قرآن و حدیث سے چلہ کشی کا ثبوت:

4 min readFatwa Vol 8 #265Urdu

Question

ایک پیر صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ چلہ کشی اور خلوت میں گزرتا ہے، بعض ساتھیوں نے اس پر اشکال کیا کہ غارِ حرا کی چلہ کشی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عوام کے ساتھ میل ملاپ کی زندگی گزاری، آپ سے گزارش ہے کہ کیا قرآن و حدیث سے یا صحابہ کرام کی سیرت سے خلوت اور چلہ کشی ثابت ہے یا نہیں ؟

Answer

قرآنِ کریم میں حضرت موسی علیہ السلام کے قصہ سے چلہ کشی ثابت ہے۔ ملاحظہ ہو:

قال الله تعالى: ﴿وإذ واعدنا موسى أربعين ليلة ثم اتخذتم العجل من بعده وأنتم ظالمون﴾، [البقرة: ۵۱].
امام قرطبی رحمه الله اس آیت کے تحت اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
وبهذا استدل علماء الصوفية على الوصال وأن أفضله أربعون يوماً. (تفسير القرطبي: ۱/۳۹٦، ط: القاهرة).

حضرت تھانوی رحمه الله بیان القرآن میں فرماتے ہیں: یہ آیت اہل سلوک کے چلہ کی اصل ہے اور گو یہ موسی علیہ السلام کا قصہ ہے لیکن جب اس کو نقل کر کے اس پر انکار نہیں کیا گیا تو یہ ہمارے لیے حجت ہو گیا خصوصاً جب کہ اس باب میں حدیث بھی آئی ہے۔ (بیان القرآن:
۱
/
۳۰
)۔
اللہ تعالی اصحابِ کہف کے قصہ میں ارشاد فرماتے ہیں:

﴿وإذ اعتزلتموهم وما يعبدون إلا الله فأووا إلى الكهف ينشر لكم ربكم من رحمته ويهيئ لكم من أمركم مرفقا﴾، [الكهف: ۱٦]
جب تم کافروں اور ان کے تمام معبودوں سے سوائے اللہ کے الگ ہو جاؤ تو ایک غار میں جا کر ٹھکانہ بناؤ، اللہ تعالی تم پر اپنی رحمتیں برسائے گا، اور ہر کام میں تمہارے لیے سہولت پیدا فرمائے گا۔
حدیث شریف ملاحظہ کیجیے: "
من أخلص لله أربعين يوماً ظهرت ينابيع الحكمة من قلبه على لسانه" رواه أبو نعيم بسند ضعيف عن أبي أيوب. (كشف الخفاء، رقم: ۲۳٦۱).
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أنه قال: قال رسول الله ﷺ: يوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر، يفر بدينه من الفتن. (صحيح البخاري: ۱/۱۳، باب من الدين الفرار من الفتن).

صحابہ کرام میں حضرت ابو ذر غفاری رضی الله عنه نے خلوت اور گوشہ نشینی اختیار فرمائی تھی۔ ملاحظہ ہو سیر الصحابہ میں ہے:
حضرت ابو ذر غفاری
رضي الله عنه
نے جب عہدِ رسالت کا دور ختم ہوا اور لوگ دنیا سے ملوث ہونے لگے تو تنہا نشینی اختیار کر لی تھی۔ عمران بن حطان کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابو ذر رضی الله عنه کے پاس گیا وہ مسجد میں تنہا بیٹھے تھے، میں نے کہا ابو ذر تنہائی کیوں اختیار کر لی، فرمایا: میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے کہ تنہائی برے ہم نشیں سے بہتر ہے۔ (سیر الصحابہ، حصہ دوم، ص
۸۰
)۔

عن صدقة بن أبي عمران بن حطان، قال: أتيت أباذر فوجدته في المسجد مختبئاً بكساء أسود وحده، فقلت: يا أباذر! ما هذه الوحدة؟ فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: الوحدة خير من جليس السوء، والجليس الصالح خير من الوحدة، وإملاء الخير خير من السكوت، والسكوت خير من إملاء الشر. (المستدرك للحاكم، رقم: ۵٤٦٦، ط: بيروت).

انفاسِ عیسی میں ہے: خلوت پسندی بھی عین سنت ہے،
في حديث الوحي: حبب إليه صلي الله عليه وسلم الخلاء. (البخاري، رقم: ۳)،
(انفاسِ عیسی، ص
۲۹۹
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.