مسلمانوں کا مقرر کردہ قاضی حکمِ لعان کو نافذ کر سکتا ہے یا نہیں ؟
Question
وہ قاضی جو حکومت کی جانب سے مقرر نہ ہو بلکہ مسلمانوں نے آپس میں مل کر کسی کو امیر المؤمنین بنایا ہو اور اس نے کسی کو قاضی مقرر کیا ہو، کیا ایسا قاضی لعان کا حکم نافذ کر سکتا ہے یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ کتبِ فقہ اور فتاوی سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا مقرر کیا ہوا قاضی فسخ و تفریق وغیرہ کے احکام نافذ کر سکتا ہے۔ لیکن لعان چونکہ مرد کے لیے حدِ قذف اور عورت کے لیے حدِ زنا کا قائم مقام ہے اور حدود اور قصاص دار الاسلام میں حکومت کا مقرر کردہ قاضی نافذ کر سکتا ہے جماعۃ المسلمین کی طرف سے مقرر شدہ والی اور قاضی یہ کام نہیں کر سکتا۔
قاضی مجاہد الاسلام صاحب کی حیات پر مرتب شدہ کتاب میں مفتی خالد سیف اللہ رحمانی لکھتے ہیں:
قاضی صاحب کی آمد سے پہلے دار القضاء امارتِ شرعیہ میں یہ معمول تھا کہ اگر شوہر بیوی کے خلاف بد چلنی کا الزام لگاتا تو لعان کرایا جاتا پھر نکاح فسخ کرایا جاتا، قاضی صاحب کا نقطہ نظر تھا کہ لعان فقہاء کے نزدیک شوہر کے حق میں حد قذف اور عورت کے حق میں حد زنا کے قائم مقام ہے اور حدود دار الاسلام میں جاری ہوتے ہیں نہ کہ دار الکفر میں۔ (حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، حیات و افکار و آثار، ص
٦۲
)۔
نیز اکابرین کے فتاوی میں بھی یہ بات مرقوم ہے کہ لعان کے لیے اسلامی حکومت یا مسلمان حاکم کا ہونا ضروری ہے دار الکفر میں حکمِ لعان نافذ نہ ہوگا۔ چند حوالے ملاحظہ کیجیے:
امداد المفتین میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله رقم طراز ہیں:
سوال: ہندوستان میں اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے قضاۃ نہیں ہیں تو بجائے قاضی کے کسی کو حق ہے کہ میاں بیوی کے درمیان لعان کے بعد تفریق کر سکے آیا علماء یا حاکمِ وقت یا مسلمانوں کی کوئی جماعت مثلاً: پنچایت وغیرہ اس کے مجاز ہو سکتے ہیں یا نہیں ؟
الجواب: دار الحرب میں لعان نہیں ہو سکتا اس کے لیے دار الاسلام ہونا شرط ہے۔
صرح به الشامي، وقال في الدر المختار: فمن قذف بصريح الزنا في دار الإسلام زوجته الحية بنكاح صحيح الخ، قال الشامي: أخرج دار الحرب لانقطاع الولاية.
البتہ اگر حاکمِ وقت مسلمان ہو اگر چہ حکومت غیر مسلمہ کا مامور و ملازم ہو اور با قاعدہ شرعیہ لعان کرائے تو لعان ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی بحکمِ قاضی ہے۔ (کما صرح بہ فی رد المحتار من باب القضاء) اور دار الحرب میں لعان نہ ہونے کا حکم جو شامی میں مذکور ہے وہ انقطاعِ ولایت کی وجہ سے ہے، جب حکومت کی طرف سے کوئی مسلمان مامور ہو کر لعان کرائے تو انقطاعِ ولایت نہ رہا۔
احقر نے اپنے اس خیال کو سیدی حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں بھی عرض کیا تھا حضرت نے بھی تصویب فرمائی اور بدائع الصنائع کی عبارت سے اس کی توضیح و تائید ہو گئی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، جلد دوم، ص
۵۷۵
، ط: دار الاشاعت)۔
مذکورہ بالا سوال و جواب کو فتاوی دار العلوم دیوبند جلدِ اول، ص ۵۲٦ پر بحوالہ مفتی محمد شفیع صاحب نقل کیا ہے۔ نیز کفایت المفتی کے حاشیہ (
٦
/
۲۷۲
) میں بھی نقل کیا ہے۔ فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
لعان کے لیے دار الاسلام شرط ہے، لہذا ہندوستان میں لعان واجب نہیں :
و يشترط أيضاً كون القذف بصريح الزنا، وكونه في دار الإسلام. رد المحتار:
۳
/
٤۸۳
، سعيد. (
فتاوی محمودیہ:
۱۳
/
۳۳۸
، جامعہ فاروقیہ)۔ مزید ملاحظہ کیجیے: (کتاب الفتاوی:
٦
/
۵٤
)۔
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
وأما بلاد عليها ولاة كفار فيجوز للمسلمين إقامة الجمع والأعياد ويصير القاضي قاضياً بتراضي المسلمين فيجب عليهم أن يلتمسوا والياً مسلماً منهم
وفي الفتح: وإذا لم يكن سلطان ولا من يجوز التقلد منه كما هو في بعض بلاد المسلمين غلب عليهم الكفار كقرطبة الآن يجب على المسلمين أن يتفقوا على واحد منهم يجعلونه والياً فيولي قاضياً ويكون هو الذي يقضي بينهم وكذا ينصبوا إماماً يصلي بهم الجمعة وهذا الذي يطمئن النفس إليه فليعتمد. (فتاوى الشامي: ۵/۳٦۹، سعيد). (وكذا في فتح القدير: ۷/۲٦٤، ط: دار الفكر).
فتاوى تاتارخانية
میں ہے:
وأما بلاد عليها ولاة كفار يجوز للمسلمين إقامة الجمعة والأعياد ويصير القاضي قاضياً بتراضي المسلمين ويجب عليهم أن يلتمسوا والياً مسلماً. (الفتاوى التاتارخانية: ۵/۳۲٦).
فتاوی تاتارخانیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی رضامندی سے قاضی مقرر ہو سکتا ہے۔
اسی طرح البحر الرائق (
٦
/
۲۹۸
)، و فتاوی الشامی (
۲
/
۱٤٤
، سعیدو
٤
/
۱۷۵
، سعید) و حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص: باب الجمعۃ) اور فتاوی ہندیہ (
۱
/
۱٤٦
، بحوالہ معراج الدرایہ) میں مرقوم ہے۔
اسلامی عدالت میں قاضی مجاہد الاسلام صاحب نے تحریر فرمایا ہے:
چوتھی صورت یہ ہے کہ ملک پر غلبہ کفار کا ہو چکا ہے اقتدار کسی غیر مسلم بادشاہ اور مطلق العنان حکم ران کاہو یا کسی ایسی جمہوری حکومت کا جس میں عملاً اقتدار غیر مسلموں کے ہاتھوں میں ہو۔ اس صورت میں مسلمانوں پر واجب ہوگا کہ وہ اپنا ایک امیر منتخب کر لیں تاکہ وہ اجتماعی زندگی گزار سکیں اور اس امیر کی طرف سے تفویض قضا درست ہو گی، نیز اس طرح ممکن حد تک مسلمانوں پر شریعتِ اسلامی جار ی ہو سکے گی اور تعطیل احکامِ شرع نیز انتشار و افتراق کے گناہ سے بچا جا سکے گا۔ اور اگر خدا نہ خواستہ مسلمان کسی امیر کے انتخاب پر متفق نہیں اور اربابِ حل و عقد کسی شخص کو قاضی مقرر کرنے پر اتفاق کر لیں تو یہ بھی درست ہوگا۔ (اسلامی عدالت، حصہ اول، ص
۱۷۸
،
۱۷۹
، ط: قاضی پبلشرز)۔
فتاوی رحیمیہ میں مذکور ہے: جہاں حکومت کی جانب سے اس قسم کا انتظام نہ ہو، اور عامہ مسلمین اس قسم کے معاملات کے تصفیہ کے لیے اہل علم اور معاملہ فہم کی کم از کم تین افراد پر مشتمل پنچایت قائم کریں، تو اس کا فیصلہ بھی قضائے قاضی کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔ (فتاوی رحیمیہ:
٤
/
۵٤۸
، ط: مکتبۃ الاحسان، دیوبند)۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
عبارتِ تاتارخانیہ وغیرہ سے جو علامہ شامی رحمه الله نے نقل کی ہے، یہی معلوم ہوتا ہے کہ تراضی مسلمین سے جو قاضی مقرر ہوتا ہے اس کو فصل خصومات میں حکم قاضی شرعی کاہے، البتہ صاحب فتح القدیر نے اس میں تحقیق فرمائی ہے کہ اول والی مسلم مقرر کر لیں، پھر وہ والی قاضی کو مقرر کرے، اس میں شک نہیں ہے کہ یہ پورے اطمینانِ نفس کی بات ہے،
كما قال صاحب النهر
۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند:
۱۰
/
۲٤۷
، مدلل و مکمل)۔
لیکن فتاوی خلیلیہ میں مرقوم ہے کہ تراضی مسلمین سے شرعی قاضی نہیں بنے گا اس لیے کہ حکومت کا دبدبہ اس کے پاس نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی خلیلیہ میں مرقوم ہے:
قاضی کے لیے صاحب حکومت ہونا ضروری ہے کیوں کہ قضا کے معنی ہی حکم کے ہیں لغۃً اور شرعاً بھی حکومت رکن قضا ہے، در مختار میں ہے:
وأركانه ستة على ما نظمه ابن الفرس: حكم ومحكوم به وله ومحكوم عليه وطريق. در مختار مع الشامي (٤/٤٦۱)
اور ظاہر ہے کہ جس شخص کو رعایا از خود قاضی بنائے گی وہ صاحب حکومت نہ ہوگا، لہذا وہ قاضی شرعی بھی نہ ہوگا، عالمگیری میں ہے:
وإذا اجتمع أهل بلدة على رجل وجعلوه قاضياً يقضي بينهم لا يصير قاضياً. (٤/۱٦٤)
لہذا مسلمانانِ ہند پر واجب ہے کہ وہ گورنمنٹ سے درخواست کریں کہ مسلمان قاضی مقرر کر دے جوان مسائل کو جن میں قضائے قاضی کی شرعاً ضرورت ہے شریعت کے موافق فیصلہ کیا کرے۔ اور ان قاضیوں کے لیے صاحب حکومت ہونا ضروری ہے۔ (فتاوی خلیلیہ:
۱
/
۲۵۳
، ط: مکتبۃ الشیخ)۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: امداد الاحکام: ٤/۸۸۔ ۹٦، رسالہ "
القول الماضي في نصب القاضي".
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2995
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2995