سانپ کے زہر کی پاکی، ناپاکی اور اس کے استعمال کا حکم:

12 min readFatwa Vol 9 #34Urdu

Question

سانپ کے زہر سے متعلق تحقیق مطلوب ہے کہ پاک ہے یا ناپاک؟ اور اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ نیز خارجی و داخلی استعمال کے اعتبار سے کوئی فرق ہو گا یا نہیں؟ سانپ کا زہر بعض دواؤں میں اور بعض کوسمٹک (cosmetic) میں استعمال ہوتا ہے، تو کیا ایسی چیزیں استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا بالتفصیل۔

Answer

سانپ کی کھال، گوشت اور زہر سب ناپاک ہیں اور ان کا خارجی و داخلی استعمال ناجائز ہے کیوں کہ زہر؛ نجاست، خباثت اور ضرر تین چیزوں کا مجموعہ ہے، ہاں اگر دواؤں میں ڈالنے کی وجہ سے اس کی حقیقت و ماہیت تبدیل ہو جاتی ہو اور یہ تینوں چیزیں؛ نجاست، خباثت اور ضرر زائل ہو جائیں تو پھر ان دواؤں کا خارجی و داخلی استعمال جائز اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:

وأما الذي يعيش في البر فأنواع ثلاثة: ما ليس له دم أصلاً، وما ليس له دم سائل، وما له دم سائل، مثل الجراد والزنبور والذباب والعنكبوت

لا يحل أكله إلا الجراد خاصة؛ لأنها من الخبائث لاستبعاد الطباع السليمة إياها وقد قال الله تبارك وتعالى: ﴿ويحرم عليهم الخبائث﴾

وكذلك ما ليس له دم سائل مثل الحية والوزغ

وجميع الحشرات وهوام الأرض، من الفار والقراد والقنافذ

ولا خلاف في حرمة هذه الأشياء إلا في الضب فإنه حلال عند الشافعي رحمه الله. (بدائع الصنائع: ۵/۳٦، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں مذکور ہے:

جلد الحية نجس وإن كانت مذبوحة؛ لأنه لا يحتمل الدباغة، هكذا في الظهيرية. (الفتاوى الهندية: ۱/٤٦). (
لیکن فی زماننا کیمیکل سے دباغت ممکن ہے لہٰذا پاک ہو جائے گی۔)
علامہ ابن حجر ہیتمی شافعی رحمه الله اپنے فتاوی میں لکھتے ہیں:

وسئل: أمدنا الله من مدده

هل سم الحيات ونحوها نجس؟
فأجاب: أفاض الله علي من فيض مدده

سم الحيات نجس كما صرح به جمع متقدمون ومتأخرون،
واللہ سبحانہ و تعالی أعلم
. (الفتاوى الفقهية الكبرى: ۱/۲۸، دار الفكر).

اسنی المطالب میں مذکور ہے:

وممن صرح بنجاسة سم الحيات العجلي. (أسني المطالب: ۱/۱۷۲، دار الكتاب الإسلامي).

حرمت کے اسباب میں سے ایک سبب زہر بھی ہے چونکہ انسانی جسم کو نقصان دہ ہے اس وجہ سے ممنوع ہے۔
ملاحظہ ہو الانتفاع بالاعیان المحرمۃ میں مذکور ہے:

الأسباب الشرعية العامة في التحريم؛ تختلف الأسباب الكامنة وراء تحريم أي عين من الأعيان وتتعدد بحسب ماهية العين المحرمة، ويمكن إجمال تلك الأسباب بنقاط كما يأتي: أولاً: الأعيان المحرمة بسبب الضرر، كثيرة ولا حصر لها، من ذلك الأعيان السامة سواء أكانت السموم فيها مضرة على الفور كبعض أنواع من العقارب والحيات أم كانت سمومها ملحقة للإنسان بالضرر على المدي الطويل كالدخان. (الانتفاع بالأعيان المحرمة، ص ۲٦، ط: دار النفائس اردن).

بہشتی زیور میں ہے: جاننا چاہیے کہ شریعتِ مطہرہ میں استعمال کے منع ہونے کی وجہیں چار ہیں: ۱۔ نجاست جیسے پیشاب پاخانہ وغیرہ، ۲۔ مضر ہونا جیسے سنکھیا میں اور، ۳ استخباث یعنی طبیعتِ سلیمہ کا اس سے گھن کرنا جیسے کیڑے مکوڑوں میں اور، ٤ نشہ لانا۔ (بہشتی زیور، ص ۹۸، نواں حصہ، ط: دار الاشاعت، کراچی)۔
امداد الفتاوی میں مذکور ہے:
اژدہا سانپ کا پتا (زہرہ) ہمارے یہاں بچوں کو دوا میں بکثرت استعمال کراتے ہیں؛ بلکہ ماں بچہ دونوں کو کھلاتے ہیں، کسی طرح جائز ہو سکتا ہے یا نہیں؟ ہمارے یہاں شاید کہ کوئی ایسا ہو گا کہ اس کو نہ کھایا ہو؟
الجواب: جائز نہیں۔ اس پر محشی مفتی شبیر احمد قاسمی صاحب لکھتے ہیں:
اس لیے کہ ناپاک اور نجس چیز سے دوا کرنا اصل مذہب میں ناجائز ہے اور متاخرین فقہاء نے تداوی بالمحرم کی جو اجازت دی ہے وہ اس شرط کے ساتھ دی ہے کہ جب کوئی ڈاکٹر اس نجس دوا کے فائدہ مند ہونے کو بیان کرے اور کوئی دوسری دوا حلال و پاک اس کے قائم مقام نہ ہو سکے، تو اس نجس دوا کو استعمال کر سکتا ہے اور صورتِ مسئولہ فی السوال سے معلوم ہوتا ہے کہ چاہے ضرورت ہو یا نہ ہو ہر حال میں پتا بچوں اور ماں کو کھلاتے ہیں اور یہ پتا چونکہ ایک نجس و ناپاک چیز ہے؛ کیوں کہ ہر جاندار کے پتا کا وہی حکم ہے جو اس کے پیشاب کا ہے، لہٰذا اس کو بلا ضرورت استعمال کرنا جائز نہیں۔ (امداد الفتاوی مع الحاشیہ: ۹/۲٦٤، ط: زکریا بک ڈپو، انڈیا)۔
ہاں اگر دواؤں میں ڈالنے کی وجہ سے انقلابِ عین ہو جاتا ہے تو اس کے استعمال کی اجازت ہو گی۔ کیوں کہ انقلابِ عین مطہرات میں سے ہے۔ ملاحظہ ہو محقق ابن ہمام رحمه الله فتح القدیر میں فرماتے ہیں:

وكثير من المشايخ اختاروا قول محمد رحمه الله وهو المختار لأن الشرع رتب وصف النجاسة على تلك الحقيقة، وتنتفي الحقيقة بانتفاء بعض أجزاء مفهومها فكيف بالكل؟ فإن الملح غير العظم واللحم، فإذا صار ملحاً ترتب حكم الملح. ونظيره في الشرع: النطفة نجسة وتصير علقة وهي نجسة، وتصير مضغة فتطهر، والعصير طاهر فيصير خمراً فينجس، ويصير خلاً فيطهر، فعرفنا أن استحالة العين تستتبع زوال الوصف المرتب عليها. وعلى قول محمد رحمه الله فرعوا الحكم بطهارة صابون صنع من زيت نجس. (فتح القدير: ۱/۲۰۰، دار الفكر).
قال ابن رشد: إنه قد علم من ضرورة الشرع أن الأحكام المختلفة إنما هي لذوات المختلفة، وأن الخمر غير ذات الخل، والخل بإجماع حلال، فإذا انتقلت ذات خمر إلى ذات الخل، وجب أن يكون حلالاً كيفما انتقل. (بداية المجتهد: ۱/۳٤۹، الأطعمة).

مفتی تقی صاحب فرماتے ہیں:

الخمائر والجلاتين المتخذة من الخنزير: إن كان العنصر المستخلص من الخنزير تستحيل ماهيته بعملة كيمياوية، بحيث تنقلب حقيقته تماماً، زالت حرمته ونجاسته، وإن لم تنقلب حقيقته بقي على حرمته ونجاسته، لأن انقلاب الحقيقة مؤثر في زوال الطهارة والحرمة عند الحنفية. (بحوث في قضايا فقهية معاصرة: ۱/۳٤۱، مكتبة دار العلوم كراتشي).
للمزيد من البحث راجع: (بدائع الصنائع: ۱/۸۵، سعيد، ومجلة المجمع الفقهي الإسلامي، ص ۱۸۹. ۱۹۰، الاستحالة وأحكامها في الفقهي الإسلامي، والموسوعة الفقهية: ۱۰/۲۷۸، والفقه الإسلامي وأدلته: ۱/۱۰۰، دار الفكر،
و جدید فقہی تحقیقات، از اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا مرتبہ: حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمه الله، ط: کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند
).

انقلابِ حقیقت سے متعلق حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی تحریر چشم کشا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
انقلابِ حقیقت سے مراد یہ ہے کہ وہ شے فی نفسہٖ اپنی حقیقت چھوڑ کر کسی دوسری حقیقت میں متبدل ہو جائے جیسے شراب سرکہ ہو جائے یا خون مشک بن جائے یا نطفہ گوشت کا لوتھڑا وغیرہ وغیرہ کہ ان صورتوں میں شراب نے فی نفسہٖ اپنی حقیقتِ خمریہ اور خون نے اپنی حقیقتِ دمویہ اور نطفہ نے اپنی حقیقتِ منویہ چھوڑ دی اور دوسری حقیقتوں میں متبدل ہو گئے حقیقت بدل جانے کا حکم اسی وقت دیا جا سکتا ہے کہ حقیقتِ اولی منقلبہ کے آثارِ مختصہ اس میں باقی نہ رہیں جیسا کہ امثلہ مذکورہ میں پایا جاتا ہے کہ سرکہ بن جانے کے بعد شراب کے آثارِ مختصہ بالکل زائل ہو جاتے ہیں۔
بعض آثار کا زائل ہو جانا یا بوجہ قلت آثار کا محسوس نہ ہونا موجبِ انقلاب نہیں جیسا کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اگر آٹے میں کچھ شراب ملا کر گوندھ لیا جائے اور روٹی پکا لی جائے تو وہ روٹی ناپاک ہے یا گھڑے دو گھڑے پانی میں تولہ دو تولہ شراب یا پیشاب ملا دیا جائے تو وہ پانی ناپاک ہے حالانکہ روٹی یا پانی میں اس قلیل المقدار شراب کا کوئی اثر محسوس نہ ہو گا لیکن چونکہ شراب نے ان صورتوں میں فی نفسہٖ اپنی حقیقت نہیں چھوڑی ہے اس لیے ناپاکی کا حکم باقی ہے اور محسوس نہ ہونا بوجہ قلت اجزاء کے ہے چونکہ شراب کے اجزاء کم تھے اور آٹے کے زیادہ اس لیے وہ روٹی میں محسوس نہیں پس یہ اختلاط ہے نہ کہ انقلاب۔
اسی طرح حقیقتِ منقلبہ کی بعض کیفیات غیر مختصہ کا باقی رہنا مانع انقلاب نہیں جیسے شراب کے سرکہ بن جانے کے بعد بھی اس کی رقت باقی رہتی ہے یا صابون میں قدرے دسومت روغن نجس کی باقی رہتی ہے کیوں کہ رقت حقیقتِ خمریہ کے ساتھ اور دسومت حقیقتِ دہنیہ کے ساتھ مختص نہیں ہے، پس انقلابِ عین کی وجہ سے تبدل احکام کا حکم کرتے وقت بہت غور و احتیاط سے کام لینا ضروری ہے کیوں کہ بسا اوقات انقلاب و اختلاط میں اشتباہ پیش آ جاتا ہے اور انقلاب کو اختلاط یا اختلاط کو انقلاب سمجھ لیا جاتا ہے۔ واللہ الموفق۔ (کفایت المفتی: ۲/۳۳۳، ط: دار الاشاعت، کراچی)۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ رقم طراز ہے:
تبدیل ماہیت کا بیان: تبدیل ماہیت سے احکام بھی بدل جاتے ہیں مثلاً انگور کا پانی پاک ہے لیکن جب کہ وہ ایک دوسری چیز یعنی شراب بن گیا تو وہ نجس ہو گیا اور شراب جب پھر دوسری چیز بن گئی، یعنی سرکہ ہو گئی تو پاک ہو گئی۔ تبدیل ماہیت کے یہ معنی ہیں کہ ایک چیز سے ایسی دوسری چیز بن جائے جس کا حکم شیٔ اول کے بالکل خلاف ہے، مثلاً ناپاک چیز ایک ایسی چیز کی طرف مستحیل ہو گئی کہ وہ چیز پاک ہے تو وہ ناپاک چیز پاک ہو گئی جیسے کھاد ناپاک ہے مگر جب مٹی ہو گیا تو مٹی ایک پاک چیز ہے تو وہ پاک ہو گیا، یا انڈا پاک ہے مگر خون بن گیا اور خون ایک ناپاک چیز ہے تو انڈا ناپاک ہو گیا اور جب اس خون کا مضغہ گوشت بن گیا تو گوشت پاک چیز ہے پھر پاک ہو گیا، اور اگر انقلاب ایسی چیز کی طرف ہوا جس کا حکم ویسا ہی ہے جیسا اس کا قبل انقلاب کے تھا تو وہ ہی حکم رہے گا پاک تھی تو پاک ناپاک تھی تو ناپاک مثلاً پاک ہڈی جل کر راکھ ہو گئی تو انقلاب تو ہوا مگر حکم وہی رہا کیوں کہ راکھ بھی پاک ہے، اور اگر نطفہ خون بن گیا تو انقلاب تو ہوا مگر ناپاک کا ناپاک کی طرف اور حکم بدستور رہا، ہاں جب مضغہ گوشت بن گیا تو پاک ہو گیا کیونکہ مضغہ گوشت پاک ہے اور اگر انقلاب ہی ناتمام ہوا تو یعنی دوسری چیز مغائر شیٔ اول کے نہیں بن گئی صرف ایک گونہ تبدیلی ہو گئی تو احکام نہ بدلیں گے جیسے ناپاک گیہوں کی روٹی پکا لی کہ بجائے گیہوں کی صورت کے روٹی کی صورت پیدا ہو گئی لیکن یہ دوسری چیز بن جانا نہیں سمجھا جاتا۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ص ۷۸۲، ط: دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.