قبلہ کی طرف پیر پھیلا کر سونے کا حکم:
Question
قبلہ کی طرف پیر پھیلا کر سونے کا کیا حکم ہے؟ جائز ہے یا مکروہ؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر بجانبِ قبلہ پیر پھیلا کر سونا مکروہِ تحریمی ہے، کعبہ شعائر اسلام میں ہے اور اس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے ۔ ملاحظہ ہو قرآنِ کریم میں ہے:
﴿ومن يعظم شعائر الله فإنها من تقوي القلوب﴾ [الحج: ۳۲].
حدیث میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله عنه سے مروی ہے:
نهى رسول الله ﷺ أن يصلي في سبع مواطن في المزبلة والمجزرة والمقبرة وقارعة الطريق والحمام ومعاطن الإبل وفوق الكعبة. (رواه ابن ماجه، رقم: ۷٤٦، باب المواضع التي تكره فيها الصلاة). وفي إسناده: زيد بن جبيرة وفيه كلام.
رسول اللہ ﷺ نے سات جگہوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: کوڑے کی جگہ، مذابح میں، مقبرہ میں، راستے کے بیچ میں، حمام میں، اونٹوں کے باڑے میں اور کعبہ کے اوپر ۔
آپ خود سوچیں کعبہ کے اوپر نماز کی ممانعت کی وجہ بے ادبی کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ اور یہ مسئلہ اور حکم خلاف القیاس نہیں کہ اس کو اپنے محل تک محدود رکھیں بلکہ یہ عرف پر مبنی ہے تو عرف میں جیسے بیت اللہ پر نماز بے ادبی ہے اس طرح قبلہ کی طرف پیر پھیلانا بھی بے ادبی ہے، اگر کسی کے سامنے معزز آدمی بیٹھا ہو اور اس کی طرف پاؤں پھیلا دے تو اس کو سب حاضرین بے ادبی سمجھتے ہیں ۔
قال في الفتاوى الهندية: ويكره مد الرجلين إلى الكعبة في النوم وغيره عمداً
الخ. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۱۹). (وكذا في المحيط البرهاني: ٦/۵۱، الفصل الخامس من كتاب الاستحسان، وفتاوى الشامي: ۱/۳٤۱، سعيد، والبناية في شرح الهداية: ۲/۵۵۹، مكتبة رشيدية، والفتاوى التاتارخانية، وبريقة محمودية).
قال في الدر المختار: كره مد رجليه في نوم أو غيره إليها أي عمداً لأنه إساءة أدب قاله منلا ناكير
وقال في رد المحتار: قوله مد رجليه، أو رجل واحدة ومثل البالغ الصبي في الحكم المذكور، قوله عمداً أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا، قوله لأنه إساءة أدب أفاد أن الكراهة تنزيهيه، لكن قدمنا عن الرحمتي في باب الاستنجاء أنه سيأتي أنه بمد الرجل إليها ترد شهادته، قال: وهذا يقتضي التحريم فليحرر. (فتاوى الشامي: ۱/٦۵۵، مطلب في أحكام المسجد، سعيد).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
بجانبِ قبلہ پیر پھیلا کر سونا مکروہ تحریمی، قریب حرام ہے، جو شخص جان بوجھ کر ایسا کرتا ہے وہ فاسق اور مردود الشہادۃ ہے یعنی شرعاً اس کی گواہی مردود اور نا مقبول ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۵۷۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2923
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2923