گھڑی وغیرہ کی صفائی میں اس پرٹ کا استعمال:

4 min readFatwa Vol 1 #313Urdu

Question

کیا گھڑی یا کسی دوسری چیز کی صفائی میں اس پرٹ کا استعمال کرنا صحیح ہے جب کہ اس پرٹ شراب کی روح ہے؟

Answer

اس پرٹ اگر چہ نجس ہے اور اس کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے لیکن عموم بلویٰ کی وجہ سے گنجائش ہے نیز شیخین رحم اللہ تعالی کے نزدیک یہ اس وقت نجس ہو گی جبکہ اسے انگور کشمش یا کھجور سے حاصل کیا گیا ہو اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ آج کل اس پرٹ، انگور کشمش یا کھجور سے حاصل نہیں کی جاتی لہذا شیخین رحمہ اللہ کے قول کے مطابق پاک ہے اگر چہ فساد زمانہ کی وجہ سے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو مفتیٰ بہ قرار دیا گیا ہے لیکن آج کل ضرورت تداوی اور عمومی بلویٰ کی رعایت سے قول شیخین پر فتوی دیا جاتا ہے ۔ دیگر علماء کے اقوال درج ذیل ہیں ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
اس پرٹ اگر عنب و زبیب و رطب و تمر سے حاصل نہ کی گئی ہو تو اس میں گنجائش ہے
للاختلاف
ورنہ گنجائش نہیں
للاتفاق. (
امداد الفتاوی: ۱/۱۳۷) ۔
نظام الفتاوی میں ہے:
اس پرٹ کا ان چار شرابوں کی جنس سے ہو نا ضروری نہیں جو نجس العین ہو تی ہیں بلکہ گڑ وغیرہ سے بھی بنائی جاتی ہے لہذا جب تک دلیل شرعی سے ثابت نہ ہو جائے کہ اس پرٹ انہی شرابوں کا جوہر یا تلچھٹ ہے، اس وقت تک اس اس پرٹ کو ناپاک و نجس نہیں کہ سکتے اور ان کا استعمال کرنا جس میں یہ اس پرٹ پڑی ہو ناجائز و حرام نہیں کہ سکتے، اسی طرح اس سے برتن صاف کرنا اور دواؤں میں اس کا ڈالنا بھی ناجائز و حرام نہیں کہ سکتے یہ فتوی ہے اور تقوی کی الگ بات ہو گی ۔ (نظام الفتاوی ص ۳٦۱)
احسن الفتاوی میں ہے:
اس پرٹ اگر انگور کشمش یا کھجور سے حاصل کی گئی ہو تو بالاتفاق نجس ہے اور ان کے سوا کسی دوسری چیز سے بنائی گئی ہو تو شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک پاک اور اما م محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نجس ہے تحقیق سے معلوم ہوا کہ آج کل اس پرٹ اور الکحل کیلیے انگور اور کھجور استعمال نہیں کی جاتی لہذا شیخین رحمہ اللہ کے قول کے مطابق پاک ہے، حضرات فقہاء رحمہ اللہ نے اگر چہ فساد زمان کی وجہ سے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو مفتی بہ قرار دیا ہے مگر آج کل ضرورت تداوی و عموم بلویٰ کی رعایت کے پیش نظر شیخین کے قول پر طہارت کا فتوی دیا جاتا ہے ویسے بھی اصول کے لحاظ سے قول شیخین رحمہ اللہ کو ترجیح ہو تی ہے ۔ (احسن الفتاوی ۲/۹۵) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
اس پرٹ کا استعمال بعض ایسی چیزوں میں بھی ہو تا ہے جن کا بکثرت تعامل ہے اور ہمارے زمانہ میں اس سے بچنا بہت مشکل ہے مثلاً ً کپڑوں کے رنگ روشنائی رنگے ہوے کپڑے وغیرہ ان کا استعمال بھی درست ہو گا، ایک تو اس لیے کہ ان کا استعمال عام ہو گیا ہے اور ابتلاءِ عام کی صورت پیدا ہو گئی ہے جو فقہی احکام میں تخفیف کا باعث بن جاتا ہے،
فمن القواعد الشرعية المتفق عليها "أن الامر اذا ضاق اتسع". الأشباه والنظائر لا بن نجيم ص ۸٤. (
جدید فقہی مسائل
۱/۱۰۷)

خلاصہ یہ کہ اس پرٹ اگر اشربہ اربعہ محرمہ کے علاوہ سے ہے تو اسے گھڑی کی صفائی یا دوسری چیزوں کی صفائی کرنا درست ہے تاہم احتیاط اولی ہے ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.