پہاڑ و ںپر درخت کاٹنے سے روکنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 8 #111Urdu

Question

ایک بستی کے قریب ایک پہاڑ ہے جس میں مختلف درخت لگے ہوے ہیں، بستی کے ذمہ دار حضرات نے اس پہاڑ کے درخت کاٹنے پر پابندی لگائی ہے، لیکن بعض لوگ چوری چھپے کاٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ مباحات میں سے ہیں اس لیے پابندی بے جا ہے، کیا پابندی کے باوجود درخت کاٹنا جائز ہے یا نہیں ؟

Answer

بستی کے ذمہ داروں کو جب لوگوں نے امیر تسلیم کر لیا ہے تواب وہ حاکم کی طرح ہو گئے، اور مسلمان پر شرعی حاکم کی بات ماننا از روئے شریعت لازم اور ضروری ہے جب تک وہ خلاف شریعت حکم نہ دے ہاں خلاف شریعت امور میں ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔
بنا بریں ممنوعہ پہاڑ سے درخت کاٹنا جائز نہیں ہوگا۔ اس مسئلہ کے چند نظائر حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
(۱) مدرسہ کا مہتمم، اس کی اطاعت لازم اور ضروری ہے اس لیے کہ وہ من وجہ عامل اور حاکم کی طرح ہے حتی کہ نہ ماننے کی صورت میں ان کو تعزیر کا حق ہے۔
(۲) مدینہ منورہ کے ایک خاص مقام کے شکار اور وہاں کے درخت کاٹنے سے نبی پاک ﷺ نے منع فرمایا تھا، احناف کے نزدیک اس سے مراد حرم اصطلاحی نہیں ہے بلکہ ایک خاص مصلحت کی وجہ سے منع فرمایا تھا، معلوم ہوا کہ کسی مصلحت کی بنا پر حاکم امر مباح سے روک سکتا ہے۔
(۳) احناف کے نزدیک مدینہ منورہ کا حرم حرمِ اصطلاحی نہیں ہے بلکہ حرمِ لغوی ہے، اس میں شکار کرنا، درخت کاٹنا سب جائز ہے، لیکن کسی مصلحت کی وجہ سے مثلاً شہر کی خوبصورتی اور زینت کو بر قرار رکھنے کے لیے اگر حاکم پابندی لگائے تو اس کی اطاعت واجب ہے۔

قال الله تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم﴾

ومن الناس من يقول: إن الأظهر من أولي الأمر ههنا أنهم الأمراء

(أحكام القرآن، للجصاص: ۲/۲۱۰، ط: سهيل اكيدمي).
باب حرم المدينة

عن أنس رضي الله تعالى عنه عن النبي ﷺ قال: المدينة حرم من كذا إلى كذا لا يقطع شجرها ولا يحدث فيها حدث فمن أحدث فيها حدثاً فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين

(رواه البخاري، رقم: ۱۸٦۷).
وقال الثوري وعبد الله بن المبارك وأبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد: ليس للمدينة حرم كما كان لمكة فلا يمنع أحد من أخذ صيدها وقطع شجرها وأجابوا عن الحديث المذكور بأنه إنما قال ذلك لا لأنه لما ذكروه من تحريم صيد المدينة وشجرها بل إنما أراد بذلك بقاء زينة المدينة ليستطيبوها ويألفوها

وذلك كمنعه من هدم آطام المدينة وقال: إنها زينة المدينة على ما رواه الطحاوي

عن نافع عن ابن عمر رضي الله عنه قال: نهي رسول الله ﷺ عن آطام المدينة أن تهدم، وفي رواية لا تهدموا الآطام فإنها زينة المدينة. وهذا إسناد صحيح. (عمدة القاري: ۷/۵٦۹، دار الحديث، ملتان).
وينظر: (مرقاة المفاتيح: ٦/۲۷، مكتبه إمدادية، ملتان).
أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع وإلا فلا. أي يتبع ولا يجوز مخالفته

وفي ط: عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلاً عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم يوم وجب

الخ. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٤۲۲، سعيد).

منتخبات الفتاوی میں ہے:
مہتمم مدرسہ سلطان کے وصفِ ثانی (جس کا حاصل انتظام امور شرعیہ عامہ للمسلمین ہے) میں سلطان کا قائم مقام ہوگا۔ (منتخبات نظام الفتاوی، ص
۹۸
، اصلاحی کتب خانہ دیوبند)۔
حاجیوں کے خلاف قانون سامان لانے کے بارے میں فقیہ الامت فرماتے ہیں:
جب سعودی حکومت میں کوئی شخص داخل ہو تو اس کو سعودی قانون کی پابندی لازم ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۰
/
٤٤۸
، جامعہ فاروقیہ)۔ مزید ملاحظہ کیجیے: (احسن الفتاوی:
۵
/
۵۰۹
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.