احناف کے نزدیک مد کی صحیح مقدار اور مروجہ چند مد کی تحقیق:
Question
احناف کے نزدیک مد کتنے گرام کا ہوتا ہے؟ اور کیا مد میں صاعِ حجازی اور صاعِ عراقی کے فرق کے اعتبار سے کوئی فرق ہے یا نہیں ؟ آج کل ایک مد مشہور ہے اور انگلینڈ کے بعض علماء اس کی خوب تشہیر کر رہے ہیں، نیز اس کی سند بھی بیان کی جاتی ہے، کیا وہ احناف کے ناپ کے موافق ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
مذہبِ احناف میں مد ٦۸ ء ۷۹٦ گرام کا ہے، اور صاعِ حجازی اور صاعِ عراقی کے فرق کے اعتبار سے مد میں فرق ہو گا، صاعِ حجازی ۵ اور ایک ثلث رطل کا ہوتا ہے اور صاعِ عراقی ۸ رطل کا ہوتا ہے، تو اس لحاظ سے دونوں میں فرق ہے، البتہ علامہ شامی رحمه الله کی تحقیق کے اعتبار سے حقیقی اختلاف نہیں کیوں کہ اہل حجاز کے یہاں رطل ۳۰ استار کا ہوتا ہے اور اہل عراق کے یہاں ۲۰ استار کا، تو نتیجہ کے اعتبار سے برابر ہے لیکن عملاً دونوں میں فرق ہے اس لیے بظاہر یہ صاع کا واقعی اختلاف ہے۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
في الزيلعي والفتح: اختلف في الصاع فقال الطرفان ثمانية أرطال بالعراقي وقال الثاني: خمسة أرطال وثلث، قيل: لا خلاف لأن الثاني قدره برطل المدينة لأنه ثلاثون استاراً والعراقي عشرون وإذا قابلت ثمانية بالعراقي بخمسة وثلث بالمديني وجدتهما سواء وهذا هو الأشبه
(فتاوى الشامي: ۲/۳٦۵، سعيد).
قاموس الفقہ میں مرقوم ہے:
صاع کی مقدار کے بارے میں یہ متفق علیہ ہے کہ ایک صاع کے چار مد ہوتے ہیں، لیکن خود مد کی مقدار میں فقہاء عراق اور فقہاء حجاز کا اختلاف ہے، فقہاء حجاز کے نزدیک پانچ اور تہائی رطل ہے اور فقہاء عراق کے نزدیک آٹھ رطل ہے، لیکن علامہ شامی رحمه الله کی تحقیق کے مطابق یہ کوئی حقیقی اختلاف نہیں ہے، کیوں کہ اہل حجاز کے یہاں رطل تیس استار کا ہوتا ہے اور رطل عراقی بیس استار کا ہوتا ہے، اس طرح دونوں ہی برابر ہیں اور ان کی مقدار میں کوئی حقیقی فرق نہیں پایا جاتا، صاع موجود ہ اوزان میں ۱۸ ء ۳ کیلو گرام کے برابر ہوتا ہے۔ (قاموس الفقہ:
٤
/
۲۱٦
)۔
حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله فرماتے ہیں:
حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمه الله کے پاس ایک مد تھا جس کی سند حضرت زید بن ثابت رضی الله عنه تک مسلسل ہے کہ حضرت زید رضی الله عنه نے رسول اللہ ﷺ کے مد سے ناپ کر وہ مد بنایا تھا، اس مد کو حضرت تھانوی رحمه الله نے دو مرتبہ بھر کر وزن کیا تو اسی کے سیر سے پونے دو سیر ہوا تھا۔ (امداد الاحکام:
۲
/
٤۳
، وزنِ صاع کی تحقیق)۔
مفتی رشید احمد صاحب احسن الفتاوی میں فرماتے ہیں:
بندہ کو معلوم ہوا کہ پیر و ہیب اللہ شاہ صاحب پیر جھندو ضلع حیدر آباد کے پاس مد ہے، جو ان کے دادا مولانا رشد اللہ شاہ صاحب مدینہ طیبہ سے لائے تھے، مولانا رشد اللہ شاہ صاحب اچھے عالم تھے، وہ اسی مد سے صدقہ فطر ادا کرتے تھے، اور اس کے ساتھ کچھ نقد بھی دیتے تھے میں نے مد منگوا کر دیکھا، اس پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی:
صنع هذا المد المشرف إبراهيم الغزنوي المدني الحنفي على مد الشيخ أحمد بن الشيخ عبد القادر الطاهر المدني الشافعي وهو صنع على مد مولانا أحمد بن مولانا على الإدريسي المالكي، وهو صنعه على مد أمير المؤمنين راجياً به البركة في بيته والمتابعة للنبي ﷺ لأنه كال طعامه به وكان يتوضأ بمقداره ماء، في بعض أزمانه وتطهر بصاع وهو أربعة إمداد وبه تخرج صدقة الفطر عن كل رأس مدان من بر ودقيقة أو سويقة أو زبيب أو أربعة إمداد من تمر أو شعير وكان ذلك ثلاث عشرة وثلاث مأة وألف.
میں نے اسے گیہوں، ماش، اور مسور سے بھر کر وزن کیا تو حسبِ ذیل نتائج نکلے:
بلا تکویم بتکویم
حنطہ: ۵۰ تولہ ۵۵ تولہ
ماش اسود: ۵۲ و نصف تولہ ۵٦ و نصف تولہ
عدس: ۵۳ و نصف تولہ ۵۷ و نصف تولہ
اس برتن کی تدویر بہ نسبت اس کا عموق کافی زیادہ ہے نیز نیچے سے کشادہ اور منہ تنگ شبیہ بالمخروط، اس لیے اس کی تکویم اور غیر تکویم دونوں صورتوں کے وزن میں کوئی خاص فرق نہیں ، بہر کیف وزن مذکور عام محققین علماء کے متعین کردہ وزن سے بہت کم ہے۔ (احسن الفتاوی:
٤
/
۳۸۹
، بسط الباع لتحقیق الصاع)۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کا رسالہ "اوزانِ شرعیہ" کے آخر میں مرقوم ہے:
مد یا من: ٦۵، ۱۳ چھٹانک۔ ٦۸ ء ۷۹٦ گرام۔ (اوزانِ شرعیہ، ص:
٦۲
، ط: ادارۃ المعارف، کراچی)۔
مجمع البحرین کے مقدمہ میں الیاس قبلان نے لکھا ہے:
المد عند الحنفية:
۵
ء
۸۱۳
جم، وعند الجمهور:
۵۱۰
جم. (مقدمة مجمع البحرين، ص ٤۲، بيروت).
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی رشیدیہ، ص
٤۳۲
، و عزیز الفتاوی:
۳٦۱
، وزن صاع کی تحقیق، و امداد المفتین:
۳۸۲
، وزن صاع کی تحقیق، و کفایت المفتی:
٦
/
۲۸۵
، صاع کی تحقیق، کراچی)۔
آج کل تین قسم کے مد لوگوں میں مشہور اور معروف ہیں: (۱) پلاسٹک سے بنا ہوا مد:
اس مد پر ایک سند مرقوم ہے:
سند مد النبي ﷺ: سيدنا محمد رسول الله ﷺ، زيد بن ثابت رضي الله عنه، أبو إسحق، وأبو جعفر، أبو بكر أحمد خالد بن إسماعيل، أبو جعفر أحمد، أبو جعفر أحمد علي، أبو منصور إبراهيم النجاشي، حسين اليشكري، مولانا يعقوب، أبو الحسن عبد الحق، أبو الحسن الصادق، محمد الحياة، شاه رفيع الدين، شاه محمد إسحق، عبد القيوم، محمد أحمد، عبد الحي كفليتوي، يوسف متالا.
گیہوں سے بھر دے تو: ٦۱۵ گرام۔
شکر سے بھر دے تو: ۷۰۵ گرام بہ تکویم، ٦۸٦ گرام بلا تکویم۔
پانی سے بھر دے تو: ۷۵۰ ملی لیٹر۔
(نوٹ): اس مد کا وزن عام حنفی مد کے وزن سے بہت کم ہے۔
اس مد کے بارے میں الجواہر الزواہر میں لکھا ہے: ایک پیمانہ ہے جو صاع کی ایک چوتھائی کے برابر ہوتا ہے جو حضور ﷺ کے مد کے برابر تھا معہ سند کے بھیجا۔ (الجواہر الزواہر، ص
۱۰
)۔
(۲) پیتل سے بنا ہوا مد:
اس مد پر حضرت زید بن ثابت
رضي الله عنه
کا تذکرہ ہے لیکن مکمل سند مرقوم نہیں ہے۔
عجوہ کھجور سے بھر دے تو: ۵۸۵ گرام،
گیہوں سے بھر دے تو: ۷۲۰ گرام،
شکر سے بھر دے تو: ۷۹۷ گرام بتکویم، اور ۷۷۵ گرام بلا تکویم۔
پانی سے بھر دے تو: ۸۵۰ ملی لیٹر۔
یہ پیتل والا مد احناف کے مد سے زیادہ قریب ہے۔
(۳) لوہے سے بنا ہوا مد: اس مد پر کوئی چیز مرقوم نہیں ہے، بالکل سادہ ہے۔
شکر سے بھر دے تو: ۷۱۵ گرام۔
گیہوں سے بھر دے تو: ٦٦۰ گرام۔
پانی سے بھر دے تو: ۸۰۰ ملی لیٹر۔
خلاصہ یہ ہے کہ پیتل کا بنا ہوا مد احناف کے مد سے زیادہ قریب ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3082
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3082