مسجد کے چندہ سے مدرسہ کے مدرسین کو تنخواہ دینا:

1 min readFatwa Vol 1 #333Urdu

Question

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ ہمارے ہاں وینڈا میں ہر ایک دکان سے ماہانہ سو رینڈ مسجد کے نام سے جمع کیا جاتا ہے تو کیا اس رقم سے مدرسہ میں پڑھانے والے اساتذہ کو تنخواہ دی جا سکتی ہے؟ شرعی حکم بیان فرما کر رہنمائی فرمائیں؟

Answer

جو رقم مسجد کے لیے جمع کی جاتی ہے اس میں سے مدرسہ کے مدرسین کی تنخواہیں دینا درست نہیں ہے ہاں جن حضرات سے چندہ وصول کیا جاتا ہے ان کے پاس ایک تحریر بھیج دیں کہ آپ کا چندہ مسجد کے علاوہ مدرسہ اور اس کے مدرسین پر بھی خرچ کیا جائے گا ۔ اس پر وہ دستخط کر دیں یا زبانی اُن سے بات کر لی جائے یا مسجد میں اعلان کر دیا جائے پھر اس رقم کو مسجد کے علاوہ مدرسہ میں خرچ کر سکتے ہیں ۔ اگر اب تک بغیر اجازت کے خرچ کیا ہو تو دینے والوں کی اجازت سے وہ خرچ کرنا بھی اللہ تعالی قبول فرما لیں گے ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.