حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه کو ابوبکر کہنے کی وجہ:
Question
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو ابوبکر کہنے کی کیا وجہ ہے؟ کیا ان کی اولاد میں بکر نامی کوئی بیٹا تھا یا نہیں ؟ اگر تھا تو اس کے مختصر حالات بیان کریں؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ ابوبکر
رضي الله عنه
کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه نے ام بکر نامی عورت کے ساتھ شادی کی تھی، ام بکر کا اگلے شوہر سے ایک بیٹا تھا اس کا نام بکر تھا، اس وجہ سے اس کی والدہ کو ام بکر اور ماں کے شوہر کو ابوبکر کہا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو امِ بکر نے ہجرت نہیں کی، اس بنا پر حضرت ابوبکر
رضي الله عنه
نے ان کو طلاق دے دی تھی۔
دوسری وجہ تسمیہ علی طنطاوی نے اپنی کتاب "ابوبکر صدیق" میں یہ لکھی ہے کہ بکر عرب کے بڑے قبیلہ کے سردار تھے، بنو بکر مشہور قبیلہ تھا، تو ابوبکر کا مطلب یہ ہوا کہ بڑے قبیلہ کے سردار کے والد۔ حضرت ابوبکر صدیق
رضي الله عنه
کی اولاد میں سے کسی کا نام بکر نہیں تھا۔ صحیح بخاری شریف میں روایت ہے:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن أبابكر رضي الله عنه تزوج امرأة من كلب يقال لها أم بكر فلما هاجر أبو بكر رضي الله عنه طلقها فتزوجها ابن عمها هذا الشاعر الذي قال هذه القصيدة رثي كفار قريش:
وماذا بالقليب قليب بدر
ژ
من الشيزي تزين بالسنام
وماذا بالقليب قليب بدر
ژ
من القينات والشرب الكرام
تحيينا السلامة أم بكر
ژ
وهل لي بعد قومي من سلام
يحدثنا الرسول بأن سنحيا
ژ
وكيف حياة أصداء وهام
(صحيح البخاري: ۱/۵۵۸/۳۹۲۱).
حافظ ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں لکھتے ہیں:
قال ابن إسحاق: وقال أبو بكر واسمه شداد بن الأسود بن شعوب. قلت: وقد ذكر البخاري أنه خلف على امرأة أبي بكر الصديق حين طلقها الصديق وذلك حرم الله المشركات على المسلمين واسمها أم بكر: تحيي بالسلامة أم بكر الخ. (البداية والنهاية: ۳/٤۱۲، ط: دار إحياء التراث العربي). (وكذا في الإصابة في تمييز الصحابة: ۷/۳۸).
مذکورہ عبارت کا مطلب یہی ہے کہ ابتدائے اسلام میں مشرکات کے ساتھ نکاح جائز تھا۔
شیخ علی طنطاوی لکھتے ہیں:
أبو بكر وهو من البكر وهو الفتي من الإبل، أجمع بكار وأبكر وقد سمت العرب بكراً وهو أبو بيلة عظيمة. (أبو بكر الصديق، ص ٤٦).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3172
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3172