شیخ سید احمد رفاعی رحمه الله کے مشہور واقعہ کی تحقیق:
Question
حضرت شیخ سید احمد رفاعی رحمه الله سے متعلق یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ شیخ جب مدینہ منورہ میں روضہ اقدس پر سلام کے لیے حاضر ہوئے تو آپ نے یہ اشعار پڑھے:
في حالة البعد روحي كنت أرسلها
ژ
تقبل الأرض عني فهي نائبتي
وهذه دولة الأشباح قد حضرت
ژ
فامدد يمينك كي تحظي بها شفتي
اشعار کا خلاصہ یہ ہے کہ: دوری کی حالت میں میری روح میری نیابت میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوتی تھی، اب دربارِ عالی میں بندہ خود حاضر ہوا ہے تو اپنا دستِ مبارک رونق افروز فرما کر دست بوسی کا موقع عنایت فرمائیے۔
ان اشعار کے پڑھتے ہی روضہ مبارکہ سے دست مبارک بلند ہوا اور سید احمد رفاعی رحمه الله نے بوسہ دیا، اس وقت تقریباً نوے ہزار کے قریب مجمع تھا سب نے زیارت کی۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ قصہ صحیح ہے یا نہیں ؟ بعض حضرات اس پر اشکالات کرتے ہیں وہ کیا ہیں؟ اور اشکالات دلائل کی روشنی میں صحیح ہیں یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ قصہ صحیح ہے رجال ثقات سے مروی ہے، اور اشکالات بے جا ہیں دلائل کے اعتبار سے کوئی وزن نہیں ہے، ہاں ایک اشکال قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اُس زمانہ میں مسجدِ نبوی میں اتنی وسعت نہیں تھی کہ نوے ہزار جمع ہو جائیں، تو اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ یہ بات مبالغہ پر مبنی ہے جیسے عام بول چال میں رائج ہے کہ "میں نے آپ کو ہزار مرتبہ کہا آپ نے نہیں سنا" تو یہ مبالغہ کے قبیل سے ہے اس میں کوئی استبعاد نہیں۔ قصہ مذکورہ بالا کو درجِ ذیل چند حضرات نے بیان کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
قال في سواد العينين في مناقب الغوث أبي العلمين (ص ۱۰) للإمام عبد الكريم بن محمد الرافعي نفعنا الله به (توفي في حدود سنة ثلاث وعشرين وستمائة ودفن بقزوين)، هذا آخر كلام الاسفرايني، قلت: الرافعي من الصالحين المتمكنين، وكانت له كرامات كثيرة ظاهرة. [تهذيب الاسماء واللغات، للامام النووي: ۲/۲٦۵]، وقال الزركلي: فقيه، من كبار الشافعية، كان له مجلس بقزوين للتفسير والحديث، وتوفي فيها، نسبته إلى رافع بن خديج الصحابي، له التدوين في ذكر أخبار قزوين، والإيجاز في أخطار الحجاز، وهو ما عرض له من الخواطر في سفره إلى الحج، والمحرر، فتح العزيز في شرح الوجيز للغزالي في الفقه، وشرح مسند الشافعي، والأمالي الشارحة لمفردات الفاتحة، وسواد العينين في مناقب أحمد الرفاعي، وفي نسبة هذا الكتاب إليه شك، الأعلام:
٤
/
۵۵
، وينظر: (العبر في خبر من غبر، للإمام الذهبي: ۳/۱۹۰).
قال لي شيخنا سند المحدثين عبد السميع الهاشمي الواسطي ببغداد وقد جري ذكر السيد أحمد بن الرفاعي أي عبد الكريم كان السيد أحمد آية من آيات الله
وكنت مع الزوار في الحرم النبوي عام حجه الذي مدت له فيه يد النبي ﷺ، وشاهدت اليد النبوية ببركته رضي الله عنه، الخ.
وأخبرنا شيخنا الإمام الحجة القدوة أبو الفرج عمر الفاروثي [نسبته إلى فاروث قرية على دجلة] الواسطي [هو من أصحاب الشيخ السيد أحمد الرفاعي الحسيني، كما يفهم من ترجمة الذهبي للسيد أحمد الرفاعي، قيل: إنه أقسم على أصحابه إن كان فيه عيب ينبهونه عليه، فقال الشيخ عمر الفاروثي يا سيدي أنا أعلم فيك عيباً، قال: ما هو؟ قال: يا سيدي، عيبك أننا من أصحابك، فبكي الشيخ والفقراء، وقال أي عمر إن سلم المركب حمل من فيه. سير أعلام النبلاء: ۲۱/۷۸، وكذا في طبقات الأولياء لابن الملقن، ص ۹۲] قال حج سيدنا وشيخنا السيد أحمد الرفاعي عام خمس وخمسين وخمس مائة فلما وصل المدينة وتشرف بزيارة جده عليه الصلاة والسلام وقف تجاه حجرة النبي ﷺ ووقفنا خلف ظهره، فقال: السلام عليك يا جدي، فقال له عليه أفضل صلوات الله وعليك السلام يا ولدي، فتواجد لهذه النعمة وقال منشداً: في حالة البعد، الخ. فمد له رسول الله ﷺ يده الشريفة من قبره الكريم فقبلها في ملأ يقرب من تسعين ألف رجل والناس ينظرون يد النبي ﷺ، الخ.
(وكذا في إرشاد المسلمين لطريق شيخ المتقين، للإمام أحمد بن إبراهيم بن عمر، أبو العباس عز الدين الواسطي الفاروقي الشافعي، ص ۳٤).
أخبرني أبي الحافظ محي الدين أبو إسحاق إبراهيم عن أبيه الشيخ عمر [هو الشيخ عمر الفاروثي من اصحاب الشيخ أحمد الرفاعي] أنه قال له: كنت مع سيدنا وشيخنا السيد الكبير الرفاعي الحسيني عام حجه الأول وذلك سنة خمس وخمسين وخمس مائة، وقد دخل المدينة المنورة يوم دخوله إليها قوافل الزوار من الشام والعراق واليمن والمغرب والحجاز وبلاد العجم، وقد زاد عن تسعين ألفاً
وقال غائباً عن نفسه حاضراً مع انسه: في حالة البعد، الخ. فقبلها والناس ينظرون، وقد كان في الحرم الشريف ألوف حين خروج اليد الطاهرة المحمدية، الخ.
وفي "الحاوي للفتاوي"
۲
/
۳۱٤
: وفي بعض المجاميع حج سيدي أحمد الرفاعي فلما وقف تجاه الحجرة الشريفة أنشد: في حالة البعد روحي كنت أرسلها
الخ.
بعض حضرات نے اس واقعہ پر چند اشکالات کیے ہیں:
شیخ محمود شکری آلوسی نے اپنی کتاب
"غاية الأماني في الرد على النبهاني"
میں لکھا ہے کہ اس قصہ کے دو پہلو پر کلام ہے؛ (۱) خود قصہ من گھڑت ہے اور سید احمد رفاعی پر الزام ہے۔ (۲) نبی ﷺ کو آپ کی وفات کے بعد دیکھنا ممکن نہیں ہے اور جو رؤیت کا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے۔
پہلی بات کہ قصہ جھوٹا ہے اس کے درجِ ذیل چند اسباب ہیں:
(الف) مشہور مؤرخین نے شیخ سید احمد رفاعی کے حالات قلم بند کیے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس قصہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ معلوم ہوا کہ یہ محض جھوٹ ہے۔
(ب) امام سیوطی رحمه الله نے اس کو بیان کیا ہے لیکن کوئی سند ضعیف بھی ذکر نہیں کی چہ جائیکہ سند صحیح سے ثابت ہو۔
(ج) قصہ بیان کرنے والوں نے یہ لکھا ہے کہ نوے ہزار نے مشاہدہ کیا! یہ عظیم بہتان ہے کیوں کہ مسجدِ نبوی میں اتنی گنجائش کہاں تھی، بلکہ اس کے دسویں حصہ کی بھی گنجائش نہیں تھی، پھر یہ کہ حجرۂ شریفہ دیواروں میں بند ہے پھر کون سی کھڑکی سے دستِ مبارک باہر آیا؟
(د) پھر یہ اشعار سید احمد رفاعی کے علاوہ دیگر حضرات کی طرف بھی منسوب کیے گئے ہیں، مثلاً: ابن فارض کے بارے میں لکھا ہے کہ جب وہ شیخ شہاب سہروردی سے مکہ مکرمہ میں ملے تو انہوں نے یہ اشعار کہے۔
(ھ) شیخ احمد رفاعی کے ساتھ حسن ظن کرتے ہوے یہ کہیں گے کہ انہوں نے سنت طریقہ کے موافق زیارت فرمائی ہو گی، اور ہاتھ پھیلانے کی درخواست کرنا ان کی شان سے بعید معلوم ہوتا ہے جب کہ اکابر صحابہ اور اکابر علماء میں سے کسی نے ایسی درخواست نہیں کی، یہ فقط ایک بہتان ہے۔
پھر شیخ محمود شکری نے دوسرے پہلو پر بحث کی ہے کہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی زیارت ممکن نہیں ہے، لیکن یہ ایک مستقل مسئلہ ہے اور اہل سنت و الجماعت کا نظریہ اس رائے کے خلاف ہے اور اس بحث کی یہاں ضرورت بھی نہیں اس پر کچھ کلام جلد اول میں ص ۸۱۔ ۸۳ پر گزر چکا ہے وہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ اشکالات بے جان ہیں اور دلائل سے خالی ہیں بنا بریں ان کے جوابات کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ صرف ایک اشکال کہ مسجدِ نبوی میں نوے ہزار کی وسعت نہیں تھی تو یہ مبالغہ پر محمول ہے جیسے کہتے ہیں؛ میں نے آپ کو ہزار مرتبہ کہا اور آپ نہیں سنتے! تو یہ مبالغہ پر محمول ہے اس کو جھوٹ نہیں کہتے۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (الدرۃ الفردۃ شرح قصیدۃ البردۃ:
۱
/
۵۸۰
۔
۵۸۵
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3059
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3059