تابعی جلیل حضرت ربیع بن صبیح رحمه الله کی قبر کی تحقیق:
Question
حضرت ربیع بن صبیح رحمه الله کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کا انتقال ہندوستان کے صوبہ گجرات میں بھروچ کے قریب بھاڑ بھوت نامی ایک بستی میں ہوا، یہ جگہ سمندر کے ساحل پر ہے، اب یہاں دو سوال پیش خدمت ہیں؛ (۱) اِس زمانہ میں یہ حصہ سندھ میں ہے یا ہند میں؟ (۲) حضرت ربیع بن صبیح رحمه الله روایتِ حدیث میں ضعیف ہیں یا ثقہ؟ بینوا بالدلیل توجروا بالاجر الجزیل ۔
Answer
(۱) اکثر و بیشتر کتبِ تاریخ و کتبِ اسمائے رجال میں یہ بات مرقوم ہے کہ حضرت ربیع بن صبیح رحمہ اللہ تعالی کی وفات سندھ میں ہوئی ہے ۔ حافظ ذہبی رحمه الله نے سیر اعلام النبلاء اور الکاشف میں اور امام بخاری رحمه الله نے کتاب الضعفاء میں ان کی وفات سندھ میں لکھی ہے ۔ ہاں بعض حضرات نے ہند میں بھی لکھی ہے، ابن سعد نے "الطبقات الکبری" میں
"خرج غازياً إلى الهند"
لکھا ہے، دونوں میں تطبیق کی دو صورتیں ہیں؛
و سندھکا سنگم و سندھ کا سنگم ہو تو کسی نے سند کہا اور کسی نے ہند، جیسے کابل کے بارے میں بعض سجستان کا شہر اور بعض خراسان کا شہر لکھتے ہیں گویا کہ وہ سنگم پر واقع ہے۔
ہند کبیر (ب) یا سندھ ہند کبیر کا حصہ ہو جیسے یوپی انڈیا اور آج کل سندھ پاکستان کا حصہ ہے اگر چہ سندھ کی علمی حیثیت کی وجہ سے اس کی اپنی حیثیت بھی تھی۔ حوالہ جات ملاحظہ کیجیے:
قال الإمام الذهبي في سير أعلام النبلاء: توفي بالسند سنة ستين ومائة. (۷/۲۸۸، رقم الترجمة: ۸۷).
وقال في الكاشف: الربيع بن صبيح السعدي عن الحسن وعطاء وعنه، ابن مهدي، وعلي بن الجعد وكان صدوقاً غزا عابداً ضعفه النسائي، توفي
۱٦۰
هـ بالسند. (الكاشف: ۱/۲۳٦، ط: بيروت).
وقال الإمام المزي في تهذيب الكمال: قال محمد بن المثني وغيره مات سنة ستين ومائة بأرض السند.
وقال في حاشية تهذيب الكمال: وكذلك قال ابن سعد، ويحيى بن معين، وخليفة، والبخاري، وابن حبان، وابن زبر، وغيرهم، وكان المهدي قد سير جيشاً في البحر بقيادة عبد الملك بن شهاب المسمعي إلى بلاد الهند، فحاصر الجيش مدينة باربد وفتحها عنوة، وكان الربيع بن صبيح رحمه الله في هذا الجيش، فأصابهم مرض في العودة توفي فيه الربيع، فدفن في إحدى جزر البحر، قال ابن سعد: خرج غازياً إلى الهند في البحر، فمات فدفن في جزيرة من جزائر البحر سنة ستين ومائة في أول خلافة المهدي، أخبرني بذلك شيخ من أهل البصرة كان معه. [الطبقات: ۷/۲۷۷]، وانظر تاريخ الطبري [۸/۱۲۸]، ووفيات ابن زبر الورقة
۵۱
. (تهذيب الكمال مع التعليقات: ۹/۹٤).
وقال ابن سعد: الربيع بن صبيح ويكني أبا حفص مولي لبني سعد بن زيد مناة بن تميم خرج غازياً إلى الهند في البحر فمات فدفن في جزيرة من جزائر البحر سنة ستين ومائة في أول خلافة المهدي
وكان ضعيفاً في الحديث وقد روي عنه الثوري وأما عفان فتركه فلم يحدث منه. (الطبقات الكبري: ۷/۲۷۷، دار صادر، بيروت).
مزید ملاحظہ کیجیے: (
تهذيب التهذيب: ۳/۲۲۲، وكتاب الضعفاء الصغير للإمام البخاري، ص ٤۷، ونزهة الخواطر: ۱/۷۰، والمغني في ضبط الأسماء للشيخ محمد طاهر بن على الفتني، ص ۱۷٤).
مولانا قاضی اطہر مبارک پوری اسلامی ہند کی عظمتِ رفتہ میں لکھتے ہیں:
امام ربیع کی جائے وفات اور مدفن: غزوۂ باربد کی تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ غزوہ بلاد الہند کے ایک شہر باربد میں ہوا، جواس زمانہ میں ایک راجہ کی راجدھانی تھا اور امام ربیع بن صبیح مع دوسرے ایک ہزار مجاہدین اسلام کے اسی جگہ یا اس کے قریب کہیں وبائی مرض میں انتقال کر گئے اور جائے انتقال ہی پر ان کی تجہیز و تکفین ہوئی، ان حضرات کے ہندوستان میں باربد یا اس کے آس پاس انتقال کرنے کے شواہد یہ ہیں:
طبری نے لکھا ہے:
وفيها وجه المهدي عبد الملك بن شهاب المسمعي في البحر إلى بلاد الهند.
یعنی ۱۵۹ ھ میں مہدی نے عبد الملک بن شہاب مسمعی کو بحری راہ سے بلادِ ہند کی طرف روانہ کیا۔
پھر آگے چل کر لکھا ہے:
فمضوا لوجههم حتى أتوا باربد من بلاد الهند.
یہ لوگ چلے اور سیدھے بلادِ ہند کے شہر باربد میں پہنچ گئے۔
ابن اثیر نے الکامل میں لکھا ہے کہ مہدی نے ۱۵۹ ھ میں بحری راہ سے ایک فوجی مہم جس کے امیر عبد الملک بن شہاب مسمعی تھے بلادِ ہند کو روانہ کی، اس میں بہت سے فوجی اور مطوعہ کے رضا کار شامل تھے، ان میں ربیع بن صبیح بھی تھے اور یہ لوگ باربد آئے۔
امام ذہبی رحمه الله نے
العبر في خبر من غبر
میں لکھا ہے ۱٦۰ ھ میں مسلمانوں نے عبد الملک مسمعی کی زیر قیادت ہندوستان کا ایک بہت بڑا شہر فتح کیا۔
اسی طرح دوسرے مؤرخوں نے ہندوستان کے غزوۂ باربد کا حال لکھا ہے اور امام ربیع کی وفات اسی سلسلہ میں بتائی ہے، مگر ان کے مدفن کی تعیین تاریخی دلائل و شواہد کی روشنی میں نہیں ہو سکی کہ کس مقام میں ان کی وفات ہوئی اور کس جگہ وہ دفن کیے گئے، علامہ ابن سعد رحمه الله نے طبقات میں لکھا ہے:
خرج غازياً إلى الهند
الخ.
ربیع غزوۂ ہند کے لیے ہندوستان گئے اور ۱٦۰ ھ میں مہدی کے ابتدائی دورِ خلافت میں اسی اثنا میں فوت ہو گئے اور اس کے جزیروں میں سے ایک جزیرہ میں دفن کیے گئے اس کی خبر مجھے بصرہ کے ایک شیخ نے دی ہے جوان کے ساتھ تھے۔
ابن سعد کا یہ بیان اس لیے بہت ہی ثقہ اور معتمد ہے کہ اسے انہوں نے بصرہ کے ایک ایسے بزرگ کی زبانی سنا ہے جو خود امام ربیع کے ساتھ جنگِ باربد میں شریک تھے، علامہ ابن سعد کی اسی تحقیق اور روایت کو علامہ بلاذری نے فتوح البلدان میں یوں تسلیم کیا ہے،
وكان خرج غازياً إلى الهند في البحر فمات فدفن في جزيرة من الجزائر سنة ستين ومائة. (فتوح البلدان، ص ۳٦۲)
ربیع بحری راہ سے ہندوستان کی طرف جہاد کے لیے نکلے اور اسی اثنا میں ۱٦۰ ھ میں فوت ہوے اور ایک جزیرے میں دفن کیے گئے۔
امام ذہبی رحمه الله نے غزوۂ ہند سے واپسی پر ربیع کے فوت ہونے کی یوں تصریح کی ہے:
وتوفي في غزوة الهند في الرجعة بالبحر الربيع بن صبيح صاحب الحسن.
ربیع بن صبیح صاحب الحسن رحمه الله غزوۂ ہند کے بعد براہِ سمندر واپسی پر فوت ہوے۔
اور یہی عبارت علامہ ابن عماد حنبلی نے بھی شذرات الذہب میں ۱٦۰ ھ کے واقعات میں لکھی ہے۔
ان تمام مؤرخوں اور تذکرہ نویسوں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ربیع کی جائے وفات اور مدفن خود باربد یا اس کے اور سمندر کے درمیان کوئی جزیرہ اور ٹاپو ہے گجرات کے مسلمانوں میں اب تک عام طور سے مشہور ہے کہ بھاڑ بھوت ضلع بھروچ اور راندیر ضلع سورت میں کسی تابعی کا مزار ہے، بلکہ راندیر میں ایک خاص مزار کو تابعی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، مگر یہ محقق نہیں ہے، ظاہر ہے کہ ان ہی دونوں جگہوں میں سے کسی میں یا آس پاس حضرت ربیع بن صبیح رحمه الله اور دوسرے ہزاروں مجاہدینِ اسلام آسودۂ خواب ہیں، غالب گمان یہ ہے کہ یہ مقدس خطہ بھاڑ بھوت یا اس کے قریب کہیں ہوگا۔
ربیع بن صبیح کے ہندوستان میں فوت ہونے کی ان تمام تصریحات کے علی الرغم امام بخاری رحمه الله نے ان کی جائے وفات سندھ کو بتایا ہے، تاریخ کبیر میں فرماتے ہیں:
مات سنة ستين ومائة بارض السند.
ربیع ۱٦۰ ھ میں سرزمین سند ھ میں فوت ہوے۔
نیز حافظ ابن حجر رحمه الله نے تہذیب التہذیب میں لکھا ہے:
قال محمد بن المثني وغيره مات
۱٦۰
هـ بأرض السند.
محمد بن مثنی وغیرہ نے کہا ہے کہ ربیع سرزمین سندھ میں فوت ہوے۔
ہمارے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ تیسری صدی تک سندھ بول کر عرب سیاح جغرافیہ نویس گجرات تک کے ساحلی علاقوں اور شہروں کو بھی اس میں تھے جیسا کہ ابن خرداذبہ (موجود
۲۵۰
ھ) نے المسالک و الممالک میں گجرات کے کئی شہروں کو سندھ ہی میں شمار کیا ہے، حالانکہ عام مورخ اور جغرافیہ نویس ہندوستان اور سندھ کو دو الگ الگ ملک تسلیم کرتے تھے، اور سندھ کے بعد قامہل نامی مقام سے ہندوستان کی حد بتاتے تھے جس میں گجرات کے ساحلی علاقے پڑتے تھے۔
اسی طرح ہمارے تمام ہندی تذکرہ نویسوں نے حضرت ربیع کی جائے وفات متفقہ طور سے سندھ میں بتائی ہے، ہمارے علم میں سب سے پہلے علامہ محمد طاہر گجراتی رحمه الله نے المغنی میں ربیع کے سندھ میں انتقال کی تصریح کی، ان کے بعد تمام ہندوستانی تذکرہ نویسوں نے اسی کو سامنے رکھ کران کی جائے وفات سندھ لکھ دی، اور کسی نے ابن سعد، بلاذری، طبری، ذہبی، ابن اثیر، ابن خلدون اور ابن عماد حنبلی وغیرہ کی تصریحات پر توجہ نہیں دی، چنانچہ علامہ غلام علی آزاد نے سبحۃ المرجان فی آثار الہندوستان، ص ۲٦ میں، اور مولوی رحمن علی نے تذکرہ علمائے ہند ص ۳میں، اور مولانا عبد الحی رحمه الله نے نزہۃ الخواطر (ج
۱
ص
۳۲
) میں، امام ربیع کی جائے وفات سندھ ہی میں بتائی ہے امام بخاری رحمه الله نے اپنے زمانہ کی اصطلاح کے مطابق ہندوستان کے اس علاقہ کو سندھ میں شمار کر کے ربیع کی جائے وفات سندھ بتائی مگر ان ہندوستانی تذکرہ نویسوں نے ہندوستان میں رہ کر اسے سندھ میں بتایا، اس کی وجہ بظاہر یہ غلط فہمی ہے کہ بلادِ ہند سے مراد ان کے نزدیک سندھ ہی کے علاقے تھے اور ان ہی میں کہیں باربد واقع تھا اور دوسری صدی ہجری تک مسلمانوں کی عام سرگرمی کا مرکز صرف سندھ کا علاقہ تھا، حالانکہ عرب مورخ سندھ اور ہند کو الگ الگ ملک شمار کرتے تھے، اور انہوں نے غزوۂ باربد کو جو بار بار بلادِ ہند اور ہند لکھا ہے وہ بلا وجہ نہیں ہے، نیز ہندوستان کے ساحلی علاقے اس زمانہ میں مسلمانوں کی سرگرمی سے متاثر ہو چکے تھے، اور غزوۂ باربد سے پہلے متعدد اقدامات ہو چکے تھے۔ (اسلامی ہند کی عظمتِ رفتہ، از ص ۱۵۷تا ص ۱٦۰، ترجمہ امام ربیع بن صبیح بصری ہندی، ط: ندوۃ المصنفین)۔
گجرات کی علمی و ادبی شخصیات میں مرقوم ہے:
بھاڑبھوت کی فتح کے بعد اسلامی فوج نے واپسی کے لیے رختِ سفر باندھا، لیکن اسی زمانہ میں سمندر میں طغیانی آ گئی اس لیے مجاہدین کی فوری واپسی ممکن نہ ہو سکی اور سمندر پرسکون ہونے تک مجبوراً وہیں قیام کرنا پڑا، سوء اتفاق سے اسی وقت ایک وبا پھوٹ پڑی، اسی بیماری سے ایک ہزار مجاہدین لقمہ اجل بن گئے عام محققین کے بیان کے مطابق انہیں شہید ہونے والوں میں ربیع بن صبیح بھی تھے اور یہیں مدفون ہوے۔ (گجرات کی عملی و ادبی شخصیات، بحوالہ البدایہ و النہایہ:
۹
/
۱۳۲
)۔
نیز اسی کتاب میں مذکور ہے:
"باربد" (اب بھاڑ بھوت) بحر عرب دریائے "نرمدا" کے کنارے ایک قصبہ ہے جو شہر بھروچ سے ٤۸ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے حضرت ربیع بن صبیح کا مزار کچھ عرصہ تک لبِ دریا موجود تھا بعد میں موجوں کی زد میں آ کر دریا میں غائب ہو گیا، اور اب اس کے نشانات بھی مٹ چکے ہیں؛ البتہ بعض اہل کشف نے دریائے "نرمدا" میں اس کی نشاندہی کی ہے۔ (گجرات کی علمی و ادبی شخصیات، ص
۵٤۷
، بحوالہ سوانح منشی عیسی بھائی کاوی،
۱
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3049
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3049