بغیر آلات کے موسیقی کی آواز نکالنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #260Urdu

Question

مسلم نوجوان نسل کو موسیقی سے دور کرنے اور اس کا متبادل دینے کے لیے اس ملک میں مسلمانوں کا گانے والا ایک گروپ ہے، جن کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ دو تین افراد گاتے ہیں اور دوسرے حضرات گانے والوں کے پیچھے کھڑے ہو کر منہ پر ہاتھ رکھ کر مختلف قسم کی آوازیں نکالتے ہیں جو موسیقی کی طرح معلوم ہوتی ہے لیکن بغیر آلات کے ہوتی ہے، موسیقی کے آلات بالکل استعمال نہیں کرتے ہیں تو کیا اس طریقہ پر گانا جائز ہو گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ مذکورہ طریقہ پر گانا ممنوع اور ناجائز ہے، وجہ یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ میں موسیقی کے آلات بذاتِ خود مقصود نہیں بلکہ آواز مقصود ہے جب اس کی آواز موسیقی کی طرح ہے تو اس کا استعمال درست نہیں، اس سے اجتناب کرنا چاہیے، نیز بعض علماء اس کو تشبہ بالفساق کی وجہ سے ناجائز کہتے ہیں، اور حدیث:
من تشبه بقوم فهو منهم
، کی وعید کے تحت اس کو داخل فرماتے ہیں ۔
چنانچہ مرقات میں ملا علی قاری رحمه الله اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:

من تشبه بقوم، أي من شبه نفسه بالكفار مثلاً في اللباس وغيره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار، "فهو منهم" في الإثم والخير، قال الطيبي رحمه الله: هذا عام في الخَلق والخُلق والشعار. (مرقاة المفاتيح: ۸/۲۵۵، كتاب اللباس، ط: إمداديه، ملتان).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.