ناول لکھنے اور پڑھنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 8 #128Urdu

Question

ناول لکھنا یا پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ جب کہ یہ فرضی اور جھوٹی کہانیوں پر مشتمل ہوتی ہے اور جھوٹ پر وعید سب کو معلوم ہے۔ بینوا توجروا۔

Answer

خلاف واقعہ بات کو جھوٹ کہتے ہیں، اور ناول میں مفروضہ افراد پر مشتمل کہانیاں ہوتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، بایں وجہ کذب کی وعید ناول پر صادق نہیں آتی۔ تاہم ناول لکھنے یا پڑھنے سے متعلق علماء نے چند شرائط ذکر کیے ہیں ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؛
(۱) ناول کو صرف اس نیت سے پڑھا جائے کہ ادب میں کمال اور پختگی حاصل ہو جائے۔
(۲) ناول عبرت آمیز اور نصیحت خیز ہو۔
(۳) ناول فحش کلام پر مشتمل نہ ہو اور نہ مخرب اخلاق ہو۔
(٤) اگر اس میں کسی واقعہ کا تعلق حقیقت سے ہو جائے تو اس میں کمی بیشی نہ کی جائے۔
(۵) عشق و معاشقہ والے مضامین نہ ہوں کہ جن میں شہوتیں بے قابو ہو جاتی ہیں۔

قال العلامة بدر الدين العيني رحمه الله: الكذب، الإخبار عن الأمر على خلاف ما هو عليه عمداً أو سهواً

والكذب عدم مطابقة الواقع. (عمدة القاري: ۲/۲۰۷، باب إثم من كذب).
شرح رياض الصالحين
میں ہے:

الكذب هو أن يخبر الإنسان بخلاف الواقع فيقول حصل كذا وهو كاذب أو قال فلان كذا، وهو كاذب وما أشبه ذلك فهو الإخبار بخلاف الواقع. (شرح رياض الصالحين: ۲/۱٦۱۸، باب تحريم الكذب: للشيخ محمد بن صالح العثيمين، ط: دار السلام).

فتح الباری میں حافظ ابن حجر رحمه الله رقم طراز ہیں:

قال الراغب أصل الصدق والكذب في القول ماضياً كان أو مستقبلاً وعداً كان أو غيره

وقد يكونان في غيره كالاستفهام والطلب

ويصح أن يقال: كذب لمخالفة قوله لضميره. (فتح الباري: ۱۰/ ۵۰۷).
قال في الدر المختار: وحديث: "حدثوا عن بني إسرائيل" يفيد حل سماع الأعاجيب والغرائب من كل مالا يتيقن كذبه بقصد الفرجة لا الحجة بل وما يتيقن كذبه لكن بقصد ضرب الأمثال والمواعظ وتعليم نحو الشجاعة على ألسنة آدميين أو حيوانات ذكره ابن حجر رحمه الله.
وقال في الشامية: قوله لكن بقصد ضرب الأمثال، وذلك كمقامات الحريري، فإن الظاهر أن الحكايات التي فيها عن الحارث بن الهمام والسروجي لا أصل لها، وإنما أتي بها على هذا السياق العجيب لما لا يخفي على من يطالعها. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۵، سعيد).

دوسری جگہ مذکور ہے:

القصص المكروه أن يحدثهم بما ليس له أصل معروف أو يعظهم بما لا يتعظ به أو يزيد وينقص يعني في أصله، أما للتزين بالعبارات اللطيفة المرققة والشرح لفوائده فذلك حسن. وقال في رد المحتار: قوله يعني في أصله، أي بأن يزيد على أصل الكلام أشياء من عنده غير ثابتة أو ينقص ما يخرج المنقول الثابت عن معناه. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۲۲، سعيد).

حلال و حرام میں ہے:
اگر یہ مفروضہ کہانیاں عبرت آموز اور نصیحت خیز ہوں، صالح مقصد کی حامل ہوں اور تعمیری ہوں تو نہ صرف جائز بلکہ بہتر ہیں، لیکن اگر ان کا مقصد سفلی جذبات کو برانگیختہ کرنا اور اباحیت اور اخلاقی انارکی پیدا کرنا ہو تو ظاہر ہے کہ سخت گناہ اور ناجائز ہیں۔ (حلال و حرام، ص
۲۳٤
)۔
آپ کے مسائل میں ہے:
اخلاقی، اصلاحی اور سبق آموز کہانیاں پڑھنا جائز ہے، فحش اور گندی کہانیاں جن سے اخلاق تباہ ہوں پڑھنا حرام ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۵۰۲
، تخریج شدہ ایڈیشن)۔
معارف القرآن میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
اِس زمانہ میں بیشتر نوجوان فحش ناول یا جرائم پیشہ لوگوں کے حالات پر مشتمل قصے یا فحش اشعار دیکھنے کے عادی ہیں یہ سب چیزیں اسی قسم کے "لہو حرام" میں داخل ہیں۔ (معارف القرآن:
۷
/
۲۳
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.