کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #166Urdu

Question

میں ایک ہسپتال میں ملازمت کرتا ہوں، وہاں پر سب انگلش بیت الخلا بنے ہوے ہیں جب پیشاب کا تقاضا ہوتا ہے تو وہیں پر کھڑے ہو کر پیشاب کر لیتا ہوں اور قطروں کا خاص خیال رکھتا ہوں، پھر نماز کے وقت نماز بھی پڑھتا ہوں تو کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ کیا اس سے میں ناپاک تو نہیں ہوتا؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ سادہ طرز کے بیت الخلا تلاش کر کے استعمال کرنے چاہیے، جو اکثر و بیشتر قرب و جوار میں بنائے جاتے ہیں، تاہم اگر نہ ہو اور فقط انگلش ہو تو بوقتِ ضرورت پر دے والے بیت الخلا استعمال کرنے کی گنجائش ہے، لیکن کپڑوں کو خوب سمیٹ کر، اور پیشاب کے چھینٹے نہ لگے اس کا خوب خیال رکھنا چاہیے۔
اگر جسم یا کپڑوں پر کوئی ناپاکی نہیں لگی تو جسم اور کپڑے پاک ہیں اس میں نماز پڑھنا جائز اور درست ہے اور اگر کوئی ناپاکی لگی ہو تو صاف کر کے نماز ادا کرنی چاہیے۔ ملاحظہ ہو فتاوی لکھنوی میں ہے:

الاستفسار: هل يجوز البول قائماً؟
الاستبشار: نعم؛ يجوز لكن يكره، كذا في السراجية، وما أخرج البخاري عن النبي ﷺ أنه: أتي سباطة قوم فبال قائماً. (صحيح البخاري: ۱/۹۰، رقم: ۲۲۲).
اختلف في توجيهه: فقيل: إنما بال قائماً إذ كان به وجع الصلب.
وقيل: معناه قائماً على باطن الركبة. وقيل: تعليماً للجواز، كذا قال العيني رحمه الله في البناية. (فتاوى اللكنوي، ص ۱٦۵، ما يتعلق بالاستنجاء والبول والغائط وغيره).
قال في حاشية الطحطاوي: قوله ويكره البول قائماً، قال في شرح المشكاة قيل: النهي للتنزيه وقيل: للتحريم وفي البناية قال الطحاوي رحمه الله: لا بأس بالبول قائماً. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۵٤، قديمي).

فتاوی حقانیہ میں ہے:
اسلام نے نجاست سے بچنے کا حکم دیا ہے اور اس کی بہت تاکید کی ہے کہ پیشاب کے چھینٹوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں کہ اکثر عذابِ قبر اسی وجہ سے ہوتا ہے، اس لیے فقہاء کرام نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، تاہم اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پیشاب کرنا ممکن نہ ہو تو کھڑے ہو کر کرنا بھی جائز ہے۔ (فتاوی حقانیہ:
۲
/
۵۹۳
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.