نبی ﷺ کی استہزائی تصویر شائع کرنے والے کا حکم:
Question
اگر کسی مسلم جج نے یہ فیصلہ کیا کہ "اخبار میں نبی کریم ﷺ کا کارٹون (مزاحیہ تصویر) بنا کر شائع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے" حالانکہ وہ اسے روک سکتا تھا، ایسے آدمی کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کا استہزا موجبِ کفر ہے، اور استہزا کو درست سمجھنا بھی کفر ہے، لہذا اگر جج نے نبی کریم ﷺ کے استہزا کو درست قرار دیا تو یہ کفر ہے۔ اس سے جلد از جلد توبہ کرنی چاہیے اور دوبارہ اسلام کا کلمہ پڑھنا چاہیے۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
والكافر بسب نبي من الأنبياء
وفي فتاوى المصنف: ويجب إلحاق الاستهزاء والاستخفاف به لتعلق حقه أيضاً
وفي فتاوى الشامي: مطلب مهم في حكم ساب الأنبياء قوله:
وقال ابن سحنون المالكي: أجمع المسلمون أن شاتمه كافر وحكمه القتل ومن شك في عذابه وكفره كفر
وحاصله أنه نقل الإجماع على كفر الساب. (فتاوى الشامي: ٤/۲۳٤، سعيد).
وقال في شرح العقائد: والاستهزاء على الشريعة كفر. (شرح العقائد، ص ۱٦۷، ط: مكتبه خير كثير).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3045
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3045