بروزِ جمعہ عصر کے بعد خاص درود شریف کی تحقیق:
Question
جمعہ کے دن بعد العصر درود شریف جو مشہور و معروف ہے اور عام مساجد میں اس کے اشتہارات آویزاں کیے جاتے ہیں، کیا یہ درود شریف انہی الفاظ کے ساتھ حدیث میں وارد ہوا ہے یا نہیں ؟ اگر وارد ہوا ہے تو سنداً اس حدیث کا کیا درجہ ہے؟ تحقیق مطلوب ہے۔ بینوا توجروا۔
Answer
علامہ سخاوی رحمه الله نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب
"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع"
میں بحوالہ ابن بشکوال حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کرتے ہوے بعد العصر کی تخصیص کے ساتھ یہ درود شریف نقل فرمایا ہے۔ اور مزید براں حضرت سہل بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف بھی نسبت فرمائی ہے کہ ان سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ القول البدیع کی عبارت ملاحظہ کیجیے:
وفي لفظ عند ابن بشكوال من حديث أبي هريرة رضي الله عنه أيضاً: "من صلي صلاة العصر من يوم الجمعة فقال قبل أن يقوم من مكانه: "اللهم صلِّ على محمد النبي الأمي وعلى آله وسلم تسليماً"، ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاماً، وكتبت له عبادة ثمانين سنة". ونحوه عن سهل كما سيأتي. (القول البديع، ص ۳۸۱، ط: مؤسسة الريان).
حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ: جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد اپنی جگہ سے کھڑا ہونے سے پہلے اسی (۸۰) مرتبہ یہ درود شریف پڑھے: "
اللهم صلِّ على محمد النبي الأمي وعلى آله وسلم تسليماً"
اس کے اسی (۸۰) سال کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور اسی (۸۰) سال کی عبادت کا ثواب لکھ دیا جائے گا۔ حدیث شریف پر کلام ملاحظہ کیجیے:
علامہ سخاوی رحمه الله نے ابن بشکوال کا حوالہ دیا ہے، اور ابن بشکوال جن کا پورا نام ابو القاسم خلف بن عبد الملک بن بشکوال ہے، (م
۵۷۸
ھ) ان کی کتاب
"القربة إلى رب العالمين بالصلاة على محمد سيد المرسلين"
ہے جو سید محمد سید اور خلاف محمود عبد السمیع کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ دار الکتب العلمیہ بیروت، لبنان سے شائع ہوئی ہے۔
زیر نظر کتاب کی مراجعت اور ورق گردانی کے باوجود مذکورہ بالا روایت حضرت ابو ہریرہ
رضي الله عنه
کی سند سے مذکورہ الفاظ کے ساتھ بندہ کو دستیاب نہیں ہوئی۔ بایں وجہ اس روایت پر بندہ مثبت یا منفی انداز میں کلام کرنے سے قاصر ہے۔ ہاں ابن بشکوال نے حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کی سند سے مذکورہ روایت کے مشابہ ایک روایت کی تخریج فرمائی ہے وہ روایت درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
قال الشيخ أبو القاسم ابن بشكوال، وقرأت على القاضي أبي بكر بن العربي قال: أنبأنا ابن المبارك بن عبد الجبار حدثنا أبو طالب العشاري حدثنا عمر بن شاهين حدثنا الحسن بن إسماعيل الضبي وأحمد بن عبد الله بن نصر بن بحير قالا: حدثنا سعيد بن تواب حدثنا عون بن عمارة (منكر الحديث) حدثنا سكن البرجمي عن الحجاج بن سنان (متروك) عن على بن زيد (ضعيف، رافضي) عن سعيد بن المسيب أظنه عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "الصلاة على نور على الصراط، فمن صلي على يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاماً". (القربة لابن بشكوال، ص ۱۱۱، رقم الحديث: ۱۰۹).
قال المحشي: رواه الخطيب البغدادي في تاريخه (۱۳/٤۸۹) من حديث أنس رضي الله عنه. وذكره الألباني في الضعيفة.
دونوں روایتوں کے مابین فرق واضح ہے تاہم حدیث پر کلام ملاحظہ ہو:
قلت: إسناده ضعيف جداً؛
یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے، اس میں تین رواۃ پر سخت کلام ہے۔ (۱) علی بن زید بن جدعان؛ ضعیف اور رافضی قسم کا آدمی تھا۔ (
الميزان: ۳/۱۲۷، والتقريب، ص ٤٦۸ مع تحرير التقريب).
(۲) حجاج بن سنان؛ کو حافظ ازدی نے متروک کہا ہے۔ (
الميزان: ۱/٤٦۳، واللسان: ۲/۵٦۲).
(۳) عون بن عمارہ؛ کو ابو زرعہ اور حاکم نے منکر الحدیث کہا اور امام ابو داود نے ضعیف کہا اور ابن عدی نے کہا کہ ضعف کے باوجود حدیث لکھی جا سکتی ہے، ساجی نے کہا: سچ ہے لیکن اس میں غفلت تھی اور وہم ہو جاتا تھا۔ (
التهذيب: ۸/۱٤۸).
نیز اس حدیث کی تخریج ابن شاہین نے الترغیب میں (ص ۹٤) پر اور دار قطنی نے "الافراد" میں اور ابو الشیخ اور الضیاء المقدسی وغیرہ حضرات نے بھی فرمائی ہے۔
قال الدارقطني: تفرد به حجاج بن سنان عن على بن زيد فلم يروه عن حجاج إلا السكن بن أبي السكن قال ابن حجر في تخريج الأذكار: والأربعة ضعفاء وأخرجه أبو نعيم من وجه آخر وضعفه ابن حجر. (فيض القدير: ٤/۲٤۹).
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3163
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3163