بواسیر کے مرض کے سبب جمعہ میں شرکت کا حکم:
Question
ایک آدمی کو بواسیر کی بیماری ہے مقعد کی تکلیف کی وجہ سے اس کے لیے سجدہ اور قعدہ دشوار ہے نیز بعض مرتبہ تکلیف بڑھ جاتی ہے تو رکوع کرنا اور چلنا بھی مشکل ہوتا ہے، ایسا شخص نماز کس طرح پڑھے؟ کیا کھڑے ہو کر یا کروٹ پر لیٹ کر؟ کیا اس کے لیے جماعت میں شرکت کرنا ضروری ہے؟ نیز اس کے حق میں نمازِ جمعہ ساقط ہو گی یا نہیں؟
أفيدونا بالجواب.
Answer
بواسیر کی بیماری کی وجہ سے بیٹھنا اور سجدہ کرنا دشوار ہے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھے، رکوع کرے اور سجدہ اور قعدہ کے لیے اشارہ کرے، یا کروٹ پر لیٹ کر نماز پڑھے اور رکوع، سجدہ اور قعدہ کے لیے اشارہ کرے، ہاں جمعہ اور جماعت میں شرکت ضروری ہے، الا یہ کہ تکلیف بڑھ جائے اور چلنا پھرنا بھی مشکل ہو جائے تو جمعہ و جماعت میں شرکت ضروری نہیں ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: كانت بي بواسير، فسألت النبي ﷺ عن الصلاة، فقال: صل قائماً، فإن لم تستطع فقاعداً، فإن لم تستطع فعلى الجنب. (رواه البخاري، رقم: ۱۱۱۷، باب إذا لم يطق قاعداً صلى على جنب).
ہدایہ میں مرقوم ہے:
فإن لم يستطع القعود استلقى على ظهره وجعل رجليه إلى القبلة وأومأ بالركوع والسجود لقوله ﷺ يصلي المريض قائماً فإن لم يستطع فقاعداً فإن لم يستطع فعلى قفاه يؤمي إيماء فإن لم يستطع فالله تعالى أحق بقبول العذر منه، قال: وإن استلقى على جنبيه ووجهه إلى القبلة فأومأ جاز لما روينا من قبل إلا أن الأولى هي الأولى عندنا. وإن قدر على القيام ولم يقدر على الركوع والسجود لم يلزمه القيام ويصلي قاعداً يومي إيماء. (الهداية: ۱/۱٦۲، ط: شركة علمية).
وفي فتاوى الشامي: وقدرته على المشي، فلا تجب على المقعد وإن وجد حاملاً اتفاقاً خانيه، لأنه غير قادر على السعي أصلاً فلا يجري فيه الخلاف في الأعمى. (فتاوى الشامي: ۲/۱۵٤، سعيد).
وفيه أيضاً: وقال: لم يقدر على الإيماء قاعداً، كما لو كان بحال لو صلى قاعداً يسيل بوله أو جرحه ولو مستلقياً لا، صلى قائماً بركوع وسجود لأن الاستلقاء لا يجوز بلا عذر كالصلاة مع الحدث فيترجح ما فيه الإتيان بالأركان كما في المنية وشرحها. (رد المحتار: ۲/۹٦، سعيد)
فتاوی حقانیہ میں ہے:
سوال: ایسا شخص جو چلنے پر قادر نہ ہو اس کے لیے نمازِ جمعہ کا کیا حکم ہے؟
الجواب: جب کسی قریبی جامع مسجد تک نمازِ جمعہ کے لیے پہنچنے پر قادر نہ ہو تو ایسا شخص دوسرے معذورین کے حکم میں ہو کر نمازِ جمعہ کے وجوب سے مستثنی ہے ۔ (فتاوی حقانیہ: ۳/۳۸٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3320
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3320