بیت اللہ شریف پر سیاہ غلاف ہونے کی وجہ:
Question
بیت اللہ شریف کا غلاف سیاہ کیوں ہے؟
Answer
زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کا غلاف مختلف رنگوں کا ہوا کرتا تھا یہی سلسلہ آپ ﷺ کے عہدِ مبارک میں اور خلفاءِ راشدین بنو امیہ اور بنو عباسیہ کے ابتدائی دور تک رہا پھر ۵۷۵ ھ میں خلیفہ احمد ناصر لدین اللہ نے سیاہ رنگ کا غلاف چڑھایا، البتہ تاریخِ مکہ میں مذکور ہے کہ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن یمن کا بنا ہوا سیاہ رنگ کا غلاف کعبہ پر چڑھایا لیکن معلوم نہیں کہ یہ کیسی روایت ہے، لہذا صحیح یہی ہے کہ عباسی خلیفہ احمد ناصر لدین اللہ نے سیاہ رنگ کا غلاف چڑھایا پھر اب تک سیاہ چلا آ رہا ہے۔
تاریخ مکہ میں ہے:
كسي البيت في الجاهلية الانطاع، ثم كساه النبي ﷺ الثياب اليماني ثم كساه عمر وعثمان القباطي ثم كساه الحجاج الديباج ويقال: أول من كساه الديباج يزيد بن معاوية ويقال: ابن الزبير ويقال: عبد الملك بن مروان.
عن حبيب بن أبي ثابت قال: كسي النبي ﷺ الكعبة وكساها أبوبكر رضي الله عنه وعمر رضي الله عنه فلما ولي عبد الملك بن مروان كان يبعث كل سنة بالديباج فلما كانت خلافة المامون
فصارت الكعبة تكسي ثلاث كسي الديباج الأحمر يوم التروية وتكسي القباطي يوم هلال رجب وجعلت كسوة الديباج الأبيض التي أحدثها المامون. (تاريخ مكة للأزرقي ص: ۲٦٦، وكذا في تاريخ مكة لابن الضياء الحنفي ص: ۱۲۰).
قصة التوسعة الكبري
میں ہے:
كسوة العباسيين: وكانت الكعبة تكسي مرتين، وصارت في عهد الخليفة العباسي المامون تكسي ثلاث مرات في السنة، وذلك بأمره، وبدأ سنة ۲۰٦ هـ الكسوة الأولى من الديباج الأحمر وتكساها يوم التروية، والثانية من القباطي وتكساها في غرة رجب، والثالثة من الديباج الأبيض وتكساها في السابع والعشرين من شهر رمضان المبارك، وبدأت تكسي الكعبة بالديباج الأسود منذ كساها الناصر لدين الله أبو العباس، أحمد الخليفة العباسي وقد بدأ حكمه سنة ۵۷۵هـ واستمر إلي يومنا هذا. (قصة التوسعة الكبري، ص: ۱۰۸، وكذا في الكعبة والكسوة ص: ۱۳۸).
تاریخ مکہ میں ہے:
اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن یمن کا بنا ہوا سیاہ رنگ کا غلاف کعبہ پر چڑھایا حضرت ابو بکررضي الله عنه حضرت عمر رضی الله عنه حضرت عثمان رضی الله عنه نے قباطی کا غلاف چڑھایا (قباطی ایک باریک قسم کا سفید مصری کپڑا)
حضرت معاویہ رضي الله عنه سال میں دو مرتبہ غلاف چڑھاتے تھے خلیفہ ابو النصر نے ہند کا بنا ہوا سفید غلاف چڑھایا بعد میں ناصر عبا سی نے سبز دیباج کا اور ٦٤۳ ھ میں سیاہ سوتی غلاف چڑھایا گیا، جس کے بعد اب تک کالے رنگ کا ہی غلاف چڑھایا جاتا ہے ۔ (تاریخ مکہ: ۲ / ۱٤۸) ۔
التاریخ القویم میں ہے:
احمد ناصر لدین اللہ نے سیاہ رنگ کا دیباج چڑھایا تھا ۔
(التاريخ القويم: ٤/۱۹۹).
خلاصہ یہ ہے کہ سیاہ رنگ کے غلاف کی ابتداء خلیفہ عباسی احمد ناصر لدین اللہ نے فرمائی اس کے بعد اب تک سیاہ رنگ کا چڑھایا جاتا ہے اور سیاہ پہنانے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ خلفائے بنو عباسیہ سیاہ رنگ کو پسند کرتے تھے اور عزت و غلبہ سے تفاؤل لیتے تھے اس لئے کہ نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے موقع پر سیاہ عمامہ باندھے ہوے تھے، جب ہمارے محبوب ﷺ نے سیاہ عمامہ پہنا تھا تو بعض خلفاء نے خانہ کعبہ کو جو ہمارے لیے محبوبہ کی طرح ہے سیاہ برقع پہنایا یا ان کے چہرے پر سیاہ زلفیں لٹکا دی گئیں ۔ نیز سیاہ رنگ پر غبار و میل بھی نظر نہیں آتا ۔ نیز حجر اسود سیاہ ہے تو اس کے حامل کعبہ کو بھی سیاہ لباس پہنایا گیا ۔
ملاحظہ ہو جمع الوسائل فی شرح الشمائل میں ہے:
والخلفاء العباسيون باقون على لبس السواد وكثير من الخطباء على المنابر ومستندهم ما سبق من دخول المصطفي مكة بعمامة سوداء أرخي طرفيها بين كتفيه فخطب بها فتفاول الناس لذلك فإنه نصر وعز وزعم بعض بني المعتصم أن تلك العمامة التي دخل بها مكة وهبها ﷺ لعمه العباس وبقيت بين الخلفاء يتداولونها ويجعلونها على رأس من تقرر للخلافة. (جمع الوسائل: ۱/۱٦۵).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2920
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2920