دلائل الخیرات کی بعض مشتبہ عبارات کا حکم:
Question
کتاب دلائل الخیرات کی بعض عبارتیں بہ ظاہر اہل سنت و الجماعت کے نظریات سے ٹکراتی ہیں: مثلاً: درود کے الفاظ میں حضور ﷺ کے لیے: "
اللهم صل على كاشف الغمة"
پریشانیوں کو دور کرنے والے
(ص: ۸٤)،
اور
"اللهم صل على محمد نبيك وإبراهيم خليلك وعلي جميع أنبيائك وأصفيائك من أهل أرضك وسمائك عدد خلقك ورضي نفسك وزنة عرشك ومداد كلماتك ومنتهي علمك وزنة جميع مخلوقاتك صلاة مكررة أبداً عدد ما أحصي علمك وملأ ما أحصي علمك وأضعاف ما أحصي علمك صلاة تزيد وتفوق وتفضل صلاة المصلين عليهم من الخلق أجمعين كفضلك على جميع خلقك. (دلائل الخيرات، ص ٤۸)،
اِس عبارت میں اللہ تعالی کے علم کے متناہی ہونے کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔
اللهم صل على محمد وعلي آل محمد حتى لا يبقي من الصلاة شيء وارحم سيدنا محمداً حتى لا يبقي من الرحمة شي ء" (ص ٤٤)
اِن الفاظ میں اللہ تعالی کی صفتِ رحمت کے متناہی ہونے کا شبہ پیدا ہوتا ہے، وغیرہ الفاظ موجود ہیں، اِسی طرح حضور ﷺ کے ناموں میں
"سيدُنا شافٍ" (ص ۲۹)،
اِس عبارت میں رسول اللہ ﷺ کو شافی کہا گیا جب کہ حدیث میں
"لا شافي إلا أنت"
آیا ہے شافی صرف اللہ تعالی ہے۔
سيدُنا كاشفُ الكرب
اور
"سيدُنا صاحبُ الفَرَج" (ص ۳۲)،
اِس عبارت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کاشفُ الکرب کہا گیا جب کہ تکلیف دور کرنے والے اللہ تعالی ہیں،
وإن يمسسك الله بضر فلا كاشف له إلا هو.
علاوہ ازیں درود شریف کے یہ سب صیغے اردو ترجمے کے ساتھ چھپے ہوئے ہیں، اب عوام تو اس کو مجاز اور کنایہ پر محمول نہیں کر سکتے ہیں اس لیے کہ ان کو یہ اصطلاحات معلوم نہیں ہیں، تو کیا اِن سب صیغوں کو کتاب سے نکال دینا چاہیے، یا عوام کو اِس کتاب کے پڑھنے سے روکنا چاہیے؟
دوسرا سوال: اللہ تعالی کے لیے حاضر ناظر کا مطلب کیا ہے، کیا اشاعرہ اور ماتریدیہ کی کتابوں میں اِس لفظ کے استعمال کی کوئی دلیل ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
(۱) شفا کے تین معانی آتے ہیں: ۱؛ روحانی امراض یا شکوک و شبہات سے تسلی اور اطمینان بخش جواب کو بھی شفا کہتے ہیں۔ ۲؛ ظاہری امراض کے علاج معالجہ کو بھی شفا کہتے ہیں۔ ۳؛ صحت و تندرستی بخشنے اور حاصل ہونے کو بھی شفا کہتے ہیں، جہاں شفا کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہو جائے اور مصنف صحیح العقیدہ ہو تو وہاں پہلے دو معانی میں سے جو معنی مقام کے مناسب ہو وہ لیا جائے اور تیسرا معنی اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے، صاحب الدلائل نے رسول اللہ ﷺ کو شافی فرمایا وہ پہلے دو معانی کے لحاظ سے ہے۔
صحیح العقیدہ کے کلام کو صحیح معنی پر محمول کرنے کے متعلق "الدرۃ الفردۃ شرح قصیدۃ البردۃ" میں مرقوم ہے:
یہ اصول تقریباً متفق علیہ ہے کہ جب کوئی صحیح العقیدہ آدمی کوئی بات کہے اور اس کا ظاہری مطلب صحیح معلوم نہ ہوتا ہو، تو اس کے لیے اچھے معنی تلاش کیے جائیں گے، خصوصاً جب کہ قائل عالمِ دین ہو تو اس کے کلام کو صحیح معنی پر محمول کرنا ضروری ہوگا۔ اس ضمن میں وہ تمام تفصیلات داخل ہیں، جو فقہائے کرام نے مسلمان کو کفر سے بچانے کے لیے بیان فرمائی ہیں، فقط ایک عبارت ملاحظہ فرمائیں، علامہ ابن نجیم رحمه الله فرماتے ہیں:
والذي تحرر أنه لا يفتي بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن. (البحر الرائق: ۵/۱۳۵).
اس کی مثالیں بیان کرنے سے پہلے اس اصول کے بارے میں کچھ عبارات ملاحظہ فرمائیں:
(۱) علامہ ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں:
فإنه يجب أن يفسر كلام المتكلم بعضه ببعض، ويؤخذ كلامه هاهنا وهاهنا، وتعرف ما عادته بعينه ويريده بذلك اللفظ إذا تكلم به، وتعرف المعاني التي عرف أنه أرادها في موضع آخر، فإذا عرف عُرفه وعادته في معانيه وألفاظه، كان هذا مما يستعان به على معرفة مراده. (مجموع الفتاوي: ۲/۳۷۴).
عبارت کا حاصل یہ ہے کہ متکلم کا عمومی مزاج، عرف و عادت کا لحاظ کر کے اس کے کلام کے معنی بیان کرنے چاہیے۔
(۲) حضرت مولانا افضل خان صاحب رحمه الله جو جماعت اشاعت التوحید کے مشائخ و اکابر میں سے ہیں، اپنی مشہور کتاب "نثر المرجان من مشکلات القرآن" (جس کے شروع میں حضرت مولانا محمد طاہر پنج پیری اشاعت التوحید کے شیخ المشائخ کی تقریظ اور تعریفی کلمات ہیں) میں مولانا رومی (محمد بن محمد بن حسین بلخی، رومی، م:
٦۷۲
ھ) کے شعر کا صحیح مطلب بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
"فهذا تأويل لكلام الرومي لكونه معروفاً بصحة العقيدة واتباع السنة، حيث قال في آخر المثنوي: أنت حسبي، أنت كافي ليس غير، ثم التأويل إنما يعتبر في كلام من يكون معروفاً بالاعتقاد الصحيح، لا في كلام من ليس كذلك. فقول "أنبت الربيع البقل" إذا صدر عن الجاهل المنكر لا يتأول فيه، وإذا صدر عن المسلم فيتأول فيه بأن هذا من قبيل الإسناد إلى الزمان، فهو مجاز. (نثر المرجان من مشكلات القرآن، ص: ۱۲۷).
(۳) حضرت شیخ مولانا محمد زکریا رحمه الله فرماتے ہیں: حتی کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمه الله جیسے متشدد حضرات بھی اولیاء اللہ کے کلام کی تاویل کرتے چلے آئے ہیں، اور ان کے فتاوی میں بیسیوں جگہ مشہور اکابر صوفیہ کے کلام کی بہت کثرت سے تاویل کی گئی ہے، بالخصوص حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمه الله کے کلام کی تو تاویل کثرت سے ان کے فتاوی میں کی گئی ہے۔ (اکابر علمائے دیوبند اتباعِ شریعت کی روشنی میں، ص ۱۴)۔ (ماخوذ از: الدرۃ الفردۃ:
۱
/
٦۱
)۔
اس کے بعد تقریباً ۱۵ مثالیں پیش کی گئی وہاں ملاحظہ فرما لیں۔
اب اِن معانی کی تفصیل کے لیے ذیل کی عبارات ملاحظہ کیجیے: اردو میں شفا بمعنی علاج مستعمل ہے:
آخر طبیب نے بھی انہیں سے کیا رجوع
ظ
وہ آئے مسکرائے شفا دے گئے مجھے
حضور ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت
رضي الله عنه
کے لیے فرمایا:
وقالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول: هجاهم حسان فشفي واشتفي. (صحيح مسلم: ۲۴۹۰، ۲/۳۰۱).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: حسان نے کفار کی ہجو بیان کر کے مسلمانوں کو خوش کر دیا، اور خود بھی خوش ہوئے۔ یہاں شفا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیماری سے شفا دی؛ بلکہ مطلب یہ ہے کہ دلوں میں موجود غیظ و غضب کو ٹھنڈا کر دیا؛
قال النووي رحمه الله: (هجاهم حسان فشفي واشتفي) أي شفي المؤمنين واشتفي هو بما ناله من أعراض الكفار ومزقها ونافح عن الإسلام والمسلمين. (شرح صحيح مسلم: ۲/۳۰۱).
امام نووی رحمه الله فرماتے ہیں: یعنی کفار کی عزت کی دھجیاں بکھیر کر اور اسلام و مسلمانوں کا دفاع کر کے ایمان والوں کو خوش کر دیا، اور خود بھی خوش ہوئے۔
قال الأبي: أي شفي الألم الذي أجده بهجوهم، واشتفي هو في نفسه. (إكمال إكمال المعلم: ۸/۳۹۷).
علامہ ابی رحمه الله فرماتے ہیں: یعنی کفار کی ہجو کی وجہ سے جو درد مجھے ہوا تھا اس سے حسان نے مجھے شفا دے دی، اور خود بھی شفا یاب ہوئے۔
اِسی طرح حضرت حسان بن ثابت
رضي الله عنه
نے حضرت ابن عباس رضی الله عنه کی شان میں کچھ اشعار پڑھے اور اس میں ان کی طرف شفا کی نسبت کی؛ لیکن اس کا مطلب بھی بیماری سے شفا نہیں ؛ بلکہ دل سے شک و شبہات کا ازالہ ہے:
(ديوان حسان بن ثابت: ۱/۱۶۸، ط: دار صادر بيروت، وكذا في المعجم الكبير: ۳۵۹۳، ۳/۸۹۸، والمستدرك للحاكم: ۶۳۱۶، ۳/۶۶۱، والاستذكار: ۴۱۳۰۷، ۲۷/۳۲۲، ومجمع الزوائد: ۱۵۵۲۶، ۹/۲۸۴، وطرح التثريب: ۱/۶۳).
ترجمہ: جب حضرت ابن عباس رضی الله عنه کسی بھی جگہ نمودار ہوتے ہیں، تو آپ ہر محفل میں ان کی فضیلت دیکھیں گے۔ جب وہ بات کہتے ہیں تو دوسروں کے لیے کچھ کہنے کی گنجائش نہیں چھوڑتے، اور ان کی بات ایسے منتخب اور رواں الفاظ سے ہوتی ہے جن کے درمیان کسی قسم کے تکیہ کلام وغیرہ سے آپ فاصلہ نہیں دیکھیں گے۔
دلوں میں جو بھی اشکالات ہوتے ہیں وہ ان سب کے لیے کافی شافی ہیں، کسی ذہین ترین انسان کے لیے بھی وہ سنجیدگی یا مذاق میں کوئی شک و شبہ نہیں چھوڑتے۔
آپ بغیر کسی مشقت کے بلندیوں پر پہنچ گئے، اور آپ نے بلندی کی چوٹیوں کو طے کر لیا ہے، اس حال میں کہ آپ رذیل اور نچلے درجے کے آدمی نہیں ہیں۔
آپ پیدائشی طور پر، محبت اور سخاوت کے سزاوار ہیں، دراں حالیکہ آپ فتح مند اور مقصد میں کامیاب ہیں، اور آپ کی خلقت میں بزدلی اور جہالت جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔
اس کے علاوہ اور بہت سی حدیثوں میں بھی شفا کی نسبت غیر اللہ کی طرف کی گئی ہے:
وإذا شك في نفسه شيء سأل رجلاً، فشفاه منه، وأوشك أن لا تجدوه، والذي لا إله إلا هو ما أذكر ما غبر من الدنيا إلا كالثغب شرب صفوه وبقي كدره. (صحيح البخاري: ۲۹۶۴، ۱/۴۱۶).
اور اگر تمہیں کسی معاملہ میں شبہ پیدا ہو جائے تو کسی عالم سے پوچھ لو، تاکہ تشفی ہو جائے، وہ دَور بھی آنے والا ہے کہ کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو صحیح صحیح مسئلہ بتا سکے، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! جتنی دنیا باقی رہ گئی ہے وہ تالاب کے اس پانی کی طرح ہے جس کا صاف اور اچھا حصہ تو پیا جا چکا ہے اور گدلا حصہ باقی رہ گیا ہے۔
قال العيني: أي: أزال مرض التردد فيه وأجاب له بالحق. (عمدة القاري: ۱۴/۲۲۶).
علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں: شفا کا مطلب تردد کو زائل کرنا اور صحیح جواب دینا ہے۔
ثم رجع إلى أبي ذر رضي الله عنه فقال له: رأيته يأمر بمكارم الأخلاق، وكلاماً ما هو بالشعر، فقال: ما شفيتني مما أردت، فتزود وحمل شنة له فيها ماء، حتى قدم مكة، أي لم تجبني بجواب يشفيني من مرض الجهل. (صحيح البخاري: ۳۸۶۱/۱/۵۴۵).
واپس لوٹ کر انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی، آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھرا ہوا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ آئے۔ یعنی مجھے ایسا جواب نہیں ملا جو میرے جہل کا علاج کرے۔
قال: فلدغ سيد ذلك الحي فشفوا له بكل شيء لا ينفعه شيء، فقال بعضهم: لو أتيتم هؤلاء الرهط الذين نزلوا بكم لعل أن يكون عند بعضهم شيء ينفع صاحبكم. (سنن أبي داود: ۳۴۱۸، ۲/۴۸۵). وقوله فشفوا له بكل شيء معناه عالجوه بكل شيء مما يستشفي به، والعرب تضع الشفاء موضع العلاج. قال الشاعر:
(معالم السنن: ۳/۱۰۱).
قبیلے کے سردار کو کسی موذی چیز نے ڈنک مارا تھا، انہوں نے ہر طرح سے علاج کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا، تب ان میں سے ایک نے کہا: اگر تم ان لوگوں کے پاس جاؤ جو یہاں آ کر قیام پذیر ہیں، تو ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو جو تمہارے ساتھی کو فائدہ پہنچائے۔ ہر طرح سے شفا دی کا مطلب یہاں بھی ہر طرح سے علاج کرنا ہے، اور عرب شفا کو علاج کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ ایک شاعر کا شعر ہے: میں یمامہ اور حجر کے کاہنوں کے فیصلے کو مان لوں گا؛ اگر انہوں نے میرا علاج کیا۔
فقلن مثل ما قالت، فرجعت إليه، فأخبرتها بقولهن، قال: فقالت: نعم وأشفيك، سمعت رسول الله ﷺ يقول: أهلوا يا آل محمد بعمرة في حج. (مسند أحمد: ۲۶۵۴۸، ۴۴/۱۷۲).
سب امہات المؤمنین نے وہی جواب دیا۔ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آیا، اور ان کو تمام امہات المؤمنین کے جواب سے آگاہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: ہاں میں تمہاری جہالت دور کرتی ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے آل محمد! عمرے کا حج کے ساتھ احرام باندھو۔
اِن آثار کی روشنی میں معلوم ہوا کہ شفا بمعنی علاج غیر اللہ کی طرف منسوب ہو سکتا ہے، اور بیماری کو ٹھیک کرنا اور علاج کو منزلِ مقصود تک پہنچانا صرف اللہ تعالی کا کام ہے۔
﴿وإذا مرضت فهو يشفين﴾ [الشعراء: ۸۰].
جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
فقال ثابت: يا أبا حمزة، اشتكيت، فقال أنس: ألا أرقيك برقية رسول الله ﷺ؟ قال: بلي، قال: اللهم رب الناس، مذهب البأس، اشف أنت الشافي، لا شافي إلا أنت، شفاء لا يغادر سَقَماً. (صحيح البخاري: ۵۷۴۲، ۲/۸۸۵).
ثابت رحمه الله نے کہا: اے ابو حمزہ! میری طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر کیوں نہ میں تم پر وہ دعا پڑھ کر دم کروں جسے رسول اللہ ﷺ پڑھا کرتے تھے، ثابت رحمه الله نے فرمایا: ضرور کیجیے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ دعا پڑھ کر دم کیا: اے اللہ! لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کرنے والے! شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ، ایسی شفا عطا فرما کہ بیماری بالکل باقی نہ رہے۔
فسمع جليس للملك كان قد عمي، فأتاه بهدايا كثيرة، فقال: ما هاهنا لك أجمع، إن أنت شفيتني، فقال: إني لا أشفي أحداً إنما يشفي الله، فإن أنت آمنت بالله دعوت الله فشفاك، فآمن بالله فشفاه الله. (صحيح مسلم: ۳۰۰۵، ۲/۴۱۵).
یہ حال جب بادشاہ کے درباری نے جو کہ اندھا ہو گیا تھا سنا، تو اس لڑکے کے پاس بہت سے تحفے لایا اور کہنے لگا کہ یہ سب مال تیرا ہے اگر تو مجھے شفا دے دے، لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا دینا تو اللہ تعالی کا کام ہے، اگر تو اللہ پر ایمان لائے تو میں اللہ سے دعا کروں گا تو وہ تجھے اچھا کر دے گا۔ وہ درباری اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ نے اس کو اچھا کر دیا۔
حدیثِ بالا: "
لا شافي إلا أنت"
اور اِس جیسی دوسری احادیث میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ علاج کو کامیابی سے ہمکنار کرنا صرف اللہ تعالی کا فعل ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ شفا کے دو معنی ہیں مرضِ جہل یا روحانی مرض کو دور کرنا؛ اس معنی میں شفا کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہوتی ہے کما مر، اور دوسرے معنی ظاہری بیماری سے شفا دینے کے ہیں؛ اگر یہ معنی مراد ہو تو اس شفا کی دو قسمیں ہیں: ایک علاج معالجہ کرنا، یہ غیر اللہ کی طرف منسوب ہو سکتا ہے، جس کی مثالیں بیان ہوئیں اور دوسرے معنی علاج کو منزلِ مقصود تک پہنچانا اور تندرستی بخشنا یہ معنی اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے، رسول اللہ ﷺ کی طرف شفا کی نسبت پہلے معنی اور دوسرے معنی پر محمول ہے تیسرا معنی مراد نہیں۔
۲۔ حضور ﷺ کو "
كاشف الغمة، كاشف الكرب
اور
صاحب الفرج"
کہنے کی دو صورتیں ہیں:
الف:
كاشف الضر
صرف اللہ تعالی کی ہی ذات ہے اور غیر اللہ کے لیے اِس لفظ کو اگر اِس یقین کے ساتھ کہے کہ وہ آدمی بذاتِ خود ما فوق الاسباب، مشکل کو دور کرتا ہے تو یہ شرک ہے۔
ب؛ لیکن اگر کوئی ایسا عقیدہ رکھے کہ کوئی آدمی ما تحت الاسباب مشکل کو دور سکتا ہے اور اس کو اس مناسبت سے
كاشف الضر
کہے تو یہ جائز ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھ میں تکلیف تھی، اور آپ ﷺ کے مس سے ٹھیک ہو گئی؛ لیکن اِس قسم کے الفاظ سے پرہیز کرنا اچھا ہے اور خصوصاً عوام کو جو اِن باریک باتوں میں امتیاز نہیں کر سکتے، ان لوگوں کو اس قسم کے عقائد و الفاظ سے کلی اجتناب کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ حضور ﷺ کی طرف تکلیف دور کرنے کی نسبت بھی ماتحت الاسباب صحیح ہے، مثلاً: بھوک کی تکلیف میں مدد کی یا بیماری کا علاج فرمایا۔
ہاں غیر اللہ کو مافوق الاسباب متصرف ماننا اور اس سے حاجت مانگنا ناجائز اور حرام ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
﴿إنا سنلقي عليك قولاً ثقيلاً﴾،
اس میں ثقیلًا کے ساتھ مختلف تشریحات لگائی جا سکتی ہیں:
۱
) ثقيل نزوله،
۲
) ثقيل تجويده وتلاوته،
۳
) ثقيل علمه،
۴
) ثقيل تحمله،
۵
) ثقيل دعوته،
٦
) ثقيل أجره وثوابه،
۷
) ثقيل وزنه في ميزان الحسنات،
۸
) ثقيل توحيده.
قرآنِ کریم کی توحید کہ ما فوق الاسباب ایک اللہ تعالی ہی سے اپنی حاجات مانگنا چاہیے، اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے بس میں یہ نہیں کہ ما فوق الاسباب مدد کر سکے، یہ قرآن کریم کا موضوع ہے جو اول سے آخر تک چلتا ہے، سورۂ فاتحہ جو متن قرآن ہے اس میں
"إياك نعبد وإياك نستعين"
ہم نماز میں بار بار پڑھتے ہیں، کہ غائبانہ ما فوق الاسباب کام بنانے اور بگاڑنے والا اللہ تعالی ہی ہے، اس لیے غیر اللہ سے ما فوق الاسباب مدد مانگنے کی ممانعت میں بے شمار آیات اور احادیث موجود ہیں:
﴿ولا تدع من دون الله ما لا ينفعك ولا يضرك فإن فعلت فإنك إذاً من الظالمين﴾ [يونس: ۱۰۶].
﴿ومن أضل ممن يدعو من دون الله من لا يستجيب له إلى يوم القيامة وهم عن دعائهم غافلون﴾ [الأحقاف: ۵].
﴿إن الذين تدعون من دون الله عباد أمثالكم فادعوهم فليستجيبوا لكم إن كنتم صادقين﴾ [الأعراف: ۱۹۴].
﴿والذين تدعون من دونه ما يملكون من قطمير، إن تدعوهم لا يسمعوا دعائكم ولو سمعوا ما استجابوا لكم ويوم القيامة يكفرون بشرككم ولا ينبئك مثل خبير﴾ [الفاطر: ۱۳، ۱۴].
﴿أمن يجيب المضطر إذا دعاه ويكشف السوء ويجعلكم خلفاء الأرض أإله مع الله قليلاً ما تذكرون﴾ [النمل: ۶۲].
ما تحت الاسباب کسی سے مدد مانگنے کی اجازت ہے:
﴿من أنصاري إلى الله﴾ [الصف: ۱۴]، ﴿إن تنصروا الله ينصركم ويثبت أقدامكم﴾ [محمد: ۷]، ﴿آتوني زبر الحديد﴾ [الكهف: ۹۶]
، اور اس طرح بے شمار نصوص سے ثابت ہے۔
قلت: كاشف الضر في الحقيقة هو الله تعالى إما بواسطة الأسباب أو بغيرها. (
روح البیان: ۳/۲۳)۔
ومنها إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر. (البحر الرائق: ۲/۲۹۸).
اللہ تعالی کے سوا کسی مخلوق سے مافوق الاسباب افعال سرزد ہونے کا عقیدہ رکھنا شرک ہے؛ کیوں کہ اس صفت کے ساتھ مخلوق کے مصائب اور مشکلات دور کرنا اللہ تعالی کا خاصہ ہے؛ البتہ اگر حضرت علی رضی الله عنه کو مجازاً مشکل کشا کہا جائے تو اس سے شرک لازم نہیں آتا؛ تاہم عوام جو اس امتیاز کو پہچان نہیں سکتے، ان کو اس قسم کے عقائد رکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (فتاوی حقانیہ: ۱/۱۹۱)۔
ایں الفاظ بہ اعتقاد حاضر و ناظر عالم الغیب گفتن شرک جلی است و بطور عشق و محبت گفتن جائز است، و پیغمبر ﷺ را مشکل کشا گفتن بائیں معنی کہ از جانبِ خدا برائے حلِ مشکلات مقرر است کذب و کفر است، و بائیں معنی کہ بتوسل و دعائے او مشکلات حل می شوند صدق و جائز است۔ (فتاوی فریدیہ: ۱/۷۲)۔
پوچھا علی مشکل کشا کہنا کیسا ہے، فرمایا تاویلاً جائز ہے، یعنی مشکلات علمیہ کے حل کرنے والے؛ مگر عوام کے لیے موہوم ضرور ہے اس واسطے خلاف ہے۔ (اشرف الاحکام: ۴۷)۔
تنبیہ: ان الفاظ کے جواز کی توجیہ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ استغاثہ جائز ہے، استغاثہ اور توسل میں زمین آسمان کا فرق ہے، غیر اللہ سے استغاثہ بالکل حرام ہے جیسا کہ اوپر کی تقریر سے معلوم ہوا؛ جب کہ توسل کے جواز پر اہلِ سنت و الجماعت متفق ہیں۔ (الدرۃ الفردۃ شرح قصیدۃ البردۃ ۲/۶۵۴، امداد الفتاوی ۵/۱۰۱، نشر الطیب ۲۴۷، کفایت المفتی ۱/۴۱۶، المہند علی المفند ۴۲، فتاوی محمودیہ ۳/۱۰۵، توسل و استغاثہ بغیر اللہ اور غیر مقلدین کا مذہب)۔
۳۔ "
اللهم صل على سيدنا محمد
. منتهي علمك
اور
وارحم سيدنا محمداً حتى لا يبقي من الرحمة شيء"
روایات میں بھی وارد ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ حقیقی معنی مراد نہیں ؛ بلکہ یہ کنایہ ہے کثرت سے اور اس طرح کی عبارات مبالغہ پر محمول ہوا ہی کرتی ہیں۔
وأخبرنا أبو القاسم الحرفي، أخبرنا أحمد بن سليمان، حدثنا عبد الله، قال محمود بن غيلان: حدثنا أبو أسامة، حدثني خالد بن محدوج أبو روح، قال: سمعت أنس بن مالك يقول: إن داود نبي الله ﷺ ظن في نفسه أن أحداً لم يمدح خالقه أفضل مما مدحه، فإن ملكاً نزل وهو قاعد في المحراب والبركة إلى جنبه، فقال: يا داود افهم إلى ما يصوت الضفدع، فأنصت داود إذا الضفدع يمدحه بمدحة لم يمدحه بها داود. فقال له الملك: كيف تري يا داود؟ فهمت ما قالت؟ قال: نعم. قال: ما ذا قالت؟ قال: قالت: سبحانك وبحمدك منتهي علمك يا رب. قال داود: لا، والذي جعلني نبيه إني لم أمدحه بهذا. (شعب الإيمان: ٦/۳۲۰/٤۲٦۱).
حدثنا محمد بن حموس بن نصر القطان الهمداني، ثنا عمر بن حفص الوصابي الحمصي، ثنا سعيد بن موسى الأزدي، عن سفيان الثوري، عن عمرو بن دينار، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنه قال: جاءوا برجل إلى النبي ﷺ فشهدوا عليه أنه سرق ناقة لهم، فأمر به النبي ﷺ أن يقطع فولي الرجل وهو يقول: اللهم صل على محمد حتى لا يبقي من صلاتك شيء، وبارك على محمد حتى لا يبقي من بركاتك شيء، وسلم على محمد حتى لا يبقي من السلام شيء، فتكلم الجمل فقال: يا محمد إنه بريء من سرقتي. (كتاب الدعاء للطبراني: ۱/۳۲۲/۱۰۵۵).
٤۔ دلائل الخیرات کے بارے میں بعض علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کو ذہن میں خلجان ہو تو ان موہم عبارات کو چھوڑ کر غیر موہم عبارات استعمال کرے۔
۵۔ اللہ تعالی کے لیے لفظِ حاضر کے استعمال کا وہی مطلب ہے جو آیت
﴿وهو معكم أين ما كنتم﴾
کا ہے۔
اللہ تعالی کے لیے لفظِ ناظر کا وہ مطلب نہیں جو معتزلہ لیتے ہیں؛ بلکہ ایک حدیث میں آتا ہے
"فناظر كيف تعملون"
وہ مطلب مراد ہوتا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے نظر کے اطلاق سے نصوص بھری پڑی ہیں:
وكان فيما قال: إن الدنيا حلوة خضرة، وإن الله مستخلفكم فيها فناظر كيف تعملون، ألا فاتقوا الدنيا واتقوا النساء. (سنن الترمذي: ۲۱۹۱).
باب ما جاء في النظر، قال الله تعالي: عسى ربكم أن يهلك عدوكم ويستخلفكم في الأرض فينظر كيف تعملون. [الأعراف: ۱۲۹]، وقال: إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمناً قليلاً أولئك لا خلاق لهم في الآخرة ولا يكلمهم الله ولا ينظر إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم.
[آل عمران: ۷۷]۔ (کتاب الأسماء والصفات للبیہقی: ۲/٤۲٤)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2956
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2956