درود شریف کے بعد سجدۂ سہو کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #72Urdu

Question

اگر کوئی شخص وتر میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے اور درود شریف پڑھنے کے بعد سجدۂ سہو کرے تو اس کی نماز صحیح ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

درود شریف پڑھنے کے بعد سجدۂ سہو کرے یا پہلے کرے دونوں صورتوں میں نماز درست ہے، البتہ مختار قول یہ ہے کہ تشہد کے بعد سجدۂ سہو کرے اور بعد میں تشہد، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضی خان میں مرقوم ہے:

وفي الفتاوى الهندية: ويأتي بالصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والدعاء في قعدة السهو هو الصحيح وقيل: يأتي بهما في القعدة الأولى كذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲۵).
ومن عليه السهو يصلي على النبي عليه الصلاة والسلام في القعدة الأولى في قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله وفي قول محمد رحمه الله في القعدة الثانية والأحوط أن يصلي في القعدتين. (فتاوى قاضي خان: ۱/۱۲۱).
وفي الفتاوى الهندية: ويأتي بالصلاة على النبي ﷺ والدعاء في قعدة السهو هو الصحيح وقيل: يأتي بهما في القعدة الأولى كذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲۵).

در مختار میں مذکور ہے:

ويأتي بالصلاة على النبي ﷺ والدعاء في القعود الأخير في المختار، وقيل فيهما احتياطاً. (الدر المختار: ۲/۷۹، سعيد).
وفي الهداية: ويأتي بالصلاة على النبي عليه الصلاة والسلام والدعاء في قعدة السهو هو الصحيح لأن الدعاء موضعه آخر الصلاة. (الهداية: ۱/۱۵۷، ط: مكتبه شركة علمية).

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مرقوم ہے:
اگر درود شریف پڑھنے کے بعد سجدۂ سہو کیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں، سجدۂ سہو کے بعد دوبارہ التحیات پڑھیں اور درود شریف اور دعا پڑھ کر نماز پوری کریں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٤/٦۳) ۔
قاموس الفقہ میں ہے:
قولِ صحیح کے مطابق درود و دعا دوسرے سلام سے پہلے والے قعدہ میں پڑھے گا، صاحب ہدایہ اور علامہ حصکفی رحمه الله وغیرہ نے اسی کو ترجیح دی ہے، امام طحاوی رحمه الله کا خیال ہے کہ دونوں ہی قعدہ میں درود پڑھنا چاہیے ۔ (قاموس الفقہ: ٤/۱۳۳) ۔ (و كذا فی احسن الفتاوی: ٤/٤۱، و کتاب النوازل: ۳/٦۰۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.