زمین کی گردش اور آیتِ کریمہ: "والشمس تجري" کا مطلب:
Question
قرآنِ کریم میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
﴿والشمس تجري لمستقر لها، ذلك تقدير العزيز العليم﴾
اس سے معلوم ہوا کہ سورج چلتا ہے اور گھومتا ہے، لیکن آج کل کے ماہرین فلکیات سورج کے سکون اور زمین کی حرکت کے قائل ہیں، تو آیتِ کریمہ کا کیا مطلب ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ آیتِ کریمہ اپنے ظاہری مطلب پر ہے یعنی سورج چلتا ہے، کیوں کہ قرآنِ کریم میں سورج کے مطلق چلنے کو بیان کیا ہے، اور تمام ماہرین فلکیات اس بات پر متفق ہیں کہ سورج اپنے پورے کہکشاں کے ساتھ چل رہا ہے، ہاں نظامِ شمسی میں تمام سیارات سورج کے ارد گرد گردش کرتے ہیں اور سورج اپنی جگہ پر ہے جس کو (solar system) کہا جاتا ہے تو اس اعتبار سے سورج ایک جگہ پر ہے اور زمین سورج کے ارد گرد گردش کرتی ہے۔ یعنی سورج کی گردش دو طرح کی ہے: (۱) Rotating جس کو محوری گردش کہتے ہیں۔ (۲) Revolving جس کو گھومنا کہتے ہیں۔ ماہرین فلکیات دونوں کو مانتے ہیں کوئی بھی اس کا منکر نہیں ہے۔ ہاں پرانے زمانہ میں یہ نظریہ تھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج اس کے ارد گرد گردش کرتا ہے یہ نظریہ صحیح نہیں تھا کیوں کہ زمین اور دیگر سیارات سب سورج کے ارد گرد چکر لگاتے ہیں۔
حضرت مولانا روحانی بازی رحمه الله نے اپنی کتاب
"الهيئة الوسطي مع شرحها النجوم النشطي"
میں ص ۶۹ پر لکھا ہے:
يظن بعض الناس أن الشمس ساكنة وهذا الظن خطأ
والثانية حركتها مع جميع أسرتها.
نیز اسی طرح کا مضمون فلکیات جدیدہ میں بھی (ص ۴۰) پر مذکور ہے۔
نیز
"الهيئة الصغرى"
میں لکھتے ہیں:
ثم إن الشمس ليست بساكنة بل لها حركتان مشهورتان، الأولي: أنها تسير بأسرتها من جميع أجرام النظام الشمسي بسرعة
۱۱
ميلاً ونصف ميل في الثانية إلى نجم مسمي بالنسر الواقع. والثانية: إنها تدور حول محورها من الغرب إلى الشرق. (الهيئة الصغرى، ص ۳۰)
عالمی انسائیکلوپیڈیا میں مذکور ہے جس کا مفہوم درجِ ذیل ہے:
سورج؛
کرۂ ارض سورج کے گرد گھومتے ہوئے نو ستاروں میں سے ایک ہے، ہمارے سورج جیسے ۰۰۰، ۵۰۰ ملین ستارے ہمارے کہکشاں (ملکی وے) میں موجود ہیں، دیگر سیاروں کی طرح سورج بھی گیس کا ایک بہت بڑا گھومتا ہوا گیند ہے، اس کے مرکز میں واقع ہونے والے ایٹمی ری ایکشنز توانائی خارج کرتے ہیں۔
جامع اردو انسائیکلوپیڈیا میں مرقوم ہے:
سورج کے دھبوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سورج اپنے استوا پر ہمارے ۲۵ دن میں اپنا گھماؤ پورا کر لیتا ہے مگر ۴۰ درجہ عرض البلد پر ۳۰ دن اور قطبین کے قریب ۸۰ درجہ پر ۳۶ دن تک لیتا ہے، یہ فرق اس لیے ہوتے ہیں کہ سورج ٹھوس نہیں ، ان مشاہدوں سے سورج کے مختلف اعمال و حرکات کو اور اس کی مقناطیسی دور کے گیارہ گیارہ سال میں الٹتے رہنے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ سورج کے گھماؤ کا محور طریق الشمس سے ۷ درجہ کے بقدر جھکا ہوا ہے (طریق الشمس یعنی؛ وہ مدار کی سطح، جس پر سورج کے گرد زمین گھومتی ہے اور جس پر زمین سے سورج کی حرکت کرنا معلوم ہوتا ہے)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3089
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3089