کل فری اسٹائل کشتی میں ہوتا ہے یہ درست نہیں ۔ بشرطیکہ مذکورہ بالا مفاسد سے خالی ہوں ۔
مذکورہ بالا اصول کی رعایت کرتے ہوئے فٹ بال کھیلنا بھی جائز ہوگا، کیوں کہ اس میں جسمانی ورزش ہے اور یہ اسبابِ جہاد میں سے ہے اور ذہنی تفریح بھی ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:

ولا بأس بالمسابقة في الرمي والفرس والبغل والحمار كذا في الملتقي والمجمع وأقره المصنف هنا

لأنه من أسباب الجهاد فكان مندوباً

(الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۲، سعيد).
وكذا في مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر (٤/۲۱٦، ط: دار الكتب العلمية) وزاد فيه: وكل ما هو من أسباب الجهاد فتعلمه مندوب إليه سعياً في إقامة هذه الفريضة.

تکملۃ فتح الملہم میں ہے:

فالضابط في هذا الباب عند مشايخنا الحنفية، المستفاد من أصولهم وأقوالهم: أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح مفيد في المعاش ولا المعاد حرام، أو مكروه تحريماً، وهذا أمر مجمع عليه في الأمة، متفق عليه بين الأئمة، وما كان فيه غرض ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهى عنه من الكتاب أو السنة (كما في النردشير) كان حراماً، أو مكروهاً تحريمياً، وألغيت تلك المصلحة والغرض لمعارضتها للنهي المأثور، حكماً بأن ضرره أعظم من نفعه

وأما ما لم يرد فيه النهى عن الشارع، وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي على نوعين:
الأول: ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه، ومفاسده أغلب على منافعه، وأنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله وحده وعن الصلوات والمساجد، التحق ذلك بالمنهى عنه، لا شتراك العلة، فكان حراماً أو مكروهاً
۔

والثاني: ما ليس كذلك، فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة، وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، بل قد يرتقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه.
وعلي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم تشمل على معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه ودنياه، والله سبحانه أعلم. (تكملة فتح الملهم: ٤/٤۳٦).

امداد الاحکام میں ہے:
یہ کام نصاری کے قومی شعار یا مذہبی رسوم نہیں ہیں اس لیے اگر ورزش کی مصلحت سے کھیلا جائے تو مضائقہ نہیں اگر نصاری کے ساتھ تشبہ کی نیت ہو تو مکروہ ہوگا اور نماز کے فوت کرنے کا گناہ تو ہر ورزش میں ہے خواہ یہ ہو یا کوئی اور لہذا ایسا مشغول ہو کر کھیلنا کہ نماز کا بھی خیال نہ رہے ہر حال میں ناجائز ہے ۔ (امداد الاحکام: ٤/۳٦۷) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر ورزش اور مشق جہاد اور تندرستی باقی رکھنے کے لیے کھیلے تو درست ہے، مگر ستر پوشی اور دیگر حدودِ شریعت کی رعایت لازم ہے، انہماک کی وجہ سے احکامِ شرعیہ: نماز و جماعت وغیرہ میں خلل نہ آئے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/ ۵۳۳، جامعہ فاروقیہ) ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
جن کھیلوں سے کچھ دینی یا دنیوی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں وہ جائز ہیں بشرطیکہ انھیں فوائد کی نیت سے ان کو کھیلا جائے، محض لہو و لعب کی نیت نہ ہو، لیکن اس کی بازی پر کوئی معاوضہ یا انعام مشروط مقرر کرنا جائز نہیں ۔
مثلاً: گیند کا کھیل کہ اس سے جسمانی ورزش ہوتی ہے یا لاٹھی وغیرہ کے کھیل یا پہلوانوں کی کشتی وغیرہ جو قوتِ جہاد میں معین ہو سکتے ہیں ۔ اسی طرح معمہ بازی، شعر بازی، تعلیمی تاش وغیرہ ہار جیت کی بازی لگانا جائز ہے مگر اس پر کوئی رقم معاوضہ کی مقرر کرنا جائز نہیں، بلکہ قمار حرام ہے ۔ (جواہر الفقہ: ۲/۳۵۷، مفید کھیل، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.