ماہانہ کرایہ کے ساتھ منافع میں سے متعین فیصد بطورِ کرایہ دینے کا حکم:
Question
ہم بہت ساری ریٹیل دکانیں چلاتے ہیں، اور اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ہم زمینداروں سے تین سال کے لیے متعین کرائے پر زمین لیتے ہیں جس میں معاہدے کے تحت سالانہ سات فیصد کرائے کا اضافہ ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ زمیندار ہم سے اپنے کاروباری منافع میں سے ایک متعینہ فیصد کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اگر دو فیصد کاروباری منافع، متعینہ ماہانہ کرایہ سے زیادہ ہو جائے تو زیادتی ادا کرنے پڑتی ہے اور اگر کم ہو جائے تو صرف کرایہ دینا ہوگا۔ کیا شریعت کی نگاہ میں ایسا معاملہ کرنا ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ بوقتِ عقد یہ طے ہو جائے کہ سالانہ سات فیصد کرایہ بڑھایا جائے گا تو یہ درست ہے، نیز کرایہ کے علاوہ متعینہ فیصد کا مطالبہ بھی باہمی رضامندی طے ہو جائے تو یہ بھی جائز اور درست ہے پھر زمیندار جو بھی رقم وصول کریں گے وہ سب کرایہ ہی کا ایک حصہ ہوگا۔
اصل مذہب اس بارے میں عدمِ جواز کا ہے لیکن ضرورتِ زمانہ اور لوگوں میں اس کا عام رواج ہونے کی وجہ سے نیز آپس میں رضامندی کے سبب مفضی الی النزاع نہ ہونے کی وجہ سے ایسا معاملہ شرعاً جائز اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو اسلامی قانونِ اجارہ میں مرقوم ہے:
"الف" اپنا گھر پانچ سال کی مدت کے لیے "ب" کو کرایہ پر دیتا ہے، پہلے سال کا کرایہ دو ہزار ماہانہ مقرر کیا گیا ہے اور یہ بھی طے پا گیا ہے کہ ہر اگلے سال کا کرایہ پچھلے سال سے دس فیصد زیادہ ہوگا، تو یہ اجارہ صحیح ہے۔ (اسلامی قانونِ اجارہ، ص 276)۔
في "مجلة الأحكام": يشترط في صحة الإجارة رضا العاقدين. (المادة: ٤٤۸).
رہی بات کرایہ کے معلق بالشرط اور دو چیزوں کے درمیان دائر ہونے کی، تو اگر دونوں جانب کا کرایہ متعین ہو تو صاحبین رحمه الله کے نزدیک ایسا عقد کرنا صحیح ہے، اور اسی قول پر فتوی بھی ہے۔
في درر الحكام شرح مجلة الأحكام: ويصح ترديد الأجرة على صورتين أو ثلاث وتسمية أجرة لكل صورة غير أجرة الصورة الأخرى، ويعتبر البيع في جميعها دفعاً للحاجة وبما أن الإجارة بيع منافع فتقاس على بيع العين (مجمع الأنهر). (درر الحكام شرح مجلة الأحكام: ۱/۵۸۰، المادة: ۵۰٦).
وفي شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي: والحكم المذكور فيها، وهو صحة الإجارة مع اعتبار الشرطين هو قولهما، وعند أبي حنيفة رحمه الله يصح الشرط الأول، ولا يصح الشرط الثاني، فلو خالطه في اليوم الأول يجب المسمى في ذلك اليوم اتفاقاً، وإن خالطه في اليوم الثاني، فعندهما وهو الذي مشت عليه المجلة، يجب المسمى فيه. (شرح المجلة: ۲/۵۹۷).
اسی طرح زائد کرایہ کو فیصد کے اعتبار سے متعین کرنا، اس میں گو ایک قسم کی جہالت ہے کہ معلوم نہیں وہ زائد فیصد کتنی رقم بنے گی؛ لیکن چونکہ جہالتِ یسیرہ ہے اور مفضی الی النزاع بھی نہیں ہے، اس لیے اس کا عقد پر کوئی اثر مرتب نہ ہوگا۔
في شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي: ومن فسادها: جهالة الأجرة
فلم تكن الجهالة مفضية إلى النزاع، والجهالة ليست مانعة لذاتها بل لكونها مفضية إلى النزاع. (شرح المجلة: ۲/۵۳۸، المادة: ٤٦۰).
وفي "إعلاء السنن": الحاصل: أن الجهالة اليسيرة عفو في ما جري به التعامل، لكونها لا تفضي إلى النزاع عادة. (اعلاء السنن: ۱٦/۲۰۲، إدارة القرآن).
قاموس الفقہ میں مذکور ہے:
آج کل مختلف تجارتوں میں کمیشن کا طریقہ مروج ہو گیا ہے، یعنی کمپنی اپنا مال فروخت کرنے والوں کو بجائے تنخواہ متعین کرنے کے فیصد متعین کر دیتی ہے بہت سے دینی اور عصری اداروں میں جو لوگوں کے تعاون پر چلاتے ہیں، انہیں متعینہ تنخواہ دینے کے بجائے کچھ فیصد اجرت دے دی جائے، اور اس میں مدرسہ والے اپنے لیے عافیت سمجھتے ہیں اس لیے یہ مسائل موجود ہ دور میں علماء کے لیے گہرے فکر اور توجہ کے طالب ہیں احناف میں مشائخ بلخ نے عرف کی رعایت کرتے ہوے اس کی اجازت دی ہے۔ (قاموس الفقہ: ۱/٤۹۹)۔
آج کل اسی قسم کا ایک اور معاملہ ہوتا ہے جس کو (پارٹسپیشن فنڈ) آجر کے منافع میں حصہ داری سے تعبیر کرتے ہیں اس میں بھی یہی ہوتا ہے کہ مستاجر اپنی تنخواہ کے علاوہ آجر سے فیصد کے اعتبار سے کچھ نفع بھی لیتا ہے، اور اس قسم کے عقد کو دورِ حاضر کے بعض علماء جائز کہتے ہیں، ما قبل میں اس کے دلائل گزر چکے ہیں وہاں ملاحظہ کیا سکتا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3222
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3222