جمعہ کی فجر میں سورۂ روم پڑھنے کا ثبوت:
Question
کیا جمعہ کے دن نمازِ فجر میں سورۂ روم کا پڑھنا کسی حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟
Answer
جمعہ کے دن نمازِ فجر میں سورۂ روم کا پڑھنا بعض روایات سے ثابت ہے، بنا بریں گاہے گاہے پڑھنا مستحب ہے، ہاں بعض روایات میں مطلق نمازِ فجر میں سورۂ روم پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے اس میں جمعہ کی تخصیص نہیں ہے ۔ دونوں قسم کی روایات ملاحظہ کیجیے: مصنف عبد الرزاق میں ہے:
عبد الرزاق عن معمر عن عبد الملك بن عمير أن النبي ﷺ قرأ في الفجر يوم الجمعة بسورة الروم. (مصنف عبد الرزاق: ۲/۱۱۷/۲۷۳۰، باب القراءة في صلاة الصبح).
نسائی شریف کی روایت میں ہے:
عن سفيان عن عبد الملك عن شبيب أبي روح عن رجل من أصحاب النبي ﷺ أنه صلى صلاة الصبح فقرأ الروم والتبس عليه فلما صلى قال: ما بال أقوام يصلون معنا لا يحسنون الطهور فإنما يلبس علينا القرآن أولئك. (سنن النسائي الكبرى: ۱/۳۲۸/۱۰۲۱، القراءة في الصبح بالروم). و(مصنف عبد الرزاق: ۲/۱۱٦/۲۷۲۵).
خلاصہ یہ ہے کہ مصنفِ عبد الرزاق کی مرسل روایت سے جمعہ کی فجر میں سورۂ روم پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے، اور نسائی کی روایت میں جمعہ کی تخصیص نہیں ہے لہٰذا کبھی کبھی جمعہ کی فجر میں سورۂ روم پڑھنا درست ہے، ہاں اس کو سنت نہیں سمجھنا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3314
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3314